جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ‘رن فار یونٹی’ میں پرجوش شرکت اور عہد لینے کی تقریب کے ذریعے سردار پٹیل کا یومِ پیدائش منایا
نئی دہلی (یو این آئی) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ کھیل و تفریح نے ‘راشٹریہ ایکتا دیوس’ (قومی یکجہتی کا دن۔دوہزار چھبیس) کے موقع پر، سردار ولبھ بھائی پٹیل (ہندوستان کے مرد آہن) کی ایک سو اکیاونویں سالگرہ منانے کے لیے مورخہ اکتیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو ایک’عہد لینے کی تقریب’ اور اس کے بعد ‘رن فار یونٹی’ (اتحاد کے لیے دوڑ)کا اہتمام کیا۔ ریلیز کے مطابق پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عہد نامہ پڑھ کر سنایا اور نواب منصور علی خان پٹودی اسپورٹس کمپلیکس میں صبح نوبجے’رن فار یونٹی’ کا آغاز کیا۔ اس موقع پر شیخ الجامعہ کی اہلیہ، جامعہ کی ڈین برائے بہبودِ طلبہ پروفیسر نیلوفر افضل اور شعبہ کھیل و تفریح کے ڈائریکٹر پروفیسر نفیس احمد بھی موجود تھے۔ اس تقریب نے جامعہ برادری کو یکجہتی اور قومی اتحاد کی راہ پر گامزن ہونے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر پروفیسر نیلوفر افضل (ڈین، اسٹودینٹ ویلفیئر)، پروفیسر غلام یزدانی (ڈین، فیکلٹی آف لا)، پروفیسر ندیم یونس (ڈین، فیکلٹی آف ڈینٹسٹری)، پروفیسر شاہ ابوالفیض (ڈین، فیکلٹی آف فائن آرٹس)، پروفیسر محمد اسد ملک (چیف پراکٹر)، ڈاکٹر ریحان خان سوری (ڈائریکٹر، سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ)، پروفیسر محسن علی (سربراہ، شعبہ فارسی) کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ، غیر تدریسی عملہ، طلبہ اور مقامی کمیونٹی کے افراد نے دونوں پروگراموں میں بھرپور شرکت کی، جس سے حب الوطنی اور ادارہ جاتی یکجہتی کے اجتماعی جذبہ آشکار ہوا۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ہندوستان کے بارے میں نظریہ اس غیر متزلزل یقین پر مبنی تھا کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے مکمل اتحاد اور ساختی یکجہتی میں مضمر ہے۔ پانچ سو باسٹھ سے زائد نوابی ریاستوں کو یکجا کر کے “ہندوستان کے مرد آہن” (آئرن مین) نے ایک ایسی مربوط اور مستحکم جمہوریہ کی بنیاد رکھی جو علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر تھی۔ ان کی میراث ایک ایسی لازوال یاد دہانی ہے کہ داخلی سلامتی، اجتماعی قومی شناخت اور باہمی ہم آہنگی قوم سازی کے بنیادی ستون ہیں۔
پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نہ صرف ایک قوم کا خاکہ تیار کیا، بلکہ اس کی متنوع روح کو ایک متحدہ شناخت میں پرو دیا۔ قومی اہمیت کے حامل ادارے کی حیثیت سے، جامعہ ملیہ اسلامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس وراثت کو آگے بڑھائے۔ یہ ‘رن فار یونٹی؎’ (اتحاد کے لیے دوڑ) آج اختتامی لکیر پر ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے شمولیت، فکری نشوونما اور قوم سازی کی جانب ایک مسلسل سفر بننا چاہیے۔ ہمارے طلبہ کل کے ہندوستان کے معمار ہیں، اور آج ان کا عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا اتحاد ناقابلِ شکست ہے۔”
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے”راشٹریہ ایکتا دیوس” (قومی یومِ اتحاد) کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ”یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہمارا تنوع ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ یہ قوم کے ساتھ مشترکہ وابستگی کے بندھن میں بندھا ہو۔ آج، جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کا پورا کنبہ ایک ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تو، ہم یکجہتی، ادارہ جاتی سالمیت اور قومی سلامتی جیسی بنیادی اقدار کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ ہمارے تدریسی عملہ، غیر تدریسی عملہ اور طلبہ کی بھرپور شرکت اس ہم آہنگ جذبے کی عکاس ہے جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شناخت ہے۔ آئیے! ہم ہر روز مل جل کر کام کرنے کا عہد کریں اور ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں جو سب کو ساتھ لے کر چلنے والا، ترقی پسند اور مستحکم ہو۔”
پروفیسر نفیس احمد، ڈائریکٹر برائے کھیل و کودجامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ کھیلوں میں لوگوں کو، چاہے ان کا پس منظر کچھ بھی ہو، آپس میں جوڑنے کی بے مثال طاقت ہوتی ہے۔ آج میدان میں نظر آنے والا جوش و خروش ہماری قوم کی اجتماعی طاقت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ ایک ساتھ دوڑنا اس بات کی علامت ہے کہ اگر چہ ہمارے راستے مختلف ہیں، لیکن ہماری منزل ایک زیادہ مضبوط، صحت مند اور متحد ہندوستان ہے۔ حقیقی تندرستی محض جسمانی نہیں ہوتی؛ بلکہ یہ ہمارے اس اجتماعی عزم کی مضبوطی ہے کہ ہم متحد رہیں، نظم و ضبط کے پابند ہوں اور ملک کی ترقی کے لیے وقف رہیں۔
