عبد السید مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ جیت کر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان
واشنگٹن: ڈیموکریٹ عبد السید نے مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ جیت کر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے ایک تلخ مہم میں ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دی، جس سے ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کو ملک کی اہم ترین سوئنگ ریاستوں میں سے ایک میں شاندار کامیابی ملی۔” مصری تارکین وطن کے بیٹے السید نے ڈیٹرائٹ میں اپنے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ایک تقریر میں کہا۔”مجھے مشی گن کی عظیم ریاست سے منتخب سینیٹر کے طور پر یہاں کھڑا ہونے پر بہت فخر اور اعزاز حاصل ہے
انتخابی مہم کے آخری مراحل میں، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی مخالفت اور اپنے ترقی پسندانہ منشور کی وجہ سے، یہودی اور سیاہ فام ووٹرز کے درمیان ’ال-سید‘ کی مقبولیت اور حمایت مشکوک ہو گئی تھی ۔ اسی دوران، صدر ٹرمپ اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز سمیت ریپبلکن پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں نے ’ال-سید‘ کو ’جہادی‘ اور ’مسلم برادرہڈ‘ (اخوان المسلمین) کا رکن قرار دیا، اور یہ تاثر دیا کہ ان کا انتخاب امریکیوں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب السید نے فاکس نیوز کو بتایا، “میں کبھی اخوان المسلمین کا رکن نہیں رہا، میں کبھی اخوان المسلمین کا رکن نہیں رہوں گا۔”االسید کی کامیابی نے ڈیموکریٹس کے درمیان قومی سطح پر اس بحث کو جنم دیا کہ آیا کوئی ترقی پسند امیدوار ایسی ریاست میں جیت سکتا ہے جس نے صدر ٹرمپ کو دو بار ووٹ دیا ہو۔
