ریاستی خبریں

14 سال بعد دوبارہ کتاب تھامی، مدھیہ پردیش اسٹیٹ اوپن اسکول ایجوکیشن بورڈ کے امتحان میں حاصل کیا پہلا مقام

دھار (یو این آئی) خوابوں کی تکمیل کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار کی رہنے والی بنٹی نے اپنی محنت اور پختہ عزم سے اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے۔ آٹھویں جماعت کے بعد حالات کے باعث تعلیم چھوڑنے والی بنٹی نے 14 سال کے طویل وقفے کے بعد 27 سال کی عمر میں دوبارہ پڑھائی شروع کی اور مدھیہ پردیش اسٹیٹ اوپن اسکول ایجوکیشن بورڈ کے امتحان میں 73.6 فیصد نمبر حاصل کرکے پورے صوبے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
بنٹی کو بچپن ہی سے پڑھائی کا شوق تھا اور اس کا خواب پولیس فورس میں شامل ہوکر سماج کی خدمت کرنا تھا۔ گاؤں کے آس پاس مڈل اسکول کی سہولت نہ ہونے کے باعث آٹھویں جماعت کے بعد اس کی تعلیم چھوٹ گئی۔ بعد ازاں شادی اور گھریلو ذمہ داریوں کے درمیان اس کا خواب بھی پس پشت چلا گیا۔ اسی دوران ‘ایجوکیٹ گرلز’ ادارے کے ‘پرگتی پروگرام’ نے اس کی زندگی کو نئی سمت دی۔ گاؤں میں چلنے والے پراگتی لرننگ کیمپ کے ذریعے اسے دوبارہ تعلیم شروع کرنے کا موقع ملا۔
ابتدا میں اہل خانہ کی مخالفت، گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی طعنوں کے باعث اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 14 سال کے وقفے کے بعد دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کے حوالے سے بھی اس کے ذہن میں خدشات تھے۔ تاہم ادارے کی ٹیم کی مسلسل رہنمائی اور کوششوں سے خاندان کی رضامندی حاصل ہوئی اور بنٹی نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔
اس نے پڑھائی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا۔ صبح سویرے اٹھ کر گھر کے کام مکمل کرنے کے بعد وہ لرننگ کیمپ پہنچتی تھی۔ اس کی تعلیمی لگن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے بھائی کی شادی کے اگلے روز بھی وہ پڑھنے کے لیے کیمپ پہنچ گئی۔
بنٹی کا کہنا ہے کہ آٹھویں جماعت کے بعد اسے لگتا تھا کہ اب اس کی زندگی خاندان اور گھریلو ذمہ داریوں تک ہی محدود ہوکر رہ جائے گی، لیکن پراگتی پروگرام نے اسے اپنے خواب دوبارہ پورے کرنے کا حوصلہ دیا۔ ریاست میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس کے لیے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے جیسا ہے۔ وہ اسے صرف اپنی نہیں بلکہ پورے گاؤں کی کامیابی قرار دیتی ہے۔
بنٹی اب بارہویں جماعت میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے۔ پولیس فورس میں شامل ہوکر سماج کی خدمت کرنے کا اس کا بچپن کا خواب آج بھی برقرار ہے۔ اگر حالات سازگار نہ ہوئے تو وہ مقامی آنگن واڑی میں معلمہ کی حیثیت سے کام کرکے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتی ہے۔
اس کا ماننا ہے کہ مضبوط ارادوں کے سامنے عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ تعلیم نے نہ صرف اسے امتحان میں کامیابی دلائی بلکہ اپنی شناخت اور صلاحیتوں پر دوبارہ اعتماد کرنا بھی سکھایا ہے۔