وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی میں 150؍سے زیادہ ایک ہزار پرانے مندروں کو منہدم کیا ،شنکر آچاریہ آدی مکتیشورآنند سرسوتی اتراکھنڈ پیٹھ نے میڈیا کے سامنے کہا ادھورے مندر میں پران پرتشٹھا نہیں ہو سکتی
شنکرآچاریہ نے اپنے بیان میں اور کیا کہا
رام مندر کی تعمیر میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں
عدالت میں ہم شنکرآچاریوں نے لڑائی لڑی تھی
مندر کی تعمیر عدالت کے فیصلے پر ہو رہی ہے
غلط کو غلط کہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ،کچھ بھی ہو
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بی جے پی رام مندر کو استعمال کرنا چاہتی ہے اور پران پرتشٹھا کو جس طرح سے ایک ایوینٹ کی طرح وہ پیش کر رہی ہے اس کے خلاف اب شنکرآچاریہ ہی میدان میں آ گئے ہیں ۔وہ پران پرتشٹھا کو شاستروں کے خلاف عمل قرار دے رہے ہیں ۔ آچاریہ آدی مکتیشورآنند سرسوتی اتراکھنڈ پیٹھ جیسے کئی سنتوں کے علاوہ ہندو مہاسبھا نے بھی مہم چھیڑ رکھی ہے جس سے بی جے پی میں خوف کا ماحول ہے ۔ ایک ہندی اخبار کے ڈجیٹل پلیٹ فارم پر بات کرتے ہوئے شنکرآچاریہ نے کہا کہ شاستروں کے مطابق پران پرتشٹھا ایک مکمل مندر میں ہی ہو سکتی ہے جبکہ اجودھیا میں رام مندر ابھی ادھورا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مندر ایک جسم کی طرح ہوتا ہے جبکہ مورتی ایک روح ہوتی ہے ۔ جب تک جسم نہ مکمل ہو اس میں روح کیسے پھونکی جا سکتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ رام مندر کا دھڑ بن گیا ہے لیکن دھڑ کے اوپر کا حصہ باقی ہے اس لیے ہم منع کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی جوتش ہے جب بھی اس کے پاس کوئی پران پرتشٹھا کے لیے مہورت نکوائے گا تو سب سے پہلے وہ پوچھے گا کہ مندر مکمل ہوا ہے یا نہیں کیونکہ جب تک مندر مکمل نہیں ہوگا تب تک مہورت ہی نہیں نکل سکتا ۔ کیا دعوت نہیں دی گئی اس لیے ناراضگی ہے اس سوال پر آدی مکتیشور آنند نے کہا کہ یہ گمراہ کرنے والی بات ہے ۔ میڈیا صحی بات کو چھپانے کے لیے ایسا سوال لا رہا ہے ۔ہم صرف غلط کو غلط کہہ رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے ناراضگی کے سوال پر شنکرآچاریہ نے کہا کہ میں مودی کو ذاتی طور پر نہیں جانتا نہ ہی کوئی رشتہ ہے ۔ وہ ملک کے پی ایم ہیں اور ہم شہری ہیں ،یہی ہمارا رشتہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شنکرآچاریہ نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر میں بی جے پی اورآر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی انھوں نے کوئی پیروکاری کی ہے ۔ ان لوگوں نے صرف سڑکوں پر شور مچایا ہے جبکہ مندر کی تعمیر سڑکوں پر شور مچانے سے نہیں ہورہی ہے بلکہ عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں 90؍دنوں کیمسلسل بحث ہوئی تھی جن میں سے 50؍دنوں تک مسلمانوں نے بحث کی 40؍دنوں تک ہندوئوں نے کی تھی اور ان میں سے 24؍دنوں تک صرف شنکرآچاریہ نے بحث کی تھی۔ یہ کریڈٹ لے جا رہے ہیں ۔سپریم کورٹ میں 40؍دنوں تک بحث ہوئی جن میں چار دن ہم نے بحث کی ۔ ان لوگوں نے کیا کیا ؟ مودی کے خلاف مہاتما کو 2019؍میں میدان میں اتارنے کے سوال پر کہا کہ ہاں ایسا ہوا کیونکہ ہماری بات نہیں سنی جارہی تھی ۔ وارانسی میں مودی حکومت نے 150؍سے زیادہ تاریخی مندر توڑ دیے لیکن ایک اخبار نے بھی نیوز نہیں لکھی ۔ ہم لوگ پی ایم مودی سے شکایت تک نہیں کر سکتے تھے ۔ ایک ایک ہزار سال پرانے مندر تھے جن کو توڑا گیا ۔میں تو میڈیا والوں سے بات ہی نہیں کرتا کیونکہ آپ سب مینج ہو جاتے ہو ، سب نہیں چھاپتے ہو ۔اخبار نہیں چھاپ رہے تھے اور ہم چاہتے تھے کہ ہندو سماج کو پتہ چل جائے کہ ہمارے سے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ایسے میں کوئی راستہ نہیں تھا اس لیے ہم نے مودی کے خلاف ایک مہاتما کو امیدوار بنایا تاکہ لوگ پوچھیں گے، جب سوال ہوگا تب ہم بتا دیں گے کیوں الیکشن لڑ رہے ہیں ، یہ مقصد تھا ۔اب اگر ہندو سماج بھی اس کو غلط سمجھے گا تو ہم ان کے لیے کیسے لڑ سکتے ہیں ۔












