ایک زمانہ تھا جب صحافت کا معیار غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہوا کرتا تھا جیسا کہ ہمارے ملک کی آزادی میں صحافت نے اہم کردار ادا کیا، جب ملک غلام تھا، انگریز راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مختلف علاقوں میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے مقصد سے کئی اخبارات، رسائل کی ایڈیٹنگ شروع کی گئی تھی۔ ان اخبارات اور رسائل نے ملک کے لوگوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اپنے ابتدائی دنوں میں صحافت نے ایک مشن کے طور پر جنم لیا تھا جس کا مقصد سماجی شعور کو مزید بیدار کرنا تھا۔مہاتما گاندھی، لوک مانیہ تلک، پنڈت نہرو، مولانا آزاد ، مولانا جوہر،گنیش شنکر ودیارتی، وغیرہ عظیم آزادی پسندوں اور عظیم ہستیوں نے اخبارات کو اپنی لڑائی کا ایک اہم ہتھیار بنا لیا تھا، درحقیقت ان میں ایک جذبہ تھا، کوئی انہیں روک نہیں سکتا تھا۔ لیکن مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ آج حد یہ ہے کہ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے صحافت میں داخل ہو رہے ہیں جس سے کرپشن، ناانصافی، ظلم کو فروغ مل رہا ہے اور ہماری جمہوریت دن بدن کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے جو آج نہیں تو کل مہلک ثابت ہو گی۔ صحافت معاشرے کا آئینہ ہے جو معاشرے کی اچھائی اور برائی کو معاشرے کے سامنے لاتی ہے، اب اگر صحافی اور برائی کے درمیان سیٹنگ ہو جائے تو معاشرے کے سامنے نہ اچھائی آئے گی نہ برائی۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 2014 سے قبل تک صحافت اپنے معیار پر کھرا اترا رہا تھا لوگوں کے بنیاد مسائل پر توجہ دی جاتی تھی اور مسند اقتدار میں بیٹھے قائدین سے سوال پوچھے جاتے تھے اور انکی ناکامیوں کا پردہ فاش کیا جاتا تھا لیکن افسوس صد افسوس کہ 2014 کے بعد سے یعنی مودی حکومت کے بر سراقتدار میں آنے کے بعد ملک کا چند مین اسٹریم میڈیا حکومت کے ہاتھوں کا کھلونہ بن کر رہ گیا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کا میڈیا گھرانہ پی ایم مودی کی خوشنودی میں اس قدر اپنے سر کو جھا دیا کہ صحافت کی عظمت اور وقار پوری طرح سے نست و نابود ہو کر رہ گئی۔ یہ سچائی ہے کہ مودی کی خوشنودی میں چند مین اسٹریم میڈیا جھوٹ پر جھوٹ بول کر اور دیکھا کر لوگوں کے ذہن و دل میں ایک دوسرے کے خلاف زہر گھولنے کا کام کر رہا ہے اور یہ کام ہنوز جاری ہے۔مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ اب ملک کو فرقہ وارانہ فساد میں جھونکنے کے لئے فرقہ پرست تنظیموں نے اپنا ایجنڈا مین اسٹریم میڈیا کے کاندھوں پر ڈال دیا ہے جسکو بخوبی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسی کڑی میںگذشتہ روز اپنے آپ کو بڑا صحافی بتانے والا اور ایک بڑا مین اسٹریم میڈیا میں کام کرنے والے صحافی سدھیر چودھری نے اتر پردیش کے بلند شہر کے ایک مندر کی خبر کو جس طرح سے دکھا کر اور بول کر سماج کے اندر زہر گھولنے کا کام کیا وہ یقیناً شرمناک ہے۔ اگر مقامی پولیس نے پردہ فاش کرکے مجرموں کو انکے کیفر کردار تک پہنچانے کا کام نہ کیا ہوتا تو شاید سدھیر چودھری کے زہریلے ٹی وی پروگرام سے بلند شہر میں ایک بڑا فرقہ وارانہ فساد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا ۔ بھلا ہو مقامی پولیس کا جنہوںنے وقت رہتے معاملے کو سلجھا لیا اور پریس کانفرنس کرکے بتا دیا کہ مندر کی مورتی کو توڑنے والے چار مقامی لوگ ہندو تھے۔بلند شہر کے ایس ایس پی شلوک کمار نے بتایا کہ اس واردات کا خلاصہ آسان نہیں تھا لیکن پولیس ٹیموں نے الیکٹرونک سرویلانس، بی ٹی ایس اور اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کو کھنگا لا گیا جس کی بنیاد پر پولیس نے گائوں کے ہی 4نوجوانوں کی نشاندہی کرکے اسے حراست میں لے لیا۔ ایس پی نے یہ بھی بتایا کہ گائوں کے ہی ہریش شرما کے گھر میں 31 مئی کی رات کو سازش رچی گئی تھی۔ جس کے تحت اس طرح کے واردات کو انجام دیا گیا تھا۔ واردات کو انجام دینے سے قبل نوجوانوں نے شراب پی اور ایک ایک کر کے4 مندروں کو نشانہ بنایا17مورتیوں کو توڑا گیا اور پھر پولیس کو گمراہ کرنے کے لئے کچھ مورتیوں کو کھیت میں پھینک دیا گیا یعنی بلند شہر کو پوری طرح نفرت کی آگ میں جھونکنے کا پلان بنایا گیا تھا۔ تعجب تو اس بات کی ہے کہ اس کی پوری تحقیقات کئے بغیر پولیس سے معاملے کی جانکاری لئے بنا صحافی سدھیر چودھری نے اس معاملے کو ہندو مسلم کرنے کی بھر پوری کوشش کی جو اس کے اسکرپٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے جیسے کئی گودی میڈیا چینل نے بلند شہر میں ہندو مسلم کرنے کی پوری کوشش کی جس پر پولیس نے انکے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ ویسے بھی گودیا میڈیا کا پرائم ٹائم شومیں کسی نہ کسی موضوع کو لے کر ہندو مسلم کرنے کا ایجنڈا چلتا رہتا ہے۔ اپنے آقا کو خوش کرنے کی غرض سے ہر روز اس طرح کے ایجنڈے چلائے جاتے ہیں اور جھوٹ کو ہوا دے کر لوگوں کے ذہن کو پرگندہ کیا جاتاہے۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جیسے جیسے 2024 کے انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے چند مین اسٹریم میڈیا یعنی گودی میڈیا بی جے پی کے ایجنڈے کو کامیاب بنانے میں پوری طرح لگ گئی ہے اس کے لئے ملک کی فضا میں زہر گھولنے کا کام تیزی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور گودی میڈیا کو اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ 2024 کا انتخاب بی جے پی کے لئے سخت مشکل ہوگااور یہ بھی کہ اس عام انتخابات میں ترقیاتی ایشو کو لے کر کامیاب نہیں ہونے والے اس لئے ملک کے لوگوں کے بیچ نفرت کا ماحول بنایا جائے جس کے لئے گودی میڈیا ابھی سے ہی سرگرم ہو گئی ہے۔ جس کا بلند شہر ایک جیتا جاگتا مثال ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں فرقہ پرستی کا کھیل جاری ہو گیا ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ملک کا چند مین اسٹریم میڈیا بی جے پی کے منصوبہ کو کامیاب بنانے میںلگا ہوا ہے۔
بہر حال! مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ سمجھدار لوگ جو جانتے ہیں کہ کون سی خبر دکھا کر کیا ہوگا، جب ایڈیٹر میٹنگ میں کہتے ہیں کہ ‘ہاں، یہ زاویہ درست ہوگا، خبر تب ہی دم توڑ دیتی ہے۔ جب آپ کے سامنے ایک چارٹ ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ ہندو مسلم خبریں دکھ کر پڑھتے ہیں، تو آپ کو صحافت میں مسیحا تلاش کرنے کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔آج کل نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا انصاف کی بات کر رہا ہے یا اسے ریٹنگ کی ضرورت ہے۔ جہاں کسی بھی صورت میں بچی کی عصمت دری ‘مسلم’ہندو بچیوں‘کی عصمت دری میں بدل جاتی ہے، خبر دم توڑ جاتی ہے۔ کیونکہ آپ نے لوگوں کے سوچنے کے انداز پر قابو پالیا ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ کسی کا کسی مذہب یا ذات سے تعلق جرم کی وجہ تھا، تب تک میڈیا کو ایسی سرخیاں دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر کسی کا دکھ اس کی ذات کی بنیاد پر ہے تو پھر بھی اسے سرخی میں لکھنا غیر ضروری ہے۔اس پر کچھ اور کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سرخی پڑھ کر خبر کے بارے میں اپنا ذہن بناتے ہیں۔ ان کا سوچنے کا طریقہ پہلے ہی تیار ہے۔ آپ نے ان کی نفرت یا تعصبات کو ہوا دی ہے۔ جبکہ میڈیا کو ایسی ہر خبر کی کوریج میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہ سرخی کو اس طرح رکھنا چاہیے کہ یہ جرم ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ خبر کی مکمل تفصیلات بتانے کے بعد مزید بتایا جائے کہ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ جرم ذات پات،مذہب کی وجہ سے کیا گیا۔یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ لیکن آج کے دور میں میڈیا بائنری میں کام کر رہا ہے۔ اس کے لیے ہر چیز طاقت کے حق میں یا خلاف ہے۔ جب بجلی آتی ہے تو ایک حصہ ہندوستان کے امریکہ بننے کی حد تک خوش ہو جاتا ہے، جب کہ دوسرا حصہ پورے منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہوئے چار گاؤں لے آتا ہے جہاں بجلی نہیں پہنچی۔میڈیا کے زوال کا اس سے بڑی وجہ کیا ہوگی کہ ملک کے پہلے اور دوسرے نمبر پر کھڑے ایک بڑے چینل کا اینکر لائیو گفتگو کے دوران نابالغ بیٹی سے پوچھ رہا تھا کہ تمہارے والد نے خودکشی کر لی ہے، آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ اس کے علاوہ ہر میڈیا پریمی اس سوال سے ضرور چونک گیا ہوگا جس میں ایک خاتون اینکر نے مقتول کی بیٹی سے پوچھا کہ آپ کے والد کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے تھے؟ اب اس سے بڑی شرم کی کیا بات ہو سکتی ہے۔ایسے سوالات پوچھ کر ہم صحافت کی دنیا میں کیا مقام حاصل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی معاشرے میں میڈیا کی ذمہ داری کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اگر میڈیا چاپلوسی کی کڑی سے ہٹ کر ہر خبر کو سنسنی خیز نہ بنا کر درست خبر کو درست شکل میں اور صحیح وقت پر تصدیق کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کرے تو بلا شبہ ملک کے عوام انہیں اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھیںگے۔












