قومی خبریں

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے 15 مئی 2027 تک آئین منظور کرنے کا حکم

نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار دفتر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کے آئین کو 15 مئی 2027 تک منظوری دینے اور نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف جاری کیے گئے تمام شوکاز نوٹس، تادیبی کارروائیوں، اخراج، معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی کے احکامات واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، 29 اکتوبر 2026 کو جاری اس حکم پر جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے دستخط ہیں۔ حکم نامے کے مطابق یہ فیصلہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ اور ان کے نمائندوں کی جانب سے 29 اکتوبر کو پیش کی گئی درخواست پر غور کرنے کے بعد مجاز اتھارٹی نے کیا ہے۔حکم نامے میں طلبہ یونین کے آئین، انتخابات اور احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں سے متعلق تین اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ رجسٹرار دفتر کے حکم کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کے آئین کو منظوری دینے اور اسے نافذ کرنے کا عمل 15 مئی 2027 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ طلبہ یونین کے قیام اور اس کے انتخابی عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ یونین کے آئین کو منظوری ملنے کے بعد جامعہ انتظامیہ انتخابات کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ انتخابی عمل لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور رہنما اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ حکم نامے کے مطابق انتخابات تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر کرائے جائیں گے۔ اس میں تعلیمی سیشن کے آغاز کے لیے 16 جولائی 2027 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تقریباً چھ ہفتوں کے اندر انتخابات کرانے کی بات کہی گئی ہے۔رجسٹرار دفتر کی جانب سے جاری حکم نامے میں احتجاج میں شرکت کے سلسلے میں طلبہ کو بھیجے گئے تمام شوکاز نوٹس واپس لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائیوں، جامعہ سے اخراج، معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی سے متعلق احکامات بھی منسوخ کیے جائیں گے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان فیصلوں کے پیش نظر احتجاج کرنے والے طلبہ فوری طور پر اپنا احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ جامعہ انتظامیہ کے اس حکم سے طلبہ یونین کے آئین اور انتخابات کے معاملے پر جاری تعطل دور ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم انتخابات کا انعقاد آئین کی منظوری، نوٹیفکیشن کے اجرا اور مقررہ انتخابی ضابطوں کے مطابق کارروائی مکمل ہونے سے مشروط ہوگا۔