امریکہ میں سینیٹ کے اہم مقابلوں میں ڈیموکریٹس کی ابتدائی کامیابی، ریپبلکن اکثریت بچانے کی کوشش میں مصروف
واشنگٹن (یو این آئی) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کے اہم انتخابی مقابلوں میں ابتدائی طور پر تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جس سے پارٹی نے انتخابی معرکے کا آغاز مضبوط انداز میں کیا ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے 47 نشستوں کی اکثریت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مجموعی طور پر چار اضافی نشستیں جیتنا ضروری ہیں۔ڈیموکریٹس کو سب سے اہم کامیابی شمالی کیرولائنا میں ملی، جہاں سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ڈیموکریٹس نے ریپبلکن پارٹی کے قبضے والی نشست حاصل کرلی۔ ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد یہ نشست خالی ہوگئی تھی۔ شمالی کیرولائنا نے 2008 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹک امیدوار کو سینیٹ میں منتخب نہیں کیا تھا۔
69 سالہ کوپر دو مرتبہ ریاست کے گورنر رہ چکے ہیں اور ریاست کی تاریخ میں طویل عرصے تک اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں ”اشیا کی قیمتیں کم کرو” کا سادہ نعرہ دیا تھا۔ دوسری جانب ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین واٹلی اس سےپہلے کسی انتخابی عہدے پر فائز نہیں رہے تھے۔ انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ انتخاب لڑا۔نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک رکن ایوان نمائندگان کرس پاپاس نے ریپبلکن کے سابق سینیٹر جان سنونو کو شکست دے کر اپنی پارٹی کی نشست برقرار رکھی۔ سینیٹر جین شاہین کے سبکدوش ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ 46 سالہ پاپاس 2019 سے ایوان نمائندگان کے رکن ہیں اور انہوں نے خود کو ریاست کی ایک آزاد آواز کے طور پر پیش کیا۔ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے کھلے طور پر ہم جنس پرست مرد ہوں گے۔
سنونو نے مانچسٹر میں اپنے حامیوں کے سامنے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ”آج کی رات ہماری نہیں ہے۔” انہوں نے بتایا کہ وہ پاپاس کو فون کرکے کامیابی پر مبارک باد دے چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ووٹنگ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی بھی تعریف کی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جارجیا میں بھی ڈیموکریٹس نے تیسری نشست پر کامیابی حاصل کی، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکیں۔
ریپبلکن پارٹی نے فلوریڈا میں ایک نشست برقرار رکھی، جہاں سینیٹر ایشلے موڈی خصوصی انتخاب میں کامیاب ہوئیں۔ انہیں گزشتہ سال مارکو روبیو کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔ روبیو اب وزیر خارجہ ہیں۔ موڈی 2029 کے اوائل میں ختم ہونے والی ان کی مدت کی باقی مدت پوری کریں گی۔ابتدا میں انتخابی نقشہ ریپبلکن پارٹی کے لیے سازگار دکھائی دے رہا تھا، تاہم اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ نے کئی ریاستوں میں انتخابی مقابلے کو سخت بنا دیا ہے۔ان انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کے کنٹرول نے ان کی صدارت کے ابتدائی دو برسوں میں ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ منگل کے انتخابی نتائج طے کریں گے کہ آیا یہ صورت حال برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ ملک بھر میں پولنگ ختم ہونے کے ساتھ مزید نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ٹرمپ کا اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابی دن ایک بڑے پالیسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کردے گا۔
یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے دیرینہ تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہوسکتا ہے اور اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ٹرمپ نے انتخابی دن فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ اعلان کیا۔ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی اتحادی رہے ہیں اور ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی اسرائیل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی امداد کب اور کس طریقے سے بند کی جائے گی، جس سے مجوزہ فیصلے کے دائرہ کار اور اثرات کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
یہ اعلان ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں ایک نیا پہلو سامنے لاتا ہے۔ دونوں ایران کے ساتھ تنازع میں ایک دوسرے کے شراکت دار رہے ہیں۔ یہ اعلان اسرائیل کے لیے بھی ایک حساس سیاسی وقت میں سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہ آنے کے بعد سیاسی غیر یقینی برقرار ہے اور نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کا وقت امریکی داخلی سیاست کے تناظر میں بھی اہم ہے، جہاں اسرائیل کو فوجی امداد جاری رکھنے کا معاملہ تیزی سے ایک متنازع موضوع بنتا جا رہا ہے۔ان کا یہ اعلان اسرائیل کے لیے امریکی امداد کے معاملے پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں، جن میں مشی گن کے سینیٹر عبدالسید بھی شامل ہیں، نے اسرائیل کو مسلسل مالی اور فوجی امداد فراہم کرنے کے جواز اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کی پائیداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
