نئی دہلی : جنترمنتر پر پہلوانوں کا احتجاج جاری ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ کے سخت انتباہ کے بعد جمعہ کی دیر رات کو دہلی پولیس نے ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لیا ہے۔ لیکن وہاں موجود مظاہرین کا کہنا ہےکہ ہم اپنا احتجاج اس وقت ختم کرینگے جب ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کی گرفتاری عمل میں آ جائیگی ۔دوسری طرف ایف آئی آر درج ہوتے ہی جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے پہلوانوں کے لئے دہلی پولیس کا رویہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے ،اور وہ اب مظاہرین پر احتجاج ختم کرنے کا دباؤ بنا رہی ہے ۔ احتجاج کے مقام پر نہ صرف بجلی کاٹ دی گئی ہے بلکہ کھانے پینے کی اشیا کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔خبر کی تفصیل یہ ہے کہ 28 اپریل کی صبح دھرنے پر بیٹھے پہلوانوں کے لیے اس وقت اچھی خبر آئی جب دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ ریسلنگ فیڈریشن کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کریں گے۔ اس دوران جنتر منتر پر دن بھر کئی سیاستدان کھلاڑیوں، اداکاروں اور کھلاڑیوں سے ملنے آئے جنہوں نے ہڑتال کی حمایت کی ۔رات کے آخر تک، دہلی پولیس نے برج بھوشن کے خلاف ایف آئی آر درج بھی کر لیا ۔ جس میں پوسکو ایکٹ بھی شامل ہے ۔ احتجاج کرنے والے پہلوانوں کا الزام ہے کہ ایف آئی آر درج ہوتے ہی دہلی پولیس نے ان پر ہڑتال سے اٹھنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔اسی وقت کامن ویلتھ چیمئن ریسلر بجرنگ پونیا جو جنتر منتر احتجاج کو لیڈ کر رہے ہیں انسٹاگرام پر لائیو آئے اور کہا، ‘ہم ملک کے لوگوں کو دہلی پولیس کی سچائی دکھانا چاہتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے کی روشنیاں منقطع کر دی گئی ہیں۔ تمام آمدو رفت کے راستے بند کر دئے گئے ہیں۔ اے سی پی نے پہلوانوں سے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، نہ انہیں پانی ملیگا اور نہ کھانا اندر جانے دیا جائے گا۔ پونیا نے کہا کہ یہ دہلی پولیس کا رویہ ہے۔ پورا ملک ہماری حمایت میں کھڑا ہے اور دہلی پولیس کا یہ حال ہے۔ 100-150 پولیس والے یہاں ہیں۔کھلاڑی موبائل ٹارچ کی روشنی میں کھانا کھانے کو مجبور ہیں ۔بجرنگ کے ساتھی نے بتایا، ‘ہم پر مسلسل دباؤ بنایا جا رہا ہے کہ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور اب ہمیں یہاں سے جانا چاہئے ۔حالانکہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ دھرنا کئی دنوں سے پرامن طریقے سے جاری ہے۔ میڈیا والوں کو بھی یہاں سے نکال دیا گیا ہے۔آدھی رات کو بجرنگ ایک بار پھر کیمرے کے سامنے آئے اور ہم وطنوں سے ان کا ساتھ دینے کو کہا۔ کامن ویلتھ چیمپئن نے کہا، ‘سب یہاں پہنچ جائیں۔ یہاں گھر بنانا پڑے گا، اب لاٹھیاں کھانی ہیں، سب مل کر کھائیں گے۔ ہم کسانوں کے بچے ہیں، ایسے ہی جیے ہیں۔ جب گاؤں میں روشنی نہیں ہوتی تھی تو ایسے ہی رہتے تھے۔ ہم اے سی میں رہنے والے کھلاڑی نہیں ہیں۔
پہلوانوں کے ساتھ 140 کروڑ ملک والے ہیں۔ ان پولیس والوں سے پوچھو کہ اگر ان کی بیٹیاں ہوتیں تو کیا وہ ایسا کرتے؟دوسری طرف ایف آئی آر درج کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی ریسلنگ فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے اوپر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کی کھل کر تردید کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ نابالغ لڑکی کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔درحقیقت برج بھوشن سنگھ پر ایک نابالغ سمیت کئی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔برج بھوشن شرن سنگھ نے میڈیا کے سامنے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور جیسا کہ اب اس کیس کا تعلق نابالغ سے بھی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس نابالغ کو انکوائری کمیٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا جا رہا ہے ۔برج بھوشن سنگھ نے کہا، مجھے سپریم کورٹ پر پورا بھروسہ ہے۔ اس ملک میں سپریم کورٹ سے بڑا کوئی نہیں ہو سکتا۔ سپریم کورٹ کے سامنے ایف آئی آر درج کرنے کی بات ہوئی ہے۔ مجھے تفتیشی ایجنسی پر پورا بھروسہ ہے۔ میں مکمل طور پر بے قصور ہوں اور ان الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، تحقیقات میں تعاون کے لیے بھی تیار ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان لوگوں کی مانگ مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ جنوری میں ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تب بھی میں نے کہا تھا کہ اگر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے ان کے الزامات کو قبول کر لیا ہے۔استعفیٰ دینا کوئی بڑی بات نہیں لیکن مجرم بن کر نہیں۔اس سازش کے پیچھے براہ راست کانگریس کا ہاتھ،میں شروع سے کہہ رہا ہوں کہ ملک کے کچھ صنعت کار جن کو مجھ سے مسئلہ ہے اور کانگریس کا اس میں ہاتھ ہے۔












