عابد انور
9810372335
کسی بھی ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں پر ہوتا ہے جس ملک مےں جتنے تعمےری صلاحےت کے حامل نوجوان ہوں گے وہ ملک اتنی ہی کامےابی و کامرانی سے ہمکنار ہوگا۔ ےہی وجہ ہے کہ حکومت مختلف سطح پر نوجوانوں کے لئے پروگرام مرتب کرتی ہے اور اس کو نافذکرنے کی کوشش بھی کرتی ہے ۔ آج اگر ہندوستان اطلاعاتی تکنالوجی اور اور کمپےوٹر کے میدان مں آًگے ہے تو اس کا سہرا ہندوستان کے سب سے کم عمروزےر اعظم آنجہانی راجےو گاندھی کے سرجاتا ہے جنہوں نے نوجوان ہندوستان کا خواب دےکھا تھا ۔ ہندوستان ہی نہےں بلکہ پوری دنےا مےںہندوستانی نوجوان ملک کا نام روشن کرنے میں پےش پےش ہےں۔ کوئی اےسا شعبہ نہیںہے جہاں نوجوانوں نے اپنی کم عمری مےں نصرت و فتح کا جھنڈا بلند نہ کےا ہو۔ہندوستانی سےاست مےں جہاں اب تک طوےل عمر کے لوگوں کا قبضہ رہا ہے ان کی جگہ اب نوجوان لے رہے ہیں ۔ حالات اس حد تک خراب ہےں کہ جس پارٹی مےں دےکھےںبزرگ رہنماؤںکی اےک بڑی تعداد موجودہے ۔ ہندوستانی سےاست کی بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ ےہاں سےاست سے رےٹائر ہونے کا کوئی تصور نہےں ہے۔ ےہاں سےاست سے رخصت دو ہی صورتوں مےں ہوتے ہےں ےا تو ان کی موت ہوجاتی ہے ےا وہ بستر مرگ پر ہوتے ہےں۔ خوش آئند بات ہے کہ ملک کے نوجوان سےاست سمےت تمام شعبہائے حےات مےں آگے آرہے ہےں اور ملک کی کمان سنبھال رہے ہےں۔ پہلے کے بہ نسبت آج ہندوستانی سےاست مےں نوجوانوں کی تعداد کچھ بڑھی ہے اور وہ اسے کےرےر کے طورپر اپنانے لگے ہےں۔ ےہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل ان کے نوجوانوں کی فکر، سوچ ، کردار اور عمل پر منحصر کرتا ہے آج ہندوستان جےسے ملک مےں نوجوانوں کی اےک اچھی خاصی تعداد اےسی ہے جو زندگی کے ہر شعبے مےں کارہائے نماےاں انجام دے رہی ہے اور دنےا بھر مےں اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ ےہ صرف ان نوجوانوں کی ذاتی کامےابی نہےں ہے بلکہ وہ ملک کو ترقی کی راہ لے جانے کی نمائندگی کر رہے ہےں اور دنےا کو ےہ بتا رہے ہےں کہ ہندوستانی تہذےب جو صدےوں اپنے منفرد شناخت اور پہچان رکھتی ہے اس مےں انہی نوجوانوں کا عمل دخل ہے۔
مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی آبادی مےں نوجوانوں کا اضافہ ہوا ہے۔ آج ملک کی ستر فےصد آبادی کی جو عمر ہے وہ 35 سال سے کم ہے ، اس کو دوسرے لفظوں ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہےں ہندوستان نوجوانوں کا ملک بنتا جارہاہے ےعنی نوجوان ہورہا ہے ۔ اتر پردیش کے 12 کروڑ ووٹروں میں تقریبا 25 فیصد (چار کروڑ سے زائد ) 18 سے 30 سال کے درمیان کے نوجوان ہیں۔ ان میں سے تقریبا 53 لاکھ وہ ووٹر ہےں جو 18 سال کے ہیں اور پہلی بار ووٹنگ کریں گے۔35 سال سے کم عمر کی اس آبادی مےں سے 38.8فےصد لوگ پندرہ سے 34 سال کے درمےان ہےں اور تقرےباً 230 میلےن آبادی اےسی ہے جو 10 سال سے 19 سال کے درمےان ہےں۔ اس طرح سے آج کے ہندوستان کا ہردوسرا شخص نوجوان ہے۔ اےک اندازے کے مطابق 2020 تک ہندوستانی نوجوانوں کی اوسط عمر 29 سال ہوگی۔ جب کہ چےن اور امرےکہ مےں 37، ےوروپ مےں 45 اور جاپان مےں 48 ہوگی۔نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ہمےں ےہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اس کا صحےح طرےقے سے استعمال کرےں۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ ہم نوجوانوں کی تعلےم و تربےت کا بہتر انتظام کرےں اور اتنی بڑی افرادی قوت کا ہم اگر صحےح جگہ استعمال کرتے ہےں تو وہ دن دور نہےں جب ہم پوری دنےا پر حکومت کرےں گے ۔ اس کے برخلاف اگر ہم نے اس کا صحےح استعمال نہےں کےا تو ےہ ہمارے لئے اےک بوجھ بھی بن سکتا ہے ۔
لےکن آئےنے کا دوسرا رخ ےہ بھی ہے کہ اگلے دہائی تک اگر نوجوانوں کی صحےح تعلےم و تربےت نہ کی گئی تو تابناک مستقبل کی بجائے ناکامی کے تارےک دل دل مےں پہنچ جائے گی ۔ آج ہندوستانی سماج مےں نوجوانوں کے مسائل اور مفادات پر شاےد ہی کوئی مستحکم اور مثبت قدم اٹھاےاگےا ہو ۔ ےہی وجہ ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کی اےک لمبی فوج کھڑی ہوتی جارہی ہے۔ ےہ بھی دےکھا گےا ہے کہ 2000 سے 2005 تک تعلےم ےافتہ باروزگار نوجوانوں کی تعداد مےں گراوٹ آئی ہے ۔ اس دوران سکےنڈری اسکول سے ڈگری تک چھ سے سات فےصد نوجوان ہی پہنچ پاتے ہےں ۔ اس کے برعکس تعلےم ےافتہ نوجوان لڑکےوں کی تعداد حالات اور بھی خستہ ہے ۔ دےہی خواتےن گرےجوےٹ کی تعداد مےں 34فےصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ شہری علاقے مےں ہائی اسکول سے گرےجوےشن تک 20 فےصد ےا اس سے زےادہ ۔ آج کل کال سنٹروں، بی پی او، کے پی او وغےرہ کا کافی شہرہ ہے لےکن اس کے اندر جھانک کر دےکھےں تو صورت حال مختلف نظر آئے گی۔ اس مےں نوجوانوں کا اےک خاص طبقہ ہی نظر آتا ہے۔ دنےا مےں اس وقت نوجوان کی تعداد آبادی کے لحاظ ہے نصف ہے ۔ ےعنی تقرےباً تےن بلےن۔ اس مےں پچاس کروڑ نوجواوں کی آمدنی ےومےہ صرف دو ڈالر ہے۔ ان مےں سے تےس کروڑ اسی لاکھ نوجوان وہ ہےں جن کی آمدنی صرف اےک ڈالر ےومےہ ہے۔ 500 مےلےن مےں سے 70 فےصد نوجوان کی تعداد اےشےا مےں رہتے ہےں۔جو لوگ ملازمت مےں ہےں ان کے بھی مسائل بہت اہم ہےں جس پر کبھی توجہ نہےں دی گئی۔ ان مےں سب سے بڑامسئلہ ےہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اےسی بھی ہے جنہےں ان کے کام کے حساب سے اجرت نہےں ملتی ۔ ان ،مےں بہت سے نوجوان وہ ہےں جو اپنی صلاحےت اور قابلےت سے نچلے درجے مےں کام کر رہے ہےں کےوں کہ انہےں صلاحےت کے مطابق کام نہےں مل پاتا۔ اس سے ان کے اندر احساس محرومی اور کمتری پےدا ہوتی ہے جو ان کی شخصےت کے نشو و نما مےں منفی رول ادا کرتا ہے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی پالےسی سازی اور ملک کے مستقبل کے لئے فےصلہ کرنے مےں ان کو جمہوری انداز مےں شامل کےا جائے ۔ اس کاسب سے بڑا فائدہ ےہ ہوگا کہ ملک کی فلاح بہبود مےں ترو تازہ دماغ کا اہم رول ہوگا۔ ملک ترقی کے نئے منازل طے کرے گااور ساتھ ہی ساتھ ان نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ ےہ ملک کی ترقی کے لئے بہترےن ذرےعہ ہوں گے۔ ہر دور مےں نئی نسلوں نے ملک کی تعمےر و ترقی مےں نماےاں کردار ادا کےا ہے خاص کر 21 وےں صدی مےں نوجوانوں کا رول کئی معنوں مےں اہم ہے۔ نوجوانوں کی اےک اچھی خاصی تعدادنے اپنی محنت و مشقت کے بل پر کامےابےاں حاصل کی ہےں وہےں اےک طبقہ اےسا بھی ہے جنہوں نے نام اور شہرت بھی حاصل کی ہے اور دولت بھی اور وہ اپنے مےدان مےں مسلسل کامےابی و کامرانی حاصل کرتے جارہے ہےں ۔ اس ملک کے نوجوانوں کی حالت سب سے زےادہ خراب ہے، نوٹ منسوخی کے غےر منطقی فےصلے، جی اےس ٹی اورکورونا وبا کے دوران اچانک لاک ڈا¶ن جےسے بے تکے فےصلے نے نوجوانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس وقت نوجوان گزشتہ برسوں مےں بدترےن دور سے گزر رہے ہےں۔
ہندوستان مےںہر منصوبہ اس لئے ناکام ہوجاتا ہے کہ منصوبہ سازی مےں وہ لوگ شامل ہوتے ہےں جن کی نظر صرف اردگرد اور موجودہ حالات اور ڈےمانڈ پرہوتی ہے لےکن اگر اس مےں نوجوانوں کو شامل کےا جائے گا تو دوررس اثرات کے حامل منصوبہ بنانے مےں اپنا اہم کردار ادا کرےں گے۔ نوجوانوں نے ہندوستان مےں اپنی طاقت دکھادی ہے ۔ ےہ بتادےا ہے کہ اگر انہےں نظر کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو کسی بھی حکومت کا وجود خطرے مےں پڑسکتا ہے۔ اس کا اظہار انہوں نے انا تحرےک کے دوران بھی کےا تھا۔ لےکن اسی کے ساتھ بدقسمتی کی بات ےہ ہے کہ جہاں اےک طرف دےگر فرقے کے نوجوانوں کو تمام مواقع اور سہولتےںپےش کی جارہی ہےں وہےں مسلم طبقہ کے نوجوانوں کو خصوصا وہ نوجوان آئی ٹی سےکٹر ےا انجنئرنگ مےں ہےں انہےں خاص طور پر نشانہ بناےا جارہا ہے۔گجرات قتل عام کے بعد جب پوری دنےا مےں ہندوستان کی بدنامی ہوئی تھی اس کے بعد حکومت مےں بےٹھے بعض وزراءاور اعلی خفےہ افسران نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے دوسرے راستے کا انتخاب کےا۔ وہ راستہ جس مےں بدنامی کا کوئی خوف نہےں۔ امرےکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے مےں ہندوستان مےں بھی بڑے پےمانے پر مسلم نوجوان کو تباہ کرنے کا منصوبہ بناےا گےا۔ اس کا بھرپور ساتھ ہندوستان کا ہندوتوا مےڈےا نے ۔ اس بار اس کا نشانہ وہ نوجوانوں تھے جو آئی ٹی سےکٹر ےا پروفےشنل سےکٹر مےں تعلےم حاصل کر رہے تھے ےا اس سے فارغ تھے ےا اس مےں ملازمت کر رہے تھے۔ ان دس سالوں مےں گرفتار شدگان مسلم نوجوانوں کی تعدادکو دےکھےں تو ےہ تلخ حقےقت سامنے آئے گی۔اسی کے ساتھ مدارس کے فارغےن کو بھی نشانہ بناےا گےا جس سے ےہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی کہ مدارس مےں دہشت گردی کی تعلےم دی جاتی ہے۔ےہاں بھی ہدف نوجوان طبقہ ہی تھا۔خفےہ اےجنسیاں مسلم نوجوانوں کے مستقبل کو تارےک کرنے لئے مختلف بہانے تراش رہی ہےں اورجس کو اور جب بھی چاہتی ہےں اٹھالےتی ہےں ۔حےدرآباد کے مکہ مسجد بم دھماکے کے بے قصور نوجوانوں کی رہائی اور معاوضہ کی ادائےگی کے باوجود بھی اس اےجنسی کے روےے مےں کوئی تبدےلی نہےں آئی بلکہ اس نے اس منصوبہ کو عملی شکل دےنی شروع کردی ہے کہ اگر دس کو رہا کےا جائے گا تو دوسرے 20کو اٹھا لےاجائے گا جےسا کہ چند برس دنوں مےں بہار مےںہوا ہے اور مغربی اترپردےش امروہہ نشانے پر ہے اور وہاں سے درجنوں مسلم نوجوانوں کو قومی تفتیشی اےجنسی (اےن آئی اے) نے اٹھالےا ہے اور اس کا لنک داعش تلاش کرلےا ہے جب کہ داعش کا وجود ہندوستان مےں نہےں ہے ۔ اےن آئی اے لوہے کے برادہ کو بارود اور ٹرےکٹر مےں استعمال ہونے والا آلہ کو راکٹ لانچر بناکر پےش کےا ہے ۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ عام پارلےمانی انتخابات اوررےاستوں مےں انتخابات کے پےش نظر کےا جارہا ہے اس کا مقصد اکثریتی طبقہ کو خوش کرنا ہے۔ اگر مسلم نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوگا تو ہندوستان کا بھی ہوگا کےوں کہ ےہ نوجوان ہندوستان کا جز لاےنفک ہےں۔ ےہ ہندوستانی نوجوانوں کی تصوےر 2014 سے قبل کی ہے اس وقت کا نوجوان دودھ سے زےادہ گوموتر مہنگے داموں مےں خرےدتا ہے، انہےں سائنس سے زےادہ توہمات، موتر اور گوبر سے زےادہ پےار ہے۔ اےک ڈھونگی ےوگی بابا ان کا ہےرو ہے اور آج کا نوجوان ان کے سڑے گلے، ملاوٹی ناپاک اشےاءبڑی چا¶ سے خرےدتا ہے اور اس کا استعمال کرتا ہے۔دنےا کا سب سے بڑا جھوٹا انسان ان کا لےڈر ہے، جہاں بھی جاتا ہے جھوٹوں کی بارش برساتا ہے اور ےہاں کے اکثرےتی بہت شوق وذوق سے اس مےں بھےگتے ہےں۔ ہر ظلم کو دےش بھکتی کی نظر سے دےکھتا ہے اور ملک کے مفاد مےں گردانتا ہے، اےک اشارے پر اپنا کچھ اور خاندان کو بی جے پی کے غنڈوں کے حوالے کرسکتا ہے۔ان کے ہر جرائم کو ملک کی ترقی کے لئے ضرور قرار دےتا ہے۔ جہاں سے ملک کی ترقی کے نظرےات نکلنے چاہئے تھے اس دماغ سے نفرت کی نئی نئی شکلےں نکل رہی ہےں۔ جس کی وجہ سے ملک تمام رےنکوں مےں غوطہ لگاچکا ہے اورجمہورےت،رواداری، برداشت اور اظہار آزادی اور اختلاف رائے کے معاملے مےں بدنام زمانہ ملک سے بھی نےچے جاچکا ہے۔ اگر آج کے نوجوان چاہےں تو ےہ ملک تمام شعبوں اور رےنکوں مےں اوپر اٹھ سکتا ہے ۔ بس انصاف کے لئے لڑنا ہوگا اور ملک کے تمام ناکارہ نظام کو بدلنا ہوگا اور پوری دنےا مےں ہندوستان کی شبےہ خراب کرنے والوں کے ملک اٹھ کھڑا ہونا اور اےک اےماندار اور انصاف پسند حکومت قائم کرنی ہوگی۔ اگر ملک کے نوجوانوں کی صحےح سوچ ہوتی تو ملک کے کسان گزشتہ چھ ماہ سڑکوں پر نہےں ہوتے۔ تقرےباَ تےن ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہےںلےکن نوجوانوں کی وہ شمولےت نظر نہےں آرہی ہے جس سے حکومت کی چولےں ہل جائےں۔ پےٹرولےم مصنوعات کو قےمتیں اقتصادی طور پر انتہائی کمزور ممالک سے دوگنی کے قرےب ہیں، غذائی اشےاءاور روز مرہ کی چےزوں کی قےمتےں عام آدمی کے بس کی باہر کی چےز ہوکی ہےں لےکن ان تمام چےزوں کے خلاف نوجوا ن سڑکوں نظر نہےں آرہے ہےں۔ روزگار اور روزگار کے ذرائع ختم ہورہے ہےں لےکن نوجوانوں مےں کوئی جنبش نہےں ہے۔ مذہبی نفرت کے نشے مےں اس قدرمدہوش کردےاگےا ہے کہ اقلےتوں اور کمزور طبقات کے خلاف ہونے والے ہر جرائم کو جائز اور ضروری قرار دےتا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں مےں کےا سے کےا ہوگا دےکھتے دےکھتے۔ نوجوانوں نے ہوش نہےں سنبھالا اور سچ اور حق کے لئے آواز نہےں اٹھائی تو آنے والی نسل ان نوجوانوں کو معاف نہےں کرے گی ۔ملک کے نوجوان ہوش کے ناخون لےں اور ظلم و ناانصافی کے مےدان مےں آئےں خواہ ظلم کسی کے بھی ساتھ ہورہا ہو۔












