• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

پارلیمنٹ میں سنگول کا پیغام کیا

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 7, 2023
0 0
A A
پارلیمنٹ میں سنگول کا پیغام کیا
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک میں بی جے پی حکومت کے 30 مئی کو نو سال مکمل ہوئے ۔ اس سے محض دو روز قبل 28 مئی کو وزیراعظم نریندر مودی نے نئی پارلیمنٹ کا افتتاح کیا ۔ اسی دن ونائک دامودر ساورکر کی 140 ویں یوم پیدائش تھی ۔ افتتاحی تقریبات کا حزب اختلاف کی 21 جماعتوں نے یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا کہ صدر جمہوریہ ملک کی آئینی سربراہ ہیں ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کاروئی ان کی اجازت سے چلتی ہے ۔ اس لئے پارلیمنٹ کا افتتاح صدر جمہوریہ دروپدی مورمو کے ہاتھوں ہونا چاہئے نہ کہ وزیراعظم کے ۔ بی جے پی حکومت کے نو سال گواہ ہیں کہ نریندر مودی نے آئین، عوام، پروٹوکال اور اپوزیشن کی کبھی پرواہ نہیں کی ۔ نتیجہ جو بھی ہو انہوں نے جو سوچا وہ کیا ۔ کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کی اکثریت ہے، کارپوریٹ دوست پیچھے کھڑے ہیں، ایجنسیاں، آئینی ادارے پارٹی کارکن کی طرح کام کر رہے ہیں اور حزب اختلاف جماعتوں کے اپنے تحفظات ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ مصلحت و انتشار کا شکار ہیں ۔ اس صورتحال نے مودی حکومت کو بے لگام بنا دیا ہے ۔
ہندو دھرم کی روسومات کے مطابق نئی پارلیمنٹ کا افتتاح اور اسپیکر کی کرسی کے پاس سنگول (راج دنڈ) نصب کرنا ہندوتوا کا ایجنڈہ چلانے کی مثال ہے ۔ افتتاح سے دو روز پہلے تک سنگول کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں تھا ۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جب بتایا کہ افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کو سنگول پیش کیا جائے گا جسے وہ اس کے جائز مقام یعنیٰ اسپیکر کی کرسی کے پاس نصب کریں گے ۔ اس کے بعد میڈیا میں سنگول پر گفتگو ہونے لگی ۔ سنگول کو لے کر بی جے پی نے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ 1947 میں برطانوی حکومت کے آخری وائس رائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے پنڈت نہرو کو بھارت کا اقتدار سونپتے وقت منتقلی اقتدار کی علامت کے طور پر سنگول انہیں پیش کیا تھا ۔ جسے نہرو جی نے الہ آباد کے آنند بھون میوزیم میں رکھوا دیا تھا ۔ جبکہ یہ آنند بھون میں نہیں بلکہ الہ آباد کے میوزیم میں رکھا ہوا تھا ۔ سینئر صحافی ارملیش کے مطابق پنڈت نہرو کو سنگول لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہیں بلکہ تمل ناڈو کے ادھینم مٹھ کے سادھوؤں نے رات میں پونے بارہ بجے ان کی رہائش گاہ پر پیش کیا تھا ۔ کیونکہ وہ ایسا وقت تھا جبکہ نہرو جی سب سے مل رہے تھے ۔ وہ سب کی باتیں قبول کر رہے تھے ۔ وہ جذبات کا احترام کرتے ہوئے کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے سنگول لے لیا اور بعد میں اسے الہ آباد کے میوزیم میں رکھوا دیا ۔ اس لحاظ سے بی جے پی کا دعویٰ من گھڑت اور بے بنیاد ہے ۔
سوشل ایکٹوسٹ اور ماہر تاریخ رام پنیانی کا کہنا ہے کہ جنوب کے چولا راجاؤں میں سنگول کی روایت تھی ۔ شیوائک مٹھ کے سادھو راجا کو سنگول پیش کرتے تھے ۔  نریندرمودی چولا ونس اور راج شاہی سے خود کو جوڑنا چاہتے ہیں ۔ جمہوریت میں اقتدار کی منتقلی دھرم گروؤں کے آشرواد، سنگول سے نہیں ووٹوں کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ پیوش بیبلے نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اپنے خیال کا اظہار کیا کہ سنگول کا تعلق ہندو مذہب سے کم راجاؤں اور بادشاہوں سے زیادہ ہے ۔ ماضی میں جب کوئی حکمراں دوسرے کو اقتدار منتقل کرتا تھا تو علامت کے طور پر سنگول پیش کرتا تھا ۔ تجزیہ کار نیرا چنڈھوک نے "دی وائر” کے اپنے مضمون میں سنگول پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگول بادشاہ یا راجہ کو اپنی رعایا یا پرجا پر حکمرانی کا خدائی حق دیتا ہے ۔ اس سے راجہ کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے ۔ زمانہ قدیم میں راجہ کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا ۔ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ ہونے والے راجہ کو رعایا کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ اقتدار کی منتقلی کے وقت اسے سنگول دیا جاتا تھا ۔ جو راجہ کو رعایا کے ساتھ اخلاقیات سے پیش آنے کی یاد دلاتا تھا ۔ یہ راجہ پر منحصر تھا کہ وہ سنگول کا احترام کرے یا نہ کرے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کی آواز بلند کرنے کی جگہ ہے لیکن وزیراعظم نے اس کا افتتاح اس طرح کیا ہے جیسے ان کی تاج پوشی ہوئی ہو ۔ سنسکرت کے جانے مانے عالم رادھا ولبھ ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ شاستروں یا سنسکرت لٹریچر میں راجیہ ابھیشیک کرنے اور اقتدار کی منتقلی کے وقت سنگول (راج دنڈ) دینے کی کوئی روایت نہیں ملتی ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے دانشور رام مادھو نے انڈین ایکسپریس میں لکھے اپنے مضمون میں سنگول کو دھرموکریسی نصب کرنا بتایا ہے ۔ اس کا مطلب ہے دھرم کا راج یا ہندو راج ۔ حالانکہ نریندرمودی نے 2014 میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں قدم رکھنے پر بھارت کے آئین کو دھرم گرنتھ کہا تھا ۔
بی جے پی اور اس کی حکومت نے گزشتہ نو سالوں کے دوران مذہب کے سیاسی منصوبے اور سیاست کے مذہبی منصوبوں کو ملانے کا کام کیا ہے ۔ اس کی وجہ سے جمہوریت کو لے کر طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ۔ اب سنگول نصب کرکے اس نے صاف کر دیا ہے کہ 2024 کا الیکشن وہ کس بنیاد پر لڑنے جا رہی ہے ۔ بی آر امبیڈکر یونیورسٹی میں پروفیسر اور تجزیہ کار ابھے دوبے کا کہنا ہے کہ دھرم تنتر کا دوسرا نام ہندو راشٹر ہے ۔ جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس میں مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے حکومت کا نہیں ۔ اس لئے وزیراعظم کو سرکاری تقریبات میں مذہب کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ انہیں اپنا مذہبی عقیدہ اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہئے ۔ جمہوریت میں تمام لوگ قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں ۔ اس کی تین خصوصیات ہیں، قانون کی حکمرانی، آئینی مساوات اور سیاسی آزادی ۔
یورپی ممالک میں بادشاہت اور چرچ (مذہب) دونوں کے خلاف لڑ کر جمہوریت قائم ہوئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کے روشن خیال اور باشعور لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم نہ تو ایشور، اللہ کے نام پر مذہب کے ایجنٹوں کا اقتدار چاہتے ہیں اور نہ ہی بادشاہت کے نام پر کسی ایک شخص کا اقتدار ۔ ہم خود سمجھدار اور قابل ہیں، ہم اپنا راج پاٹ خود چلائیں گے ۔ اس طرح جمہوریت بتدریج قائم اور مضبوط ہوتی گئی ۔ اتنا مضبوط کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کی زد میں آگئے ۔ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے 203 خودمختار ممالک میں سے 156 خود کو ریپبلک یا جمہوریہ کہتے ہیں۔ جمہوریت درحقیقت ایسی طاقت ہے جو مذہب اور بادشاہت دونوں کی حرمت پر کھڑی ہے ۔ جب بھارت آزاد ہوا تو ہم نے جمہوریت کو چنا ۔ جس کی اخلاقیات کے لئے کسی سنگول کو نہیں بلکہ آئین کو اپنایا گیا ۔ اب یہ آئین نہ صرف ہمارا سنگول ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ طاقتور چیز ہے ۔
جو صرف اقتدار کی اخلاقیات کے بارے میں ہی بات نہیں کرتا، بلکہ اسے کنٹرول اور رہنمائی کرتا ہے ۔ اسے  بے لگام بننے سے روکتا ہے ۔ ہمارے اقتدار کو کسی سنگول (راج دنڈ) کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ طاقتور چیز ہے آئین ۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہو سکتا ہے؟
میرا جواب ہے نہیں ۔ کیونکہ جب ماڈرن انسان نے اپنی ترقی کے عمل میں بادشاہ اور مذہب دونوں کے اختیار کو رد کیا تو جمہوریت نے جنم لیا ۔ اسی لیے جمہوریت کا سب سے اہم مقام کسی بھی مندر، مسجد یا چرچ سے بلند ہے ۔ جمہوریت کی بنیادی روح مساوات اور بحث ہے اور ہم نے کسی مذہبی ادارے میں اس سطح کی مساوات اور بحث نہیں دیکھی، جیسا کہ دنیا بھر کی پارلیمانوں میں نظر آتی ہے ۔
کیا پھر بھی ہمیں پارلیمنٹ میں سنگول چاہئے؟
 ہرگز نہیں ۔ ہمارے پاس پہلے ہی سنگول سے زیادہ طاقتور چیز موجود ہے اور وہ ہے آئین ۔ پھر نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے وقت جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش تھی ۔ دانستہ یا نادانستہ ہم نے جمہوریت کی سب سے بڑی علامت پارلیمنٹ میں مذہبی اور غیر جمہوری رسومات ادا کرکے جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ اسے کم کرنے کی کوشش کی ۔ یہ باشعور لوگوں کے لئے فخر کا لمحہ تو بالکل نہیں تھا ۔
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist