مسلم پولیٹکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہا کیا کانگریس کو اے بی وی پی کا سابق لیڈر ہی وزیر اعلی کے لیے ملا تھا، مسلم وزیر نہ ہونے پر اٹھائے سوال ، سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا جلد مل جائے گا مسلم وزیر ، سماجی کارکن کلیم الحفیظ نے کہا مسلم وزیر کا نہ ہونا تشویشناک
ممتاز عالم رضوی
کانگریس کو فی الحال مسلمانوں کی فکر نہیں
کانگریس اس وقت نظریاتی بحران کا شکار
مسلم کمیونٹی سیاسی غیر دانشمندی کا شکار
وزیر کوئی ہو مسلم کے ساتھ انصاف ہو
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍سے قبل پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں صرف تلنگانہ میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس نے اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے دی ہے لیکن وزیر اعلی کے لیے جس نام کا انتخاب کیا گیا ہے اس پر چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس حکومت میں مسلم وزیر نہ ہونے پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں ۔ مسلم پولیٹکل کونسل آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہا ’’ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت بن گئی ، اے بی وی پی کا سابق لیڈر وزیر اعلی ہے اور سیکولر سرکار کی کابینہ میں کوئی مسلم نہیں ۔ہوتا بھی تو کیا فرق پڑتا ۔مبارک ہو ، بی جے پی نے ہارکر بھی تلنگانہ میں حکومت بنا لی ۔ ‘‘ڈاکٹر رحمانی کے اس ٹوئٹ پر ہمارا سماج نے ان سے بات کی جس میں انھوں نے کہا کہ میں نے جو لکھا ہے وہ سو فیصد سچ ہے ۔ جہاں تک مسلم وزیر کا سوال ہے تو کانگریس کو مسلمانوں کی فکر نہیں ہے کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ مسلمان تو کانگریس کو ووٹ دے ہی دے گا ۔مسلمانوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ در اصل کانگریس نظریاتی بحران کا شکار ہے اور وہ اس وقت حصول اقتدار کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے ،جہاں تک مسلمانوں کا سوال ہے تو جب کانگریس کو مفت کا ووٹ مل رہا ہے تو اس کو ان پر توجہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان بھی بحیثیت کمیونٹی سیاسی غیر دانشمندی کا شکار ہے جس کا فائدہ کانگریس اٹھا رہی ہے ۔ سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ تلنگامہ میں جب کوئی مسلمان جیتا ہی نہیں تو وزیر کس کا بنایا جاتا۔ ساری سیٹوں پر تو اسدالدین اویسی نے قبضہ کر لیا۔ اظہر الدین تک نہیں جیت سکے۔اس کے باوجود خبر آ رہی ہے کہ وہاں کانگریس جلد ہی شبیر شاد کو ایم ایل سی بناکر وزیر بنائے گی ۔انھوں نے کہا کہ اسپیکر طے ہونے کے بعد مسلم وزیر پر کام شروع ہو جائے گا ۔ معروف سماجی کارکن اور اے آئی ایم آئی ایم دہلی کے سابق صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت بننا میل کا پتھر ہے۔ جہاں تک ریونت ریڈی کے وزیر اعلی بننے کا سوال ہے تو وہ تھوڑا تشویشناک ہے لیکن اب وہ اے بی وی پی کے نہیں ہیں بلکہ کانگریسی ہو گئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ خالی پرسنالٹی کااثر نہیں ہوتا بلکہ پارٹی کا بھی اثر ہوتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ لیڈر کوئی بھی ہو بس مسلم مخالف نہ ہو کیونکہ تلنگانہ میں مسلم کی حمایت سے ہی کانگریس کامیاب ہوئی ہے ۔کرناٹک میں بھی اس کو حمایت ملی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی وجہ سے کانگریس کے لیے آندھرا کا بھی دروازہ کھل گیا ہے ۔ آنے والے دنوں میں کانگریس آندھرا میں بھی لیڈ دے سکتی ہے ۔












