ہندوستان اور جنوبی کوریا کی شراکت داری سے توتوکڈی میں چار ارب ڈالر کی لاگت سے گرین فیلڈ شپ یارڈ قائم ہوگا
نئی دہلی، 28 اکتوبر (یواین آئی) بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر سربانند سونووال نے کہا ہے کہ تمل ناڈو کے توتوکڈی میں مجوزہ گرین فیلڈ شپ یارڈ، ہندوستان اور جنوبی کوریا کی خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم منصوبہ ہوگا، جس میں چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیے جانے کی توقع ہے۔مسٹر سونووال نے بدھ کے روز جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایچ ڈی ہنڈائی کے چیئرمین چنگ کی سون سے ملاقات کرکے منصوبے کی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔ ایچ ڈی کوریا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انجینئرنگ نے اہم اسٹریٹجک سرمایہ کار کے طور پر اس منصوبے میں حصہ لینے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا اور دونوں فریق چھ ماہ کے اندر مشترکہ منصوبے کی ساخت اور تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کو حتمی شکل دینے کی سمت میں کام کریں گے۔مجوزہ شپ یارڈ میں سالانہ تقریباً 25 لاکھ ٹن کے جہاز تیار کرنے کی صلاحیت ہونے کا اندازہ ہے، تاہم اس کی تصدیق تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کے شروع ہونے کے بعد یہ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شپ یارڈ بننے کی توقع ہے۔ اس منصوبے میں جہازوں کے ڈیزائن، تعمیر، جدید مینوفیکچرنگ اور آپریشن کے شعبوں میں جنوبی کوریا کی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔مسٹر سونووال نے کہا کہ ہندوستان کے سرکاری ادارے آنے والے برسوں میں 400 سے زیادہ جہاز خریدنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور توتوکڈی کا شپ یارڈ ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہندوستانی صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون اور افرادی قوت کی ہنرمندی کو فروغ دینے پر زور دیا جائے گا، تاکہ ہندوستان کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیت مضبوط ہو اور ہنرمند روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔
