کب قائم کیا جائے گا ’انڈیا اتحاد ‘ کا دہلی میں سکریٹریٹ ؟
بنگلور میں 18؍جولائی کو میٹنگ ہوئی تھی جس میں کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھڑگے نے اعلان کیا تھا کہ لوک سبھا الیکشن تک کے لیے قائم کیا جائے گا سکریٹریٹ ، 5؍مہینے بعد بھی نہیں قائم ہو سکا سکریٹریٹ ،انڈیا کی اگلی میٹنگ پر بھی خاموشی
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی : عام انتخابات 2024؍کے لیے بی جے پی نے پوری طاقت سے اپنی مہم کا آغاز کر دیا ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹکّر دینے کا خواب دیکھنے والی کانگریس پارٹی کی رفتار کافی سست نظر آ رہی ہے۔ اعلان کے مطابق ’انڈیا اتحاد ‘ کا ابھی تک دہلی میں سکریٹریٹ تک قائم نہیں ہو سکا ۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کا جواب بھی کوئی دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ 18؍جولائی 2023؍کو بنگلور میں جب دوسری اپوزیشن کی میٹنگ منعقد کی گئی تھی تو اس میں کل 26؍اپوزیشن پارٹیوں نے شرکت کی تھی۔ اس میں اپوزیشن کے اتحاد کا نام ’’یوپی اے ‘‘ کی بجائے ’انڈیا ‘‘ یعنی انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسیوالائنس رکھا گیا تھا جس کا اعلان مسٹر کھڑگے نے کیا تھا ۔انھوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلی میٹنگ ممبئی میں ہوگی جس میں بہت کچھ طے کیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اعلان کیا تھا کہ عام انتخابات 2024؍کے لیے انڈیا اتحاد کا ایک الگ سے دہلی میں سکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جو الیکشن تک کام کرے گا ۔ اس کے ساتھ ہی 11؍رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جس کے کنوینر کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ سبھی اراکین الگ الگ پارٹیوں سے شامل کیے جائیں گے ۔ اعلان کے مطا بق 13؍رکنی کوآرڈنیشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن اس کا بھی کوئی پتہ نہیں ہے کیونکہ اگر کوآرڈنیشن ہوتا تو جو گزشتہ دنوں انڈیا اتحاد کی میٹنگ نہیں ہو سکی ایسا نہ ہوتا۔ایسا کیوں ہے ؟ اس کمیٹی کا کنوینر کون ہے ؟خیرانڈیا اتحاد کی اگلی میٹنگ کے بارے میں بھی ابھی تک کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا سماج نے کئی کانگریس کے لیڈران سے رابطہ کیا لیکن بات نہیں ہو سکی جبکہ کانگریس کی قومی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے ہمارا سماج سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ انڈیا اتحاد کا کوئی سکریٹریٹ ابھی تک قائم کیا گیا ہے ۔ جہاں تک کمیٹی کا سوال ہے تو وہ کمیٹی ضرور تشکیل دے دی گئی ہے۔اس میں کئی پارٹیوں کے نمائندگان شامل ہیں ۔کانگریس سے کے سی وینوگوپال ، این سی پی سے شرد پوار ، ڈی ایم کے سے ٹی آر بالو ، شیو سینا سے سنجے راوت ، آر جے ڈی تیجسوی یادو ، جے ڈی یو کے صدر للن سنگھ ، ٹی ایم سی سے ابھشیک بنرجی ، عام آدمی پارٹی سے راگھو چڈھا ، سماجوادی پارٹی سے جاوید علی خان ، جے ایم ایم سے ہیمنت سورین ، نیشنل کانفرنس سے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی شامل ہیں ۔ انڈیا اتحاد کی اگلی میٹنگ کی کیا خبر ہے ؟ اس سوال پر ڈاکٹر شمع محمد نے کہا کہ شاید 26؍دسمبر کو اگلی میٹنگ کا انعقاد کیا جاسکتا ہے ۔ مجھے تو کچھ اسی طرح کی خبر ہے ۔علاوہ ازیں سوال یہ ہے کہ جب عام انتخابات سر پر ہیں تو پھر کانگریس اتنی سست کیوں ہے ؟سیاسی گلیاروں میں چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں کہ جب عام انتخابات بیحد قریب ہے تو پھر انڈیا اتحاد میں اتحاد کو مستحکم کرنے کے لیے کانگریس کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے ؟












