جمود ٹوٹنے کی آہٹ اور جامعہ کی طالبات
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک محض ایک تعلیمی ادارے میں طلبہ کی نمائندہ تنظیم کی واپسی کا مطالبہ نہیں، بلکہ ہندوستان کے تعلیمی اور جمہوری ماحول میں جمود ٹوٹنے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ اس نئی نسل کی آواز ہے جو خاموشی کو اپنا مقدر ماننے کے لیے تیار نہیں اور یہ سمجھتی ہے کہ جمہوریت صرف پارلیمنٹ اور اسمبلیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی حقیقی تربیت تعلیمی اداروں سے شروع ہوتی ہے۔
جامعہ کی اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ طلبہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے تشدد اور تصادم کے بجائے پُرامن احتجاج، بھوک ہڑتال اور جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ 18 دن کی مسلسل تحریک کے بعد انتظامیہ کو طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد کے لیے وقت مقرر کرنے پر آمادہ ہونا پڑا۔ یہ طلبہ کے اتحاد، عزم اور عدم تشدد کی طاقت کی ایک اہم کامیابی ہے۔
اس کامیابی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کی پیش رفت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں ایک نئی بیداری جنم لے رہی ہے۔ دہلی میں سی جے پی کی تحریک کی کامیابی سے لے کر علی گڑھ اور جامعہ تک سامنے آنے والی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ نوجوان نسل اپنے جمہوری حقوق کے لیے دوبارہ متحرک ہو رہی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ جمود سے حرکت کی جانب بڑھتے ہوئے ایک نئے رجحان کی آہٹ ہے۔
لیکن جامعہ کی تحریک کا سب سے روشن اور قابل ذکر پہلو اس میں طالبات کی غیر معمولی شرکت اور قیادت ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کی لڑکیاں اب محض حالات کی تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اپنے حقوق، اپنے مستقبل اور اپنے جمہوری وجود کے لیے خود میدان میں اترنا جانتی ہیں۔
یہ منظر ہمیں شاہین باغ کی یاد دلاتا ہے، جہاں خواتین نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کا پرچم اٹھا کر پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ خواتین کو سیاسی اور سماجی جدوجہد سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ پردہ ہو یا گھریلو ذمہ داریاں، کوئی چیز ان کے شعور، عزم اور قیادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ جامعہ کی طالبات نے اسی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کی شرکت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ہندوستانی خواتین اب اپنے حقوق کی جنگ دوسروں کے سہارے لڑنے کے بجائے خود قیادت کرنا چاہتی ہیں۔
اس تحریک کو گاندھیائی فلسفے اور عدم تشدد کی کامیابی کے طور پر دیکھنا بھی ضروری ہے۔ گاندھی نے ستیہ گرہ کے ذریعے دنیا کو بتایا تھا کہ ظلم اور طاقت کے مقابلے میں پُرامن مزاحمت بھی غیر معمولی قوت رکھتی ہے۔ جامعہ کے طلبہ نے اپنے طرز عمل سے اسی اصول کی معنویت کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ تعلیمی ادارے سوال کرنے، اختلاف رائے ظاہر کرنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی جگہ ہیں، نہ کہ ایسے مراکز جہاں خاموشی کو نظم و ضبط کا نام دے دیا جائے۔
تاہم اس کامیابی کو مکمل تبدیلی سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا۔ طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد، اس کی خودمختاری اور طلبہ کو حقیقی نمائندگی فراہم کرنا ابھی باقی ہے۔ اسی طرح علی گڑھ سمیت ملک کی دوسری یونیورسٹیوں میں بھی جمہوری سرگرمیوں کی بحالی ضروری ہے۔ محض اعلان سے جمہوریت زندہ نہیں ہوتی، اس کے لیے مسلسل بیداری، آزادی اظہار اور اختلاف رائے کے احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج مسلم معاشرے کو بھی جامعہ کی طالبات کے اس کردار سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں اس قابل بنانا بھی ضروری ہے کہ وہ سماج کی تعمیر، سیاسی شعور اور جمہوری جدوجہد میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ جو معاشرہ اپنی بیٹیوں کو قیادت کا موقع نہیں دیتا، وہ اپنے نصف انسانی سرمائے کو خود اپنے ہاتھوں سے محدود کر دیتا ہے۔
جامعہ کی تحریک ابھی انقلاب نہیں، لیکن اسے انقلاب کی فکری بنیاد اور تبدیلی کی ابتدائی دستک ضرور کہا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان نسل کے اندر جمہوری شعور زندہ ہے اور اسے زیادہ دیر تک خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔
آج جمہوریت کی سب سے خوبصورت تصویر کسی اقتدار کے ایوان میں نہیں، بلکہ جامعہ کے اس احتجاج میں دکھائی دیتی ہے جہاں نوجوانوں کے ساتھ طالبات بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اپنے حقوق کا پرچم تھامے کھڑی ہیں۔ یہ صرف طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد نہیں، بلکہ ہندوستان کی جمہوری روح کی بازیافت کی ایک امید افزا کوشش ہے۔