2024 میں ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر اپوزیشن اتحاد کو مضبوط کرنے کے نتیش کمار کی پہل کو تمام پارٹیوں کی جانب سے ہری جھنڈی مل چکی ہے ۔اب دوسرے مرحلے میں ریاستی علاقائی پارٹیوں اور کانگریس قائدین کی میٹنگ
کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد متوقع ہے ۔ کرناٹک میں 10 مئی کو انتخابات ہیں اور 13 مئی کو نتائج کا اعلان ہو جائے گا ۔بہار میں آل پارٹی کی میٹنگ کا مشورہ بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے دیا تھا جب نتیش کمار اور تیجسوی یادو ان سے ملنے گئے تھے ۔ممتا نے کہا تھا کہ میں نے نتیش کمار سے صرف ایک درخواست کی ہے وہ یہ کہ جے پرکاش نارائن جی کی تحریک بہار سے شروع ہوئی تھی۔ اگر ہم بہار میں آل پارٹی میٹنگ کرتے ہیں تو ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آگے کہاں اور کیسے جانا ہے۔
ممتا بنرجی نے زور دے کر کہا تھا کہ ہمیں یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ بی جے پی صفر ہوجائے۔
جے ڈی یو کے سینئر لیڈر للن سنگھ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی نے جو کہا وہ بہار میں ہو گا۔ ہم جلد ہی یہ طئے کرینگے کہ اسے کیسے اور کب منظم کرنا ہے ۔جے ڈی یو کے قومی صدر للن سنگھ نے مزید کہا کہ نتیش کمار کی پہل کو زبردست حمایت مل رہی ہے۔ اور اپوزیشن لیڈر اس محاذ سے پر امید ہیں۔ للن سنگھ نے کہا کہ ریاست میں اپوزیشن لیڈروں کا جمع ہونا مرکز میں حکومت کو تبدیل کرنے کی متحدہ کوشش کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ وقت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے جس طرح اپنا رویہ دکھایا ہے وہ واقعی اچھا ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد کے لیے جاری کوششیں زور پکڑیں گی۔ دوسری طرف بی جے پی اپوزیشن اتحاد کو ناممکن قرار دے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دن نتیش کمار بی جے پی سے الگ ہوئے اور آر جے ڈی کی قیادت والے عظیم اتحاد میں واپس آئے۔ اس دن سے وہ اس کام میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک گفتگو سے بات آگے نہیں بڑھی ہے اور نہ اس کے آثار ہیں۔حالانکہ بی جے پی اس طرح کا بیان ضرور دے رہی ہے لیکن اس کی گھبراہٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔بی جے پی یہ بات جانتی ہے کہ اگر اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کو نتیش کمار نے جمع کر لیا اور اپوزیشن اتحاد کے لیڈر نتیش کمار بن گئے تو نریندر مودی کے سامنے نتیش کمار ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر سکتے ہیں۔اس کے پہلے نتیش کمار اپوزیشن اتحاد کےلئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے، دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال، یوپی کے سابق سی ایم اکھلیش یادو اور مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی سے ملاقات کر چکے ہیں ۔ قبل ازیں انہوں نے بائیں بازو کے لیڈر سیتارام یچوری اور ڈی راجہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ اور ان تمام لیڈروں نے ان کے مشن کی تائید بھی کی ہے اور قدم سے قدم ملا کر چلنے کی بھی بات کی ہے
جے پی کے نام سے مشہور جے پرکاش نارائن نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے خلاف ملک کی تمام اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو ایک چھت کے نیچے لا کر اپنی ‘سمپورنا کرانتی آندولن’ کی قیادت کی۔ جے پی کے پیروکار نتیش کمار 2024 میں ہونے والی بڑی لڑائی سے پہلے اپوزیشن کا اتحاد بنانے کے مشن پر ہیں۔ ان کی پارٹی میں بہت سے لوگ اسے JP-2 کہتے ہیں، کیونکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک چھتری کے نیچے لانا کوئی چھوٹا کام نہیں ہےلیکن نتیش کمار کے بے داغ سیاسی کیرئر اور مرکز سے لے کر دیاست تک کے ان کے تجربے کی ساکھ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کا اجلاس تاریخ ساز ہوگا ۔
خبر یہ بھی ہے کہ آر جے ڈی سربراہ لالو یادو بھی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے جلد ہی پٹنہ آنے کا امکان ہے۔ نتیش کمار نے اس ماہ کے شروع میں دہلی میں لالو پرساد سے بھی ملاقات کی تھی اور اس کے بعد اپوزیشن اتحاد کی حرکت میں تیزی آئی۔ نتیش کمار سے ملنے کے بعد اکھلیش یادو نے بھی لالو یادو سے ملاقات کی ہے ۔ واضح ہو کہ 2024 کے انتخابات کے لیے اپوزیشن کا اتحاد ایک اہم عنصر ہے اور نتیش کمار اور لالو پرساد اس کے لیے نہایت موزوں قائد ثابت ہوں گے۔ دونوں تجربہ کار سیاست دان ہیں اور انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے 2015 میں بہار میں کیا تھا۔ اب اسے پورے ملک میں کرنے کی ضرورت ہے۔
ReplyForward |












