اقتدار کا نشہ اور جمہوری نظام کا حشر
کہا جاتا ہے کہ اقتدار کا نشہ دھتورے کے نشہ سے بھی مہلک ہوتا ہے۔ اس نشہ کی سب سے خطرناک علامت یہ ہے کہ انسان اپنے علاوہ سب کو بے وقوف سمجھنے لگتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس وقت جو لوگ اس کے آس پاس ہوتے ہیں اور جن پر بطور خاص اس کی عنایتیں ہوتی ہیں، وہ اس کی کرسی کے ہلتے ہوئے پائے کو بھی جھولا قرار دیتے ہیں۔
دہلی میں حزب اختلاف کی حالیہ ریلی کو اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ محض چند سیاسی جماعتوں کا اجتماع نہیں ہے ، بلکہ اس خاموش اطمینان کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش بھی ہے جو اکثر اقتدار کے ایوانوں میں رفتہ رفتہ یقین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جب دربار میں ہر آواز قصیدہ بن جائے، ہر مشورہ تائید میں ڈھل جائے اور ہر اختلاف کو سازش سمجھا جانے لگے تو پھر باہر کی دنیا کی آوازیں سنائی دینا بند ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں کوئی بڑا مجمع بھی محض بھیڑ دکھائی دیتا ہے اور کوئی سنجیدہ سوال بھی شور شرابہ۔
مگرتاریخ کا سبق کچھ اور ہے۔ تخت و تاج ہمیشہ اپنے وزن سے نہیں گرتے، اکثر ان کے نیچے سے زمین سرک جاتی ہے اور محل والوں کو خبر تک نہیں ہوتی۔ بادشاہوں کے دربار میں خوشامدیوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو ڈوبتی کشتی کو بھی ساحل پر کھڑا جہاز بتاتے رہے۔ لیکن وقت کا مزاج بدلتے دیر نہیں لگتی۔ جو آوازیں کل تک دیوار سے ٹکرا کر واپس آ جاتی تھیں، وہی کبھی ایوانوں کی بنیادوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ یہاں کسی کی کرسی موروثی نہیں ہوتی اور نہ کسی کی مقبولیت دائمی۔ عوام کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا اور اختلاف کو بے وقوفی قرار دینا سیاسی بصیرت نہیں، خود فریبی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ریلیوں کے مجمع سے نہ حکومتیں بنتی ہیں اور نہ گرتی ہیں، لیکن بعض اجتماعات آنے والے وقت کے سوالات ضرور مرتب کر دیتے ہیں۔ ان کا اصل وزن نعروں کی بلندی سے نہیں، ان کے پیچھے موجود بے چینی، مطالبات اور عوامی اعتماد سے ناپا جاتا ہے۔
دہلی میں کئی ماہ سے ہونے والے احتجاجات نے کم از کم یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سیاست کے میدان میں خاموشی کا مطلب ہمیشہ اتفاق نہیں ہوتا۔ کبھی لوگ بولنے کے لیے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور کبھی ان کی خاموشی ہی سب سے بڑی تنبیہ بن جاتی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ دروازے پر دستک دینے والوں کو شور مچانے والے نہ سمجھیں۔ کیونکہ جب دستک کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے تو ایک دن دروازہ کھٹکھٹایا نہیں جاتا، توڑ دیا جاتا ہے۔اور تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ جس وقت خوشامدی حضرات کرسی کے ہلتے ہوئے پائے کو جھولا بتا رہے ہوتے ہیں، عین اسی وقت زمین اپنا فیصلہ لکھ رہی ہوتی ہے۔آج میرے سامنے صرف دہلی ہی کا منظر نامہ نہیں بلکہ عالمی منظر نامہ بھی ہے ۔
اسرائیل میں ہوئے انتخاب اور اس کے نتائج بھی درس عبرت دے رہے ہیں کہ مظلوموں کا خون ضایع نہیں ہوتا ،غالب امکان یہی ہے کہ وہاں دوبارہ انتخاب کرا کر تاریخ کے فیصلہ کو بدلنے کی کوشش ہو اور جس بد عنوانی کا الزام وہاں اپوزیشن پر لگایا جا رہا ہے وہی خود حکومت اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ کرے ۔لیکن کیا اس طرح جمہور کی رائے کا مذاق نہیں بنیگا؟ کیا اسرائیل کے اصل باشندے عربوں کی رائے عامہ کا احترام ضروری نہیں ؟ اور کیا نیتن یاہو کو رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی نہیں ہو جانا چاہئے ؟اور کیا اب ساری دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح نہیں ہو جائیگی کہ یورپ کا پیش کردہ جمہوری نظام کس قدر پوپلا اور اقتدار حاصل کرنے کا جال ہے جس سے عام لوگوں کو صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے ۔اور حیرت یہ بھی ہے کہ جمہوریت کے نام پر مچائے گئے اس لوٹ کا نام بھی جمہوری اقدار قرار دے دیا گیا ہے جس میں امراء کے لئے ساری رعایتیں ہیں لیکن عام اور غریب عوام کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہے ۔اب تو عالم یہ ہے کہ مذہب کا استعمال دھڑلے سے سیاست میں کیا جا رہا ہے اور اسے اکثریتی رائے عامہ قرار دے دیا گیا ہے ۔یعنی اقلیتی طبقہ کے لوگ اکثریتی طبقہ کی آستھا کے قربان گاہ میں قتل کئے جاتے رہیں لیکن ان کی سننے والا کوئی نہیں ۔
ایسا نہیں ہے کہ جمہوریت کی اس خصلت کو پہلے ڈی کوڈ نہیں کیا گیا تھا ۔جمہوریت کے ناقدین نے انیسویں صدی سے ہی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ غیر تعلیم یافتہ سماج میں یہ نظام بھی سرمایہ داروں کی رکھیل بن جائیگا اور آج وہ گمان حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے ۔کم سے کم ہندوستان اور پاکستان میں تو جمہوریت کا وہی حشر ہوا ہے، جو صاف صاف نظر آ رہا ہے ۔