نئی دہلی، سماج نیوز سروس:عمر خالد کی والدہ کی سرجری کے معاملے پر کڑکڑڈوما کورٹ نے کہا کہ دیگر بہنیں بھی ان کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں اور والد بھی مدد کرنے کے قابل ہیں۔موصولہ تفصیلات کے مطابق دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالد کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے ملزم اور جیل میں بند عمر خالد کی ضمانت عرضی منگل (19 مئی) کو خارج کر دی گئی۔ عمر نے اپنے مرحوم ماموں کے چہلم میں شامل ہونے اور بیمار ماں کی دیکھ بھال کیلئے 15 دن کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے خالد کی اس عرضی پر سماعت کی جس میں انہوں نے 15 دن کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔ عمر کی والدہ کی سرجری ہونی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ 15 دن کی عبوری ضمانت چاہتے تھے۔عمر خالد نے عدالت سے کہا تھا کہ انہیں کچھ دنوں کیلئے جیل سے باہر آنے دیا جائے تاکہ وہ اپنے ماموں کے چہلم میں شامل ہو سکیں اور اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کر سکیں۔ عمر خالد کی جانب سے عدالت میں دلیل دی گئی کہ ان کے خاندان میں والد، والدہ اور 5 بہنیں ہیں۔ والد کی عمر 71 سال ہے اس لیے وہ والدہ کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے ہیں۔ جبکہ 4 بہنیں شادی شدہ ہیں اور آبائی گھر سے دور اپنے سسرال میں رہتی ہیں۔ عمر خالد کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ خاندان کے اکلوتے بیٹے ہیں، اسی وجہ سے والدہ کی سرجری کے بعد انہیں ہی دیکھ بھال کرنی پڑے گی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مانا کہ درخواست میں بتائی گئی صورتحال عبوری ریلیف دینے کیلئے کافی بنیاد نہیں بنتی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے، جب ایک دن قبل ہی سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ ٹرائل سے قبل کسی ملزم کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا غیر آئینی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ عمر خالد اور دیگر ملزمان، جن میں گلفشاں فاطمہ بھی شامل ہیں، ان کی ضمانت کے سلسلے میں صحیح فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔کڑکڑڈوما کورٹ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ عمر خالد اور دیگر ملزمان کو پہلے عبوری ضمانت مل چکی ہے اور انہوں نے کبھی شرائط کی خلاف ورزی نہیں کی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بار مانگی گئی عبوری ضمانت منظور کر لی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ماموں کے چہلم کی رسم میں شامل ہونا اتنا ضروری نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر رشتہ اتنا قریبی اور گہرا تھا، تو عمر خالد کو ان کے انتقال کے وقت ہی ضمانت کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا، نہ کہ اتنے طویل عرصے بعد۔












