• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, اپریل 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ریزرویشن کی آڑ میں خواتین سے فریب کاری

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 23, 2026
0 0
A A
ریزرویشن کی آڑ میں خواتین سے فریب کاری
Share on FacebookShare on Twitter

گذشتہ گیارہ سال میں ملک نے پہلی بار حکومت کو 131 ویں آئینی ترمیمی ( خواتین ریزرویشن ) بل کو ناکام ہوتے دیکھا ۔ یہ حزب اختلاف کے متحد ہونے کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔ حالانکہ ریاستی انتخابات میں اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں ۔ لیکن انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ بل بی جے پی کے وسیع سیاسی منصوبہ کا حصہ ہے ۔ جو اسے ووٹ نہیں دیتے ایس آئی آر کے تحت ان کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ جو ریاستیں بی جے پی کی ہم نوا نہیں یا مخالف ہیں پارلیمنٹ کی سیٹیں بڑھا کر بی جے پی ان کا اثر کم کرنا چاہتی ہے ۔ جن حلقوں سے اسے ووٹ نہیں ملتا نئی حلقہ بندی کے ذریعہ انہیں تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا ( جیسا کہ جموں کشمیر اور آسام میں کیا گیا ہے)جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خواتین ریزرویشن کا سہارا لیا گیا تھا ۔ اگر بل پاس ہو جاتا تو بی جے پی کو لمبے عرصہ تک اقتدار میں بنے رہنے سے کوئی روک نہیں سکتا تھااس کی ناکامی پر بی جے پی اپوزیشن کو خواتین مخالف کہہ کر ریاستی انتخابات خاص طور پر مغربی بنگال میں خواتین کی حمایت حاصل کرنا چاہتی تھی ۔جیسا کہ اس نے بل کی ناکامی کے بعد کیا بھی ۔ اپوزیشن نے بی جے پی کی اس حکمت عملی کو محسوس کیا اور اس کی چال کو ناکام کر دیا ۔ حزب اختلاف نے یہ واضح کر دیا کہ وہ خواتین کا حق دلانا چاہتی ہے جس کی شروعات 543 سیٹوں سے ہونی چاہئے ۔ 2023 میں اس نے اتفاق رائے سے اس بل کو پاس کرایا تھا لیکن بی جے پی نے مردم شماری اور انتخابی حلقوں کی نئی حلقہ بندی کی شرط لگا کر اس پر عمل درآمد نہیں کیا ۔
مدھیہ پردیش ، مہاراشٹر اور بہار کے انتخابات میں خواتین ووٹروں کے اہم کردار کے پیش نظر یہ سیاسی تیر ’’ناری شکتی‘‘ (خواتین کی طاقت) کا فائدہ اٹھانے کے لیے چلایا گیا۔ کیونکہ پارلیمنٹ میں جب مباحث ہوتے ہیں تو وہ دیہات تک سنے جاتے ہیں۔ جتنا زیادہ شور و غل ہوگا، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ مقصد صرف ماحول بنانا اور ایک بیانیہ تیار کرنا تھا۔ اپوزیشن کی دلچسپی خواتین کے ریزرویشن میں تو تھی لیکن بی جے پی کے منصوبہ کی کامیابی میں نہیں تھی۔ اس سے زیادہ ان کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ ممکن ہے اس کے منفی اثرات بھی ہوں ، جو پوری سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
کیا خواتین کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے؟ یہ ایک الگ سوال ہے کہ اس بل کی ناکامی سے بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات میں فائدہ ہوگا یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے ملک کی سیاست نے ’’ناری شکتی‘‘ کو دھوکہ دیا ہے، اور اب انہیں زیادہ دیر تک دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ خواتین کی سیاسی خواہشات اب اس سستی حالت میں نہیں ہیں جیسی کہ نوّے کی دہائی میں تھیں۔ واضح ہے کہ یہ بل محض ایک سیاسی سرگرمی تھا۔ جس طرح بل کے گرنے کے فوراً بعد پوسٹر چھپ گئے اور قومی سطح پر تحریک کی منصوبہ بندی ہو گئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی اس کی تیاری کے ساتھ آئی تھی۔
سب سے پہلے ایچ ڈی دیوے گوڑا کی حکومت نے 12 ستمبر 1996 کو 81ویں آئینی ترمیمی بل کے طور پر خواتین ریزرویشن بل پیش کیا تھا۔ بل پیش تو ہوا، لیکن سیاسی اتفاقِ رائے نہ بننے اور اتحادی حکومت کے اندر اختلافات کی وجہ سے اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا، اور 11ویں لوک سبھا کے تحلیل ہونے کے ساتھ ہی یہ ختم ہو گیا۔ اگر ملک کی سیاست چاہتی تو دیوے گوڑا کا بل ہی پاس ہو جاتا۔
اس بار حکومت نے جو بل پیش کیا، وہ پارلیمانی نشستوں کی حلقہ بندی پر مرکوز تھا۔ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حلقہ بندی ملک کو تقسیم کر دے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ 2023 کے بل کو نافذ کیا جائے۔ 2023 کے خواتین ریزرویشن قانون (ناری شکتی وندن ایکٹ) کی موجودہ شقوں کے مطابق اسے حلقہ بندی کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی نے جان بوجھ کر اس میں یہ شرط لگائی تھی تاکہ خواتین کو اس کے فائدہ نہ مل سکے ۔ کیونکہ بی جے پی مردوں کی بالادستی والی پارٹی ہے ۔ یہ قانون خاص طور پر مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد ہی نافذ ہونے کی شرط سے بندھا ہوا ہے۔ اگر حلقہ بندی رکے گی تو ریزرویشن بھی رک جائے گا۔
حکومت 2023 کے بل کی گزٹ نوٹیفکیشن ڈھائی برس تک جاری نہیں کر سکی اسے نیا بل لانے سے ٹھیک پہلے جاری کیا گیا ہے ۔جبکہ کشمیر، طلاق ثلاثہ اور وقف بل کو منظوری کے بعد راتوں رات گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا ۔ اگر خواتین ریزرویشن بل کی کارروائی صحیح طریقے سے بھی چلتی رہی تو 2034 کے انتخابات سے پہلے ریزرویشن نافذ نہیں ہو سکے گا، بلکہ ممکن ہے کہ 2039 میں نافذ ہو۔ کیا خواتین اتنا طویل انتظار کریں گی؟ درحقیقت مردوں کی زیرِ قیادت سیاست یہ دیکھنے سے قاصر ہے کہ خواتین آہستہ آہستہ ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ ابھی تک یہ طاقت ووٹر کی شکل میں ہے، لیکن جلد ہی قیادت کی سطح پر بھی نظر آئے گی۔
جب 2023 کا بل پاس ہو رہا تھا تو اس پر زبردست اتفاقِ رائے تھا، لیکن وہ بھی محض سیاسی فائدہ اٹھانے تک محدود تھا۔ اس وقت بھی سوال تھا کہ اسے فوری طور پر نافذ کرنے سے روکا کس نے؟ کانگریس کے ملیکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ جب حکومت نوٹ بندی جیسے فیصلے فوراً نافذ کر سکتی ہے تو اتنے اہم بل کو یاد کرنے میں ساڑھے نو سال کیوں لگے؟ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت بھی اس بل کو پاس نہیں کرا سکی تھی ۔ کانگریس کی راجیو گاندھی حکومت نے کم از کم پنچایتوں اور بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے لئے ریزرویشن نافذ کیا تھا۔
حزب اختلاف ایسے بل کی حمایت کے لئے تیار ہے جو موجودہ 543 نشستوں والی پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فوراً نافذ کرے۔ حکومت کو اس پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہئے ۔ مگر اسے تو اپوزیشن کو کٹگھرے میں کھڑا کرنے سے فرست نہیں ہے ۔ مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد او بی سی اور اقلیت کی خواتین کے ریزرویشن کا سوال بھی اٹھے گا ۔ جس کا اشارہ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران مل چکا ہے ۔ اس وقت سرکاری نوکریوں، یونیورسٹی کالجوں کی ملازمتوں اور سیاست پر اعلیٰ ذاتوں کا قبضہ ہے ۔
موجودہ صورتحال میں کوئی بھی رکن اس تجویز کو قبول کرنے کی حالت میں نہیں ہے ۔ کیونکہ لوک سبھا میں تقریباً 86 فیصد اور ریاستی اسمبلیوں میں تقریباً 90 فیصد مرد ہیں ۔ اگر اسی بنیاد پر ریزرویشن نافذ کیا گیا تو بڑی تعداد میں مرد سیاستدانوں کی نشستیں ختم ہو جائیں گی۔ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کا حلقہ ریزرویشن کے دائرے میں آ جائے۔ ایک ایک حلقہ بنانے میں برسوں کی محنت اور لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب قابلِ قبول ہوتا تو 1996 سے اب تک یہ معاملہ کیوں رکا رہتا؟
بہر حال، مردوں کی اس سیاست کو خواتین کی بڑھتی ہوئی طاقت ہی چیلنج کرے گی۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ خواتین کی کوئی سیاسی آواز نہیں ہوتی، لیکن اب ووٹر کے طور پر ان کی آواز تسلیم کی جا چکی ہے۔ کون سی ریاست ہے جہاں سیاسی پارٹیاں خواتین کو لبھانے کے لیے پروگرام نہیں لا رہیں؟دوسری طرف، سیاسی کارکنوں کے طور پر بھی خواتین کے درمیان ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ اس کی شروعات مقامی اداروں یعنی پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں کم از کم 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے سے ہوئی، جو 1993 کی 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم کے تحت ممکن ہوا۔ اس ریزرویشن کو بہار، اتراکھنڈ، مہاراشٹر سمیت 20 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔

نچلی سطح پر اب تقریباً ساڑھے چودہ لاکھ سے زیادہ خواتین عوامی نمائندوں کے طور پر کام کر رہی ہیں، جو کل اراکین کا تقریباً 46 فیصد ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسی خواتین کی ہے جو نہ صرف فعال ہیں بلکہ اپنی صلاحیت بھی ثابت کر رہی ہیں۔ وہیں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں یہ شرح بہت کم ہے۔ 18ویں لوک سبھا میں 543 میں سے 75 خواتین ارکان (تقریباً 14 فیصد) ہیں جو 2024 کے انتخابات میں کامیاب ہوئیں۔ راجیہ سبھا میں تقریباً 39 (17 فیصد) خواتین ارکان ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 4,666 ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں صرف 464 یعنی 10 فیصد خواتین ہیں۔ اس عدم توازن کو اب خود خواتین ہی آگے بڑھ کر ختم کریں گی بس انہیں موقع ملنے کا انتظار ہے ۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    اپریل 24, 2026
    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری  محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    اپریل 24, 2026
    مضبوط، خود مختار اور مربوط خلائی صلاحیت وقت کی ضرورت

    مضبوط، خود مختار اور مربوط خلائی صلاحیت وقت کی ضرورت

    اپریل 24, 2026
    صحت مند ہریانہ،ایک کروڑ سے زیادہ اسکریننگ

    صحت مند ہریانہ،ایک کروڑ سے زیادہ اسکریننگ

    اپریل 24, 2026
    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    اپریل 24, 2026
    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری  محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    اپریل 24, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist