(سید مجاہد حسین)
گجرات میں اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ اب نہ صرف ہماچل پردیش کے اسمبلی الیکشن کا بھی اعلان ہوگےا ہے بلکہ دونوں کے نتائج ایک ساتھ آئینگے یہ بھی بتا دےا گےا،اس درمیان دہلی میں تین کارپوریشن کو آپس میں ضم کر کے بنائی گئی نئی میونسپل کارپوریشن کے بھی انتخابات کا اعلان ہوگےا ہے ،دسمبر کے شروع ہفتہ میں الیکشن ہوںگے اورر آٹھ دسمبر کو نتائج آئینگے۔اس طرح سے دسمبر میں یہ صاف ہوجائےگا کہ کس رےاست میں کس کی حکومت بنی اور دہلی میونسپل کارپوریشن پر کون سی پارٹی راج کرے گی۔ فی الحال بی جے پی اور آپ پارٹی میں سخت مقابلے کی امید جتائی جارہی ہے ،جہاں ’آپ‘ مسائل کو لیکر کافی سنجیدہ ہے تو وہیں وہ نرم ہندوتوا یعنی کانگریس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوؤں کے کٹر طبقہ پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور انہیں قریب کرنا چاہتی ہے ۔اس لئے ان کا ایک ایسا بےان سامنے آےا ہے جس نے بی جے پی خیمہ کی نیند اڑادکر رکھ دی ہے ۔حالانکہ نووٹوں پر دیوی دیوتاؤں کی تصویر چھاپنے والے بےان پر جب میڈےا والوں نے ان سے کہا کہ آپ پولیٹیکل اسٹنٹ کررہے ہیں تو انہوںنے اس وقت بھی اپنے جواب سے بی جے پی اور وفادار میڈےا گھرانوں کو لاجواب کر دےا ،تو انکا جواب تھا کہ اگر ان (بی جے پی) کو لگتا ہے کہ ایساکہنے سے ووٹ ملتے ہیں تو وہ اس کو لاگو کردےں اور دیوی یوتاؤں کی تصویر لگائیں ان کی مرکز میں تو حکومت ہے!۔لہٰذا اس کے بعد سے بی جے پی حواس باختہ ہے اور اس ادھری بن میں تھی کہ وہ وہ کجریوال کے بےان کا کیا توڑ نکالے ۔حال ہی میں بی جے پی کے رام قدم نے جو جواب دےاہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کیسے بی جے پی نے اب مذہب کے بجائے اپنے ہی رہنماؤں کا سہارا لیکر ووٹ کی سےاست کرنے پر اتر آئی ہے اور وہ کتنی بوکھلائی ہوئی ہے۔لہٰذا اب بی جے پی کے اس اسٹنٹ پر کچھ ناقدین کہہ رہے ہیں کہ’ جب بھگوان سے بی جے پی کا کام نہیں چلا تو وہ مہا پورشوں کو لے آئی !‘۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ بھارت کی کرنسی پر وزیر اعظم مودی ،اور ویر ساورکر کی تصویر لگے ،بابا صاحب کی تصویر لگے۔ اس طرح سےاست میں بی جے پی (مذہب کی بات کر کے ووٹ بٹورنے والی ) اور عام آدمی پارٹی میں مذہبی داؤ سے جہاں بی جے پی کو کوئی جواب نہیں سوجھ رہاہے تو وہیں اس سے ووٹروں کو یہ سوچنے پر مجبور کردےا ہے کہ اب سچی اور کٹر مذہبی پارٹی کون سی ہے اور وہ کس ناؤمیں پیر رکھیں۔بہر حال یہ تو اب آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا ،لیکن اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ بی جے پی کوکجریوال کے اس ترپ کے پتے کی کوئی کاٹ نظر نہیں آ رہی ہے جسے وہ اپنے لئے خطرے کی گھنٹی بھی سمجھ رہی ہے ۔لہٰذا اس کے لیڈر اب بوکھلاہٹ میں جو منہ میں آرہا ہے وہ بولتے نظر آرہے ہیں۔
بلا شبہ’ آپ ‘کنوینرکجریوال کی جانب سے لکشمی کی فوٹو چھاپنے کا بےان بی جے پی کی پالیسی میں بڑی نقب زنی کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔لیکن یہ سچ ہے کہ گجرات میں اس وقت بی جے پی کے لئے امتحان کی گھڑی ہے ،موربی پل حادثہ سے بی جے پی بیک فٹ پر کھڑی ہے ۔اکثر لوگ رےاست میں بی جے پی سے بد ظن ہوئے ہیں ،پل حادثہ کے تعلق سے اٹھتے سوال اب بھی بڑے افسروں اور بی جے پی حکومت کے عہدیداروں کے گلے کا طوق بن گئے ہیں ۔اور ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ادھر پنجاب اور دہلی میں چلا کجریوال کا جادو رےاست گجرات کے لوگوں کے لئے ایک نظیر ثابت ہورہا ہے اور وہ دہلی کے فلاحی کاموں کو للچائی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔موربی پل حادثہ کے بعد شہری انتظامیہ کی لاپروائی سوالوںکے گھیرے میں ہے کیونکہ ایک مردہ خانے سے دو زندہ حالت میںبھائیوں کی بر آمدگی کی خبر گجرات میں سنسنی پھیلا رہی ہے ۔لوگ حکومت سے سوال کررہے ہیں کہ حکومت کی یہ کیسی لاپروائی ہے کہ وہ زندہ کو مردہ ٹھہرارہی ہے؟ جن کی سانسیں چل رہی ہیں ان کو مردہ خانے کیسے بھجوا دےا گےا؟شاےد اس سوال کا بی جے پی کے پاس اب تک کوئی جواب نہیں ہے۔کیا یہ سب باتیں بی جے پی کے خلاف نہیں جا رہیں ،کیا لوگ ان پر خوش ہیں ،اس کا جواب عوام ہی دیںگے جو پچھلے بیس سال سے بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیتے آئے ہیں اور کانگریس کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔وہی یہ بھی فیصلہ کریںگے کہ بی جے پی کی’ مذہبی سےاست ‘میں عام آدمی پارٹی کے بےان سے لگی نقب کیا زعفرانی پارٹی کےلئے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوگی؟











