ریاستی خبریں

سابق ایم ایل سی اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما غلام قادر پردیسی کا انتقال

سرینگر (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سابق رکن قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) غلام قادر پردیسی منگل کی دیر رات انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہے۔
ان کے فرزند اور لال چوک کے رکن اسمبلی احسن پردیسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام کے ذریعے اپنے والد کے انتقال کی اطلاع دی۔
احسن پردیسی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انتہائی دکھ اور بوجھل دل کے ساتھ اپنے عزیز والد شیخ غلام قادر پردیسی، سابق ایم ایل سی اور ریٹائرڈ جوائنٹ فنانشل کمشنر کے انتقال کی اطلاع دے رہا ہوں۔ وہ اس دار فانی سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔
غلام قادر پردیسی کا نیشنل کانفرنس کے ساتھ طویل سیاسی وابستگی کا رشتہ رہا اور وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم حصہ لیتے رہے۔ سیاسی زندگی کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر انتظامیہ میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ وہ جوائنٹ فنانشل کمشنر کے عہدے پر فائز رہے اور سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب صدر اور وزیراعلی عمر عبداللہ کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے غلام قادر پردیسی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری تعزیتی پیغام میں احسن پردیسی اور دیگر اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی نے مرحوم کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کیے جانے کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
دریں اثنا، اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بھی نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما غلام قادر پردیسی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ غلام قادر پردیسی ایک غیر معمولی شائستگی اور وقار کے حامل انسان تھے۔ اپنی اعلیٰ اخلاقی خوبیوں اور غیر متزلزل دیانت داری کے باعث انہیں وسیع پیمانے پر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ الطاف بخاری نے کہا کہ وہ نہ صرف عوامی زندگی میں ان کی گراں قدر خدمات اور سیاسی شخصیت کے معترف رہے ہیں بلکہ ان کے مرحوم والد کے ساتھ غلام قادر پردیسی کی قریبی وابستگی کی وجہ سے بھی وہ ہمیشہ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔