• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home Uncategorized

ادب والے مہینوں کا احترام اہل ایمان پر لازمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 2, 2023
0 0
A A
ادب والے مہینوں کا احترام اہل ایمان پر لازمی
Share on FacebookShare on Twitter

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُواْ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (سورہ مائدہ آیت ۲)
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کرلو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ ان لوگوںکو چھیڑ وجو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میںمکان محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں۔ ہاں احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیاہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ نہیں! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔
خدا پرستی کی کئی کئی نشانیاں ہیں جن کی تعظیم ہرمسلمان پر ضروری ہے۔ آیت مبارکہ میںیہ لفظ یوں ادا کیا گیا ہے ’’لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِِ ‘‘
’’اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو‘‘دراصل یہ لفظ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ’’علامت‘‘ یعنی آنکھوں سے دیکھے جانے والی چیزیں اور محسوس کی جانے والی باتیں وغیرہ۔
اللہ تبارک تعالیٰ یہاں پر جن ’’شعائر‘‘ کی طرف اہل ایمان کو متوجہ فرما رہے ہیں یہ شعائر حج سے متعلق ہیں غرض کہ شعائر اللہ کے احترام کے عام حکم دینے کے بعد آگے کے فقرے میں چند خاص شعائر کا نام لیکر ارشاد ہورہا ہے’’وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ ‘‘
’’نہ حرام مہینوں میںسے کسی کو حلال کرلو‘‘ سال کے کل مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں کے چار مہینے ادب والے ہیں۔ (۱) ذوالقعدہ (۲)ذی الحجہ (۳) محرم(۴) رجب۔ جیسا کہ سورہ التوبہ کی آیات 63 میں ارشاد ہوا ہے فرمایا۔
’’منہااربعۃ حرم‘‘ ’’اور ان میں چار مہینے حرام ہیں‘‘ یعنی ادب کے ہیں۔تفاسیر کے مطالعہ سے ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ مذکورہ چار مہینوں کا ادب و احترام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے ہی چلتے آیاہے اور اسلام کے ظہور میں آنے سے ایک عرصہ قبل تک بھی لوگ ان مہینوں کا لحاظ کرتے رہے اور ان مہینوں میں نہ جھگڑا کرتے اور نہ ہی خونریزیاں ہوا کرتیں لیکن عرب کی جہالت جب اپنی انتہا کوپہنچ چکی تو لوگ ان ادب والے مہینوں کا پاس و خیال رکھنا چھوڑ دیئے اور خود ساختہ طریقے پر عمل کرتے ہوئے ’’نسی‘‘ کی رسم نکالی گئی، اور جب چاہتے حرمت والے مہینوں کی ترتیب میں الٹ پھیر کرتے اور اللہ نے جن مہینوں کو ادب والے مہینے قرار دیا ہے اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ایک قبیلہ دوسرے پر چڑھائی کرتا اور کسی چیز کا انتقام لینا ہوتا تو لے لیتا۔
اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ عرب کے ان جاہلانہ فکر و عمل سے اہل ایمان کو بچانے کیلئے حکم فرما رہے ہیںکہ اے میرے پیارے بندو ادب والے مہینوں کو بے حرمت نہ کرو۔
قربانی کے جانور اور بے حرمتی
آیت مبارکہ میںتیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ۔’’نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خدا وندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں‘‘۔ آیت مبارکہ میں قربانی کے جانوروں سے متعلق دو باتیں آئی ہیں۔
(۱) وَلاَ الْہَدْیَ’’ھدی‘‘ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کیلئے حاجی اپنے ساتھ حرم کو لے جاتے ہیں۔
(۲) وَلاَ الْقَلآئِدَقلادہ کی جمع قلائد ہے اس طرح قلادہ کے معنی پٹے کے ہوئے غرض کہ حرم (کعبۃ اللہ شریف) کو نذر خداوندی کیلئے لیجائے جارہے ان جانوروں کو نہ روکو، اور نہ ہی ان کے ساتھ دست درازی کرو جن کے گلوں میں ’’فی اللہ راہ للہ‘‘ کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں مطلب یہ کہ ان قربانی کے جانوروں کو کسی سے چھینا جائے اور نہ ہی حرم شریف تک پہنچنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔ اس سلسلہ میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمت اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں جسے مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ۔
(۱) ’’شعائر اللہ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاںہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں‘‘۔
(۲)یاد رکھنا چاہئے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانے میںدیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ برپا تھی، مکہ پر مشرکین قابض تھے، عرب کے ہر حصہ سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کیلئے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔
اس وقت حکم دیاگیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے ان کے درمیان جنگ ہی سہی، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میںان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کیلئے جو جانور یہ لئے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے احترامی کا۔ (حوالہ تفہیم القرآن، جلد اول،صفحہ ۹۳۴ حاشیہ۔ ۵)
قربانی کے جانور اور تعظیم
علامہ ابن کثیرؒ نے (رواہ اہل السنن) کے حوالے سے یوں تحریر فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کیلئے نکلے تو آپؐ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گذاری، صبح اپنی نو (۹) بیویوں کے پاس گئے پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میںپٹہ ڈالا اور حج اور عمرہ کا احرام باندھا، قربانی کیلئے آپؐ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اپنے ساتھ لئے تھے۔ جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوی والاہے۔
بعض سلف کا فرمان ہے کہ تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا پلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔
حضرت علی بن ابو طالبؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں۔ ( حوالہ تفسیر ابن کثیر، جلد اول، چھٹا پارہ،صفحہ ۶۳۱ اردو ترجمہ)
مسجد الحرام کا قصد اور بے حرمتی
آیت مبارکہ میں چوتھا فرمانِ ربانی یوں ہورہا ہے کہ:
وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناًمطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بھی بے حرمتی نہ کرو جو عظمت والے گھر کعبۃ اللہ شریف کے قصد سے جارہے ہیں اور جو یہ چاہتے ہیں کہ پروردگار کا فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کریں۔ بے حرمتی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسافرین حج و عازمین حج کے اس سفر میں ان سے کسی بھی طرح کی کوئی مزاحمت نہ کرو اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تکلیف و ایذا نہیں پہنچاؤ کہ شعائر اللہ کے یہ احکام ایسے حالات میں دیئے گئے ہیں جبکہ مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی، حق و باطل کی محاذ آرائی چل رہی تھی اور سارے عرب میں ماحول گرم تھا اور دوسری جانب مسلمانوں کو یہ مواقع حاصل تھے کہ حج کو جانے والے مشرک قبیلوں پر آسانی سے ہاتھ ڈال سکیں ظاہر بات ہے کہ اس سے شعائر اللہ کی توہین ہوتی ہے اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ اہل ایمان کو حکم فرماتے ہوئے، توہین شعائر اللہ سے بچا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں پر مشرکین کی تعظیم مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لوگ شعائر اللہ کی علامتوں کے ساتھ جو سفر کررہے ہیں اس کی اصل تعظیم مقصود ہے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی صاحبؒ اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ بظاہر یہ شان صرف مسلمان کی ہے۔ یعنی جو مخلص مسلمان حج و عمرہ کے لئے جائیں ان کی تعظیم و احترام کرو اور ن کی راہ میں روڑے مت اٹکائو اور جو مشرکین حج بیت اللہ کیلئے آئے تھے، اگر وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہوں کیونکہ وہ بھی اپنے زعم اور عقیدہ کے موافق خدا کے فضل و قرب اور خوشنودی کے طالب ہوتے تھے، تو کہنا پڑے گا کہ یہ حکم اس وقت سے پہلے کا ہے جبکہ، انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ہذا۔منادی کرائی گئی۔(حوالہ القرآن الکریم و ترجمہ معانیہ و تفسیر، صفحہ 140، حاشیہ ۵، مطبوعہ سعودی عرب )
ممانعت شکار کی حد
آیت مبارکہ میں پانچواں حکم یہ آیا ہے کہ ’’وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ‘ اور جب احرام سے نکلو تو شکار تم کرسکتے ہو۔ مذکورہ حکم نازل کرنے سے قبل اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ’’احرام کی حالت میں شکارکو اپنے لئے حلال نہ کرلو‘‘ جس کی تفصیل پچھلے صفحات پر گذر چکی۔
غرض کہ اب اس بات کی اجازت دی جارہی ہے ک احرام کی حالت ختم ہوجائے تو تم شکار کرسکتے ہو۔ یعنی ’’احرام‘‘ بھی منجملہ شعائر اللہ میں شامل ہے اس لئے حالت احرام میں شکار کرنے سے اہل ایمان کو روک دیا گیا تھا کیونکہ ایسی حالت میںشکارکرنا شعائر اللہ کی توہین ہے لیکن اب اس کی اجازت دی جارہی ہے کہ (طواف افاضہ ) حج مکمل کرنے کے بعد تم چاہو تو شکار کرسکتے ہو (بشرطیکہ وہ شکار حرم میں نہ ہو)
(کتاب الحج) کے صفحہ 329 پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے کہ ’’یعنی جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کرو اور جس شخص نے طواف الافاضہ نہیں کیا اس کا پورا احرام نہیںکھلا۔ (موطا امام مالکؒ اردو ترجمہ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے اس وقت تک کوئی چیز، جسے آپؐ نے احرام باندھنے کے بعد حرام فرمایا تھا اپنے اوپر حلال نہیںکی جب تک آپ ؐ نے اپنا حج مکمل نہ کرلیا۔ قربانی کے روز آپؐ نے طواف افاضہ کیا پھر آپ نے ہر چیز حلال کرلی۔ (بخاری و مسلم)
ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں
آیت مبارکہ کے مضمون میں چھٹا حکم یہ آیا ہے کہ ’’اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیاہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو‘‘
یہاں پر اس گروہ کا نام نہیںلیا گیا بلکہ مسجد حرام کا راستہ مسلمانوں کیلئے روکنے والے مشرکین کے متعلق فرمایا جارہاہے کہ ان لوگوں نے تمہیں مسجد حرام (کعبۃ اللہ ) کو جانے سے روک کر شعائر اللہ کی توہین کی اور، تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن ائے میرے پیارے بندو تم ہر گز اس طرح کا کوئی عمل نہ کرو کیونکہ یہ شعائر اللہ کی بے حرمتی ہے۔ اس سلسلہ میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحبؒ نے یوں تحریر فرمایاہے۔
یہ چند واقعات تھے کہ جن کی بناء پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میںمسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی کہ شعائر اللہ کی تعظیم تمہارا اپنا فرض ہے۔ کسی دشمن کے بغض و عداوت کی وجہ سے اس میں خلل ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ ’’اشہر حرم‘‘ میں قتل وقتال بھی جائز نہیں۔ قربانی کے جانوروں کو حرم تک جانے سے روکنا یا ان کا چھین لینا بھی جائز نہیں اور مشرکین احرام باندھ کر اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و رضا حاصل کرنے کے قصد سے چلے ہیں۔(اگرچہ بوجہ کفر ان کا یہ خیال خام ہے) تاہم، شعائر اللہ کی حفاظت و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے نیز وہ لوگ جنہوں نے تمہیں عمرہ کرنے سے روک دیا تھا ان کے بعض عداوت کا انتقام اس طرح لینا جائز نہیںکہ ’’مسلمان‘‘ ان کو مکہ میں داخل ہونے یا شعائر حج ادا کرنے سے روکدیں کیونکہ یہ ان کے ظلم کے بدلہ میں ہماری طرف سے ظلم ہوجائے گا جو اسلام میں روا نہیں۔(حوالہ معارف القرآن، جلد سوم، ص 16 تا 17)
نیک کام میں ساتھ دو اور بْرے کاموں میں تعاون نہ کرو
آیت مبارکہ کے اختتام پر ایک ایسی اصولی بات بیان فرمائی گئی ہے جس میں انسان کی فلاح و کامیابی اور خود انسان کی اپنی خیر، بقا امن و سلامتی کی راہیںکھلتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح اہل ایمان بندوں کوحکم ہورہا ہے کہ ہر اس نیکی کے کام میں تعاون کرو جو رضائے الٰہی اور فلاح آخرت تک پہنچاتا ہو اور ہر اس برائی و زیادتی سے بچو جس کے کرنے سے غضب الٰہی تم سے متعلق ہوتا ہے۔ پھر آخر میں فرمایا گیا کہ ’’اللہ سے ڈرو ‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے احوال پر اچھی طرح نظر رکھے ہوئے ہیں یعنی اگر تم اوپر بیان کئے گئے احکام پر عمل نہ کیا یا پھر اپنی نفسانی خواہش میںآکر حق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو یاد رکھنا! میری طرف سے دی جانے والی سزا بڑی سخت ہے۔

مولانا عبدالحفیظ اسلامی

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist