غزہ شہر میں اسرائیل کی بڑی زمینی کارروائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے آج جمعرات کے روز سامنے آنے والے تخمینے کے مطابق 4 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری غزہ سے جنوبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں پناہ گزین کیمپوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ادہانوم گبریوسس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ غزہ کے اسپتال جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، اب "تباہی کے دہانے” پر پہنچ چکے ہیں، کیونکہ شمالی غزہ میں اسرائیلی زمینی حملہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ تیڈروس نے کہا کہ شمالی غزہ میں فوجی پیش قدمی اور انخلا کے احکامات نے نقل مکانی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ اس کے سبب پہلے ہی صدمے کا شکار خاندان مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گبریوسس نے مزید کہا کہ "تشدد کی بڑھتی ہوئی صورت حال ہسپتالوں تک رسائی کو روک رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت کو ضروری ساز و سامان پہنچانے سے محروم کر رہی ہے۔”غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ایک ہتھیاروں کا گودام تباہ کیا، جس میں اس کی فوج کے خلاف استعمال کے لیے بم رکھے گئے تھے۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دوسرے روز بھی غزہ شہر کے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں، جس سے طبی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران العربیہ کے رپورٹروں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج شمالی اور جنوبی محاذوں پر اپنی کارروائیوں کو تیز کر رہی ہے اور شمال مغربی غزہ میں ٹینکوں کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔عبرانی اخبار "یديعوت احرونوت” کے مطابق ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہل کار نے بتایا کہ فوج کے تخمینے کے مطابق غزہ شہر کا مکمل محاصرہ اور اس کے مکینوں کا جبری انخلا 6 اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا۔ اس اہل کار کے مطابق شہر کے مکمل قبضے کی کارروائی اسی تاریخ کے بعد ممکن ہو سکے گی اور شہر میں 7500 مسلح موجود ہیں۔یورومیڈیٹرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ میں تقریبا 8 لاکھ فلسطینیوں کو دنیا سے الگ کر دیا ہے۔ مواصلاتی رابطے اور انٹرنیٹ کی خدمات منقطع کر دی گئی ہیں، جبکہ فوج کی پیش قدمی شمال مغربی علاقوں میں جاری ہے۔ اسرائیلی حملے اور عمارتوں و مواصلاتی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ شہر کا مکمل "بلیک آؤٹ” کر دیا ہے۔اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پچھلے دو دنوں میں 40 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹيفن ڈوژارک نے کہا کہ غزہ میں صورت حال ہر گھنٹے بگڑ رہی ہے اور فوج نے آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید جبری انخلاؤں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ڈوژارک نے کہا کہ اگست کے وسط سے اب تک تقریباً 2 لاکھ افراد جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ ہیں، اپنے علاقوں سے نکلنے کے لیے کئی گھنٹے پیدل چلنے پر مجبور ہوئے۔ حملوں کی شدت کے باعث خواتین بغیر اسپتال، ڈاکٹر یا صاف پانی کے سڑکوں پر بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن کو سرکاری طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں عسکری کارروائی مزید بڑھا رہا ہے اور کسی معاہدے کے امکانات نہیں ہیں۔اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا” نے بتایا کہ فوج کی غزہ میں حکمت عملی تین غیر معمولی مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں حماس کے ڈھانچے کی مکمل تباہی اور رات کے وقت روبوٹوں کے ذریعے زمینی اور زیر زمین کارروائیاں ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں تیز رفتار فائرنگ کے اصول پر عمل جبکہ قبضہ آہستہ ہو گا۔












