گینگسٹر ابو سالم سے ملاقات کے الزامات پر پیارے خان نے 250 کروڑ روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا
ناگپور، (یو این آئی) مہاراشٹر ریاستی اقلیتی کمیشن کے صدر پیارے خان نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے 5 کارکنوں کے خلاف 250 کروڑ روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کارکنوں نے ناسک کی مرکزی جیل کے سرکاری دورے کے دوران گینگسٹر ابو سالم سے ان کی ملاقات کے تعلق سے ان پر جھوٹے اور بدنام کرنے والے الزامات لگائے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے پیارے خان پر جیل میں بدنام زمانہ گینگسٹر سے ملاقات کرنے کا الزام لگایا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ اس احتجاج نے اس وقت مذہبی رخ اختیار کرلیا جب دونوں تنظیموں کے کارکنوں نے پیارے خان کے ایک ہندو مذہبی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد ان کی تطہیر کی رسم ادا کی۔
پیارے خان کے وکیل آنند دیش پانڈے نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ناگپور کی سیشن عدالت میں امول ٹھاکرے، ولاس پاٹل، شبھم اڈکے، گجیندر عرف ٹِکو وجے اور لکھن کوریئن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان پانچوں کارکنوں نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے والی پوسٹیں شائع کی تھیں اور کچھ نیوز چینلوں کے ذریعے ایسے بیانات دیے تھے، جن میں پیارے خان پر ابو سالم سے ملاقات کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیارے خان کا جیل جانا ایک سرکاری دورے کا حصہ تھا۔
اس مقدمے میں جھوٹے الزامات اور عوامی بیانات کے ذریعے پیارے خان کی شبیہ خراب کرنے کے معاملے میں پانچوں ملزمان میں سے ہر ایک سے 50 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان سب پر مشترکہ ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔
