سید مجاہد حسین
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس ،کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا آج بدر پور کے راستے سے قومی دارالحکومت دہلی میں داخل ہوئی ۔دہلی میں راہل کی یاترا کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔تاریخی لال قلعہ سے راہل گاندھی نے اپنی جوشیلی تقریر میں مرکزی حکومت کو نشانے پر لیا تو وہیں انہوںنے آر ایس ایس اور بی جے پی پر بھی حملہ بولا۔انہوںنے برسر اقتدار مودی حکومت کو صنعت کاروں کی حکومت بتایانیز حکومت، ٹی وی چینلوں اورمیڈےا پر نفرت پھیلانے کاالزام لگا یا۔راہل گاندھی نے کہا کہ ٹی وی چینلوں پر ہمہ وقت ہندو مسلم ،ہندو مسلم کیا جارہا ہے اور یہ آپکا دھیان بھٹکانے کےلئے کیا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ سچائی ہے ،کہ ملک کے چینل نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اب تک 2800 کلومیٹر کا سفر طے کر کے دہلی پہنچے ہیں لیکن انہیں کہیںبھی نفرت،تشدداور مارپیٹ نہیں دکھائی دی۔لوگ آپس میں محبت کیساتھ رہ رہے ہیں ۔لیکن ان کے چینلوں پر چوبیس گھنٹے یہی دکھایاجاتا ہے،پھیلایاجاتا ہے ۔ راہل نے کہا ”یہ یاترا بھارت کو جوڑنے کےلئے ہے ، اور نفرت کو بھارت سے مٹانے کی ضرورت ہے“ ۔کیونکہ اس نفرت سے ،اس گندگی سے ہمارے پپارے وطن کو نقصان ہورہاہے ،اسی لئے ہم نے تہیہ کیا ہے کہ نفرت کے بازار میں ہم محبت کی دوکان کھولینگے ۔اس یاترا کا مقصد بھارت کو جوڑنا ہے ۔اسی لئے ہم نے یہ یاترا کنیا کماری سے لیکر شری نگر تک شروع کی ہے اور یہ ترنگا ہم شری نگر میں لہرائینگے ۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی پر طنز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی پوری پالیسی خوف پھیلانا ہے تاکہ وہ نفرت پھیلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر میں کوئی گر جائے تو سب مل کر اسے اٹھا لیتے ہیں۔ اب تک تقریباً 3000 کلومیٹر پیدل چل چکا ہوں۔ یہ ایک چھوٹا سا بھارت ہے۔ اس میں ہر مذہب کے لوگ ہیں۔ اس سفر میں امیر غریب، کسان اور مزدور سب چل رہے ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مزید کہا،”آپ نے پوچھا- کیا اس یاترا کے دوران کسی نے مذہب کے بارے میں پوچھا؟‘ امیر اور غریب میں فرق؟ نہیں، اس سفر میں صرف محبت ہے۔ایک گرا تو 5 لوگوں نے مل کر اسے اٹھا لیا۔ یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ یہ ہے اصلی ہندوستان۔ بس کچھ لوگ خوف اور نفرت پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ” بھارت ہزاروں سال سے پیار ،محبت سے مل کر رہا ہے ،یہ اس ملک کی سچائی ہے ،انہوںنے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت میرے سامنے مندر ،مسجد اور گرودوارہ ساتھ ساتھ ہیں ،لیکن ان میں کہیں کوئی نفرت نہیں ،یہ ہزاروں سال سے ہمارے ملک کی ایک سچائی ہے ،کہ یہ ملک پیار سے مل کر رہاہے۔
انہوںنے کہا کہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ میڈیا اور منتخب لوگ نفرت کیوں پھیلاتے ہیں ،کیا کسی نے کبھی ان سے پوچھا کہ کیا ہم محبت کی بات نہیں کرینگے ؟در اصل میں بتاتا ہوں کہ یہ سب آپکا دھیان بھٹکانے کےلئے کیا جاتا ہے“ ۔آپکو پوچھنا چاہئے کہ یہ سب کیوں کیا جارہا ہے ،لیکن کبھی کسی نے چینل والوں سے نہیں پوچھا ہوگا!،انہوں نے روزگارپر بات کرتے ہوئے کہا ،ملک کے غریب کسان اور معمولی درجے کے تاجر ہی ملک کو اصل روزگار دینے والے ہیں ،لیکن ان کےلئے ہی بینک کے دروازے بند ہوتے ہیں ۔جب یہ لوگ بینک جاتے ہیں تو انہیں دھکا دے کر نکال دیا جاتا ہے ۔راہل گاندھی نے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد حکومت کی پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا یہ کہ حکومت کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہتھیار ہے ۔یہ قدم متوسط تاجروں اور کسانوں کو مارنے کے ہتھیار ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کسان اور متوسط طبقے کے تاجر اصل روزگار دےنے والے ہیں ، ان کی جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی ہے ۔اپنی اسپیچ میں راہل گاندھی نے چینی فوج کے بھارت کے علاقوں پر قبضہ پر مودی حکومت کی سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی اور وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھائے ۔انہوںنے کہاکہ سچا مقابلہ دنیا میں چائینا ،بھارت کے درمیان ہے ،چائنا نے دو ہزار اسکوائیر کلومیٹر ہماری زمین لے لی ہے ۔لیکن پی ایم کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی نہیں گھسا ہے، نا تو آیا تھاناہی کوئی گھس آیا ہے۔
غور طلب ہے کہ آج بھارت جوڑو یاترا بدر پور کے راستہ دہلی میں داخل ہوئی ،راجدھانی میں اس یاترا نے 23کلومیٹر کا سفر دو مرحلے میںطے کر کے لال قلعہ پر ختم کیا۔ یاترا کا پہلا پڑاؤ آشرم چوک تھا۔مسٹر گاندھی نے بدر پور میں یاترا کی شروعات کرتے وقت بر سراقتدار بی جے پی کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔راہل گاندھی کی یاترا میں محترمہ سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت دیگر کانگریس کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ فلمی دنیا کے جانے پہچانے چہرہ کمل ہاسن بھی یاترا میں شریک ہوئے ۔راہل گاندھی کی اس یاترا سے دہلی کانگریس کے لیڈروںکے حوصلہ بلندہیں ۔ راہل کی یاترا کنیا کماری سے شروع ہوئی ہے جو ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے شری نگر میں ترنگے کی تقریب کے ساتھ مکمل ہوگی۔












