ایس اے ساگر
کولکتہ،سماج نیوز سروس:مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے میں91.41 فیصد ووٹنگ کے دوران کہیں کہیں تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نتخابات کے نتائج4 مئی کوآنے کی اطلاعات ہیں۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھبانی پور میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’شام 6 بجے تک لائن میں کھڑے رہنے والوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سی آر پی ایف لوگوں پر اس طرح تشدد نہیں کر سکتی۔ وہاں کوئی ریاستی پولیس موجود نہیں ہے۔ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے بجائے سی آر پی ایف ایک سیاسی پارٹی کو محفوظ کر رہی ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے اس طرح کی جمہوریت کبھی نہیں دیکھی۔واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کی سہ پہر میترا انسٹی ٹیوشن میں اپنا ووٹ ڈالا۔ اس کے فوراً بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مختلف اسمبلی حلقوں میں مرکزی فورسز کی طرف سے بدسلوکی کے الزامات کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ بنرجی نے کہا:’’مرکزی فورسز ہر جگہ مظالم کر رہی ہیں۔ کئی بوتھوں پر، وہ ہمارے ایجنٹوں کو اپنی نشستیں لینے سے روک رہی ہیں۔ وہ خواتین اور بچوں کو مار رہے ہیں۔ ایسا الیکشن میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف تشدد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو ہمارے کارکنوں کو رات کو کس طرح مارا پیٹا گیا۔ یہ کیسی غنڈہ گردی ہے؟ ووٹنگ اس طرح نہیں ہونی چاہئے بلکہ پرامن طریقے سے کرائی جانی چاہئے۔انتخابات جمہوریت کا تہوار ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر برباد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ’’ بی جے پی انتخابات میں زبردستی دھاندلی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ:’’ ٹی ایم سی کارکنان اپنے موقف پر قائم رہیں گے، چاہے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا ہو۔‘‘وزیراعلیٰ نے انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے افسران اور مبصرین کو بنگال لایا گیا ہے جو ریاست کے حالات کو نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق، کچھ مبصرین ٹی ایم سی کے ایجنٹوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے لئے تھانوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ممتا بنرجی نے مرکزی سیکورٹی فورسز پر بھی سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا:’’”گزشتہ رات سی آر پی ایف نے مقامی پولیس کے بغیر وارڈ نمبر 70 کے کونسلر کے گھر پر چھاپہ مارا، اس وقت گھر میں صرف ان کی بیوی اور بچہ موجود تھے، اس کے باوجود گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔‘‘ اس واقعے کو ظلم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ رات بھر جاگتی رہی اور صورتحال پر نظر رکھی۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ:’’ باہر کے مبصرین بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول،’’بی جے پی جو بھی کہتی ہے، وہ کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے پوسٹر بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔ کیا الیکشن اس طرح کرائے جاتے ہیں؟ ووٹر ووٹ ڈالیں گے، پولس یا سیکورٹی فورسز نہیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی اور وہ خود چاہتے ہیں کہ انتخابات مکمل طور پر پرامن ہوں۔ انہوں نے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر ووٹ ڈالیں اور جمہوری عمل میں حصہ لیں۔












