این سی ایل ٹی اوراین سی ایل اے ٹی میں بنیادی سہولیات کی کمی پر سپریم کورٹ کو شدید تشویش
نئی دہلی : نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) اور نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل (این سی ایل اے ٹی) میں بنیادی سہولیات کی کمی پر سپریم کورٹ نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے دونوں ٹریبونلز کے سربراہان سے عمارتوں، زمین، بنیادی ڈھانچے اور عملے کی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی تجویز طلب کی ہے۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ ضروری معلومات 4 ہفتوں کے اندر اس کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔سماعت کے دوران سینئر وکیل سنجیو سین نے این سی ایل ٹی کی مرکزی بنچ میں بنیادی ڈھانچے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بنیادی ڈھانچہ خستہ حالی کا شکار ہے، 2 منزلیں بند ہیں اور عدالتیں اپنی نصف صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس سے ٹریبونل کے روزمرہ کے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے۔
سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی کے سربراہان ہی اپنے اداروں کی ضروریات کا بہترین اندازہ لگا سکتے ہیں، اس لیے دونوں سے ایسی جامع تجویز تیار کرنے کو کہا گیا ہے جس میں ٹریبونلز کے ہموار اور مؤثر کام کاج کے لیے درکار وسائل کی تفصیلات ہوں۔ سپریم کورٹ نے این سی ایل ٹی سے اس بات پر بھی غور کرنے کو کہا کہ ہر بنچ میں عدالتی ریکارڈ کی دیکھ بھال کے لیے ڈپٹی رجسٹرار یا جوائنٹ رجسٹرار کی سطح کے افسر کی تقرری کتنی مفید ہوگی۔
