مدھیہ پردیش کے مرینا میں چیتے کی موت کی جانچ کے لیے مرکز نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی
نئی دہلی، 28 اکتوبر (یواین آئی) مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش میں مرینا کے جنگلاتی علاقے میں گولی کے چھرّوں سے زخمی ہونے کے بعد چیتے کے 19 ماہ کے بچے کی موت کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مرکزی ٹیم تشکیل دی ہے۔ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے بدھ کے روز بتایا کہ چیتا کے این جی 22 مادہ چیتا نِروا کا بچہ تھا۔ وہ 25 اکتوبر کو کونو نیشنل پارک کے محفوظ علاقے سے باہر مرینا کے جنگلاتی علاقے میں زخمی حالت میں ملا تھا۔ مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے شیوپور کے علاقائی جنگلاتی ڈویژن نے اسی دن اسے بچایا اور جبل پور کے ویٹرنری مرکز میں داخل کرایا۔ وہاں ہنگامی سرجری کے دوران اس کے جسم سے گولی کے پانچ چھرّے نکالے گئے۔ علاج کے باوجود 27 اکتوبر کو اس کی موت ہوگئی۔ طبی جانچ میں چھرّوں سے متعلق متعدد اندرونی زخموں کی تصدیق ہوئی۔مرکزی ٹیم میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کے انسپکٹر جنرل آف فاریسٹ اور وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو (ڈبلیو سی سی بی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور علاقائی ڈپٹی ڈائریکٹر شامل ہیں۔ یہ ٹیم واقعے کے حالات اور دستیاب شواہد کی تفصیلی جانچ کرے گی اور مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے ساتھ تال میل قائم کرکے معاملے میں سخت اور فوری کارروائی کو یقینی بنائے گی۔مدھیہ پردیش حکومت نے واقعے کی جانچ کے لیے جنگلات اور پولیس کے افسران پر مشتمل خصوصی ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) پہلے ہی تشکیل دے دی ہے۔ مرکزی ٹیم ریاستی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ وہ حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نگرانی اور تحفظ کے اقدامات کا بھی جائزہ لے گی۔مرکزی ٹیم اپنی جانچ کے نتائج اور سفارشات وزارت کو پیش کرے گی، تاکہ ریاستی حکومت اور متعلقہ علاقائی حکام کو آئندہ کی کارروائی کے لیے ہدایات دی جا سکیں۔
