دہلی شہر

دہلی میں بچہ مزدوری کے خلاف بڑی کارروائی، 19 بچے آزاد، 9 فیکٹری مالکان گرفتار

نئی دہلی (یواین آئی) دہلی میں بچوں سے مزدوری کرانے کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مشرقی دہلی ضلع کے گاندھی نگر علاقے میں سلائی کڑھائی اور مصنوعی زیورات بنانے والی فیکٹریوں سے جمعرات کو 19 بچوں کو چائلڈ لیبر سے آزاد کرایا گیا۔ان بچوں کی عمریں 10 سے 17 سال کے درمیان ہیں، جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے۔ انہیں بہلا پھسلا کر اتر پردیش اور بہار سے دہلی لایا گیا تھا اور وہ یہاں کئی ماہ سے کام کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران 9 فیکٹریوں کو سیل کر دیا گیا اور ان کے مالکان کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ کارروائی ایسوسی ایشن فار والنٹری ایکشن سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم، تحصیل دار، محکمہ محنت، دہلی پولیس، ایسوسی ایشن فار والنٹری ایکشن، بال وکاس دھارا اور بیسک فاؤنڈیشن کی مشترکہ ٹیم نے مختلف فیکٹریوں میں پہنچ کر بچوں کو آزاد کرایا۔ ایسوسی ایشن فار والنٹری ایکشن، بال وکاس دھارا اور بیسک فاؤنڈیشن، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی شہری سماجی تنظیموں کے ملک کے سب سے بڑے نیٹ ورک ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ (جے آر سی) کی معاون تنظیمیں ہیں۔ جے آر سی ملک کے تمام 782 اضلاع میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر کام کرتا ہے۔جے آر سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، آزاد کرائے گئے زیادہ تر بچے سلائی کڑھائی کی فیکٹریوں میں کام کرتے تھے، جبکہ 4 بچے مصنوعی زیورات کی پیکنگ کے کام میں لگے ہوئے تھے۔ آزاد کرائے گئے 5 بچوں کی عمر 14 سال سے کم ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ بچے گزشتہ تقریباً 8 ماہ سے ان فیکٹریوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے 2 بچے دن بھر کام کرنے کے بعد رات کو فیکٹری میں ہی سو جاتے تھے اور صبح دوبارہ کام میں لگ جاتے تھے۔ ان بچوں کو محنت کے بدلے ہفتے میں محض 10، 50 اور 200 روپے دیے جاتے تھے۔ سب سے چھوٹے بچے کی عمر 10 سال ہے، جسے روزانہ صرف 10 روپے ملتے تھے۔ وہ ان پیسوں سے نمکین اور چاکلیٹ خرید کر کھا لیتا تھا۔ایسوسی ایشن فار والنٹری ایکشن کے قومی کنوینر دھننجے ٹنگل نے کہا، ”ان بچوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں گھر سے دور لایا گیا اور ان سے ان کا بچپن چھین لیا گیا۔ جس عمر میں ان کے ہاتھوں میں کتابیں اور کھلونے ہونے چاہئیں، اس عمر میں یہ بچے سوئی دھاگے اور مشینوں کے درمیان اپنا بچپن کھو رہے تھے۔ اب ان بچوں کو تحفظ، تعلیم اور عزت کے ساتھ دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کا انتظام کیا جائے، ساتھ ہی استحصال کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بچاؤ کے بعد تمام بچوں کا ابتدائی طبی معائنہ کرایا گیا۔ بعد ازاں انہیں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی ہدایت کے مطابق بچوں کے نگہداشت مرکز بھیج دیا گیا، جہاں ان کی دیکھ بھال، تحفظ اور بازآبادکاری کا انتظام کیا جائے گا۔ اس معاملے میں گاندھی نگر تھانے میں نوعمر انصاف (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 2015، چائلڈ لیبر (ممانعت اور ضابطہ بندی) ایکٹ 1986 اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔