قومی خبریں

بولنا تو پڑیگا: طلبا یونین سے ارباب اقتدار کو ڈر کیوں لگتا ہے؟

شعیب رضا فاطمی
9968778671
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد میں تحریک عدم اعتماد اور عدم تشدد کے گاندھیائی فلسفہ کو اینٹ کی جگہ چنا گیا ہے۔  یہ ادارہ جوہر اور گاندھی کے فلسفیانہ افکار کی توسیع بھی کرتا ہے اور موجودہ حکومت کی ریشہ دوانیوں کا زندہ ثبوت بھی ہے ۔وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خلاف توقع نہیں ،بلکہ  بی جے پی اور آر ایس ایس کے مشن کا حصہ ہے ۔اور ایسے وقت میں جب بھارت کے جمہوری کردار کو ہی ختم کیا جارہا ہے تو پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ اس آگ سے کیسے محفوظ رہ  سکتا ہے ۔جامعہ میں جو کچھ  طلبا کے ساتھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے بھی ہماری آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں تو پھر ہمیں خود سوچنا ہوگا کہ ہم تاریخ کے اس اہم موڑ پر کس جانب کھڑے ہیں ؟آج اس اسٹوری میں ملک کے معروف اسکالرس جامعہ کے تئیں  اپنے دلی جذبات بیان کر رہے ہیں ،جس سے مداحان جامعہ ملیہ اسلامیہ بیدار ہوں اور یونین بحالی کے لئے تحریک چلانے والے طلبا کو حوصلہ ملے ۔ ہم آپ کی رائے بھی شامل کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں
جامعہ ملیہ اسلامیہ کوئی معمولی تعلیمی ادارہ نہیں ہے ۔ ٹیگور کے شانتی نکیتن کی طرح یہ بہت خاص ادارہ ہے جس کی سنگ بنیاد انگریزی سامراج سے بیزاری اور تعلیمی میدان میں خود مختاری پر رکھی گئی تھی ۔ اس دور کے عظیم ترین عالم اور مجاہد آزادی اسیر مالٹا مولانا محمود حسن نے بیماری کی حالت میں بستر پر آکر اس کی سنگ بنیاد رکھی تھی ۔ حب الوطنی اور روشن خیالی اس کے خمیر میں ہے ۔ اس نے پہلے دن سے فیصلہ کیا کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہیےاور اس وجہ سے اردو کو نچلے مراحل میں ذریعہ تعلیم بنایا گیا ۔ مولانا محمد علی جوہر ، مسیح الملک حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر ذاکرحسین جیسے لوگوں نے قوم کی مدد سے اس کا بار اٹھایا ۔ دھیرے دھیر اس نے ایک الگ ممتاز تعلیمی ادارے کے طور پر اپنی پہچان بنالی ۔ یہ ادارہ اپنے بل بوتے پر ترقی کرتا رہا ۔ حالات سخت تھے لیکن طلبہ اور اساتذہ سب کی ہمتیں جوان تھیں۔ ۱۹۸۸ء میں مرکزی حکومت نے اس پر قبضہ کرکے اسے سنٹرل یونیورسٹی بنادیا۔ جامعہ کا اسٹاف بڑا خوش ہوا کہ اب انہیں بہتر تنخواہیں اور سہولتیں ملیں گی لیکن وہیں سے اس کا زوال شروع ہوا ۔ اس عرصے میں اسے پروفیسر مشیرالحسن جیسے عظیم اسکالر بھی وائس چانسلر کی صورت میں ملے جس سے اس کا وقار دوبالا ہوا لیکن وہ وقتی تھا کیوں کہ اب حکومت اپنے پسندیدہ لوگوں کو وائس چانسلر (شیخ الجامعہ) اور دوسرے اہم عہدوں جیسے رجسٹرار اپنے پسندیدہ لوگوں کو بنانے لگے ۔ موجودہ مرکزی سرکار کے آنے کے بعد یہ سلسلہ اور بھی خراب ہوگیا اور اب یہ مشہور ہے کہ یہاں تمام اہم پوسٹیں آر ایس ایس کے اندریش کمار کی مرضی سے بھری جاتی ہیں ۔ ایک وائس چانسلر صاحبہ چارج لینے سے پہلے صبح صبح اندریش کمار کی آشیرواد لینے گئیں اور اس تصویر کو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا ۔ دسمبر ۲۰۱۹ء میں جامعہ پر پولیس کی یلغار کے خلاف جامعہ کے ذمے داران بالکل خاموش رہے ۔ آر ایس ایس کے ایک اہم کارکن کو جامعہ کی گورننگ کاؤنسل کا ممبر بھی بنادیا گیا اور جامعہ برادری خاموش رہی ۔ اردو کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا گیا۔ بورڈ اور مہریں اب ہندی میں بنتی ہیں ۔ طلبہ یونین کو بیس سال سے بننے نہیں دیا جارہا ہے جبکہ یونین، طلبہ کی تربیت کا ایک حصہ ہے ۔ تدریسی مواد میں دخل اندازی کی جارہی ہے اور اب جامعہ ملیہ کو ایک جیل بنادیا گیا ہے جب کہ وہ ایک کھلے ہوئے چمن کی طرح وجود میں آیا تھا جہاں دنیا کی علم و معرفت اور آزاد سوچ کی کرنیں ضیا پاشی کرتی تھیں۔ یقینی طور پر جامعہ ملیہ کا ایک آزاد اور روشن خیال تعلیمی ادارے کے طور پر وجود آج خطرے میں ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرح ہم کو اسے بھی ملک و ملت کا ایک اہم مسئلہ بنالینا چاہیے ۔
اے یو آصف
پتہ نہیں طلبہ یونین سے ارباب اقتدار کو ڈر کیوں لگتا ہے؟کیا وہ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ  طلبہ یونین مختلف ادوار میں نئی نسل کی تربیت گاہ بنی ہیں اور انہوں نے ہر زمانہ میں ایسے ایسے لعل و گوہر دئے ہیں جنہوں نے ملک کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ معروف فلمی شخصیت نصیر الدین شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی از سر نو بحالی کے تعلق سے طلبا و طالبات پر کی جانے والی سختی پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔اگر طلبا یونین کا وجود کسی تعلیم گاہ میں نہ ہو تو  ملک کو مختلف شعبوں میں اچھے رہنما ملنے بند ہو جائیں گے۔ ماہر اقبالیات حسنین سید جامعی 1938_1939میں جامعہ طلبا یونین کے صدر تھے ۔اور جب 21 اپریل 1938 کو علامہ اقبال کی وفات ہوئی تو بحیثیت صدر  اسی روز تعزیتی میٹنگ منعقد کی جس میں گاندھی جی ،ذاکر راجندر پرساد،راجندر ناتھ ٹیگور جیسی شخصیات نے شرکت کی اور پھر طلبا یونین کے ترجمان “جوہر”کا اقبال اسپیشل نمبر شائع کیا ،جسے مطالعہ اقبال میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔ان کے بعد طلبا یونین کے دوسرے صدر اخلاق الرحمان قدوائی ہوئے ۔جنہوں نے یو پی ایس سی کی سربراہی کی اور متعد ریاستوں میں گورنری کی ۔قابل ذکر ہے کہ معروف طلبا ، رہنماؤں میں رمیز چند ٹونگر 1978،زبیر خاں ،بدر قریشی،1992،کمال اختر 1994،نعیم الحسن 1995،شمس پرویز ، محمد فہیم حیدر خاں ،امداداللہ جوہر ظل سبحانی وغیرہ نے بھی طلبا یونین کی متعدد ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر دہلی اور دہلی سے باہر نامور حاصل کی ہے ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کے نشو نما کے لئے یونین کی از سر نو بحالی کی جائے تاکہ ان کے اندر موجود جمہوری قدروں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم ہو سکے ۔طلبا یونین سے خوفزدہ جمہوریت دشمن ہو سکتے ہیں جمہوریت پسند کبھی نہیں ۔
ایڈووکیٹ زیڈ کے فیضان
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی یونین بحالی کی مانگ کو سو فیصد جایز ٹھہراتے ہوئے کیمپس کے موجودہ حالات کے لئے واءس چانسلر کو ذمہ دار ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ یہ سارا کھیل بی جے پی کے اشارے پر ہو رہا ہے ۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں یہ کسی سے چھپا نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ طلباء کی مانگ بالکل صحیح ہے اور واءس چانسلر کو اسے فوراً مان لینا چاہیے تھا مگر وہ جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک تسلیم شدہ اقلیتی ادارہ ہے اور ہمیں اسے بچانے کے لیے طلباء کا بھر پور ساتھ دینا چاہیے ۔ انھوں نے کہا جامعہ ایڈمنسٹریشن پولیس کی مدد لے کر جو ننگا ناچ کر رہا ہے وہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے ۔ احتجاج کر رہے طلباء تک کھانا اور حتیٰ کہ پانی لے جانے پر روک لگانا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے ۔ میں طلباء سے کہوں گا کہ وہ یونین بحالی کے مطالبے کو لے کر اپنی جد وجہد جاری رکھیں، انشاءاللہ کامیاب ہوں گے اور واءس چانسلر کو متنبہ کرنا چاہوں گا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ طلباء کا مطالبہ ان کے استعفیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور یہی سرکار جس کے اشارے پر وہ کام کر رہے ہیں ان کی مدد نہ کر سکے گی ۔ زیڈ کے فیضان نے مزید کہا کہ واءس چانسلر کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کسی تعلیمی ادارے کا نظام لاٹھی، ڈنڈوں اور گولیوں سے نہ کبھی چلا ہے اور نہ ہی چلے گا ۔