قومی خبریں

آر ایس ایس کا ‘راشٹر وندنم’ پروگرام 29 نومبر کو دہلی میں، تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت بھی شرکت کریں گے

نئی دہلی، 28 اکتوبر (یواین آئی) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) عوامی رابطہ مہم کے تحت قومی راجدھانی میں 29 نومبر کو ‘راشٹر وندنم’ کے نام سے ایک عوامی رابطہ پروگرام منعقد کرے گا، جس میں تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت بھی شرکت کریں گے۔آر ایس ایس کے دہلی پرانت کے کاریہ واہ انل گپتا نے بدھ کے روز بتایا کہ یہ پروگرام دہلی کے روہنی سیکٹر 23 میں واقع ‘سمرستا استھل’ پر منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے مقام پر 24 نومبر سے تیاریاں شروع ہو جائیں گی اور انتظامات میں تقریباً 5,000 رضاکار مصروف رہیں گے۔اس پروگرام میں ریٹائرڈ نوکرشاہوں، کھلاڑیوں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو خصوصی طور پر مدعو کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کے لیے خصوصی کیو آر کوڈ جاری کیے جائیں گے، جن کے ذریعے انہیں پروگرام کے مقام میں داخلہ ملے گا۔ ان کے مطابق، یہ انتظام پروگرام کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔مسٹر گپتا نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر کرتویہ پتھ پر منعقد ہونے والی پریڈ کی طرز پر ‘راشٹر وندنم’ میں سنگھ کا روایتی بینڈ ‘جے گھوش’ بھی اپنی پیش کش دے گا، جس میں تقریباً 2,000 رضاکار اپنی ‘گن ویش’ وردی میں شرکت کریں گے۔ ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے سماجی اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔پروگرام کے دوران ‘نشہ مکت’ مہم بھی شروع کی جائے گی، جس کا مقصد منشیات کے غلط استعمال کے خلاف بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، سنگھ اس وقت شجرکاری مہم بھی چلا رہا ہے، جس کے تحت 50,000 پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر گپتا نے بتایا کہ اب تک 30,000 پودے لگائے جا چکے ہیں، جن کی اوسط اونچائی تقریباً چھ فٹ ہے، تاکہ ان کے زندہ رہنے کی شرح 80 سے 90 فیصد تک برقرار رہ سکے۔دریں اثنا، آر ایس ایس کی آل انڈیا ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ 2 سے 4 نومبر تک مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں منعقد ہونے والی ہے۔ اس میٹنگ میں مسٹر بھاگوت اور آر ایس ایس کے سرکاریہ واہ دتاتریہ ہوسبلے سمیت تنظیم کے سینئر عہدیداران شرکت کریں گے۔ میٹنگ میں آر ایس ایس کے صد سالہ تقریبات سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، موجودہ قومی اور بین الاقوامی مسائل، سماجی چیلنجوں اور جغرافیائی سیاسی صورت حال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوگا۔