اقتدار کا ناجائز استعمال کیسے کیا جاتا ہے ،انسانی حقوق کا استحصال کیسے کیا جاتا ہے ،آئین و قانون کی دھجیاں کیسے اڑائی جاتی ہیں ۔یہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو بی جے پی سے سیکھنی چاہئیے ۔کیونکہ جمہوریت کے نام پر منتخب ہو کر آنے والی مرکزی سرکار نے گذشتہ نو برسوں میں غیر آئینی کار کردگی کے سارے ریکارڈ توڑنے کے باوجود آج نیک نامی کے جو جھنڈے لہرا رہی ہے اس کی مثال پوری دنیا میں تلاش کے باوجود ملنی مشکل ہے ۔
ایک طرف پہلوان ڈبلیو ایف آئی کے صدر اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن پر جنسی استحصال کا الزام ہے۔ دوسری طرف سنگین الزامات سے بے خوف برج بھوشن سنگھ نے 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
برج بھوشن شرن سنگھ نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ 2024 کا لوک سبھا انتخاب ایک بار پھر اپنے حلقہ قیصر گنج سے ہی لڑیں گے۔ ہندوستان کی چوٹی کی خواتین ریسلرز کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے برج بھوشن شرن سنگھ نریندر مودی حکومت کے 9 سال مکمل ہونے پر اتوار کو اتر پردیش کے گونڈا میں ایک ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
اس ریلی کا اہتمام 2024 کے انتخابات کے لیے بی جے پی کے مہا سمپرک ابھیان کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ ریلی دراصل برج بھوشن سنگھ کی طاقت کا مظاہرہ تھی، جو پہلے ایودھیا میں 5 جون کو ہونا تھی۔ اگرچہ برج بھوشن سنگھ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا براہ راست کوئی حوالہ تو نہیں دیا، لیکن بڑے اطمینان سے انہوں نے اپنی بات کو سمجھانے کے لیے اردو کے ایک شعر کا استعمال کیا۔انہوں نے کہا،
کبھی اشک، کبھی غم، تو کبھی زہر پیا جاتا ہے۔
تب جاکر زمانے میں جیا جاتا ہے،
یہ ملا مجھے محبت کا صلہ،
بے وفا کہہ کر مجھے یاد کیا جاتا ہے۔
موصوف نے اس شعر کے ذریعہ اپنی معصومیت کا جس طرح اعلان کیا اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ برج بھوشن شرن سنگھ کو اپنی کارستانیوں پر ذرہ برابر نہ تو افسوس ہے اور نہ ہی لوک لاج کا کوئی احساس ۔اسے یہ اعتماد ہے کہ اگلے ہفتہ دہلی پولیس جو چارج شیٹ عدالت میں پیش کریگی وہ اس کے حق میں ہوگا ۔یہ اعتماد معمولی نہیں غیر معمولی ہے اور کسی عوامی لیڈر کے لئے ایسے الزام کا سامنا کرنا آسان نہیں ۔ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ واقعہ اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ برج بھوشن پر الزام لگانے والی یہ خواتین ملک کی چنندہ ریسلرس ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی طور پر ملک کے لئے میڈل حاصل کئے ہیں ۔اس الزام نے ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے اور بین الاقوامی ریسلر فاؤنڈیشن نے بھی اس پر اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا ہے ۔گذشتہ دو ماہ سے دہلی اور اس کے نواح کی ریاستوں میں ان پہلوان خواتین کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں ،کھاپ پنچایتوں میں کرو یا مرو کے نعرے لگ رہے ہیں ،مرکزی حکومت کے وزرا کم وبیش تین میٹنگیں ان پہلوانوں کے ساتھ کی ہیں۔اور ان کے مسلہ کو حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے ۔اس کیس کی تحقیقات کے لئے ایک سرکاری کمیٹی بھی بحال کی گئی ہے جو اپنے طور پر ان الزامات کی پڑتال کر رہی ہے ۔ملک کے نامور ہندی اور انگریزی کے اخبارات میں پوری ایف آئی آر کی نقل کو شائع کیا جا چکا ہے ۔سپریم کورٹ کے حکم پر ہی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کئے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود ایف آئی آر میں نامزد ملزم ریلیاں کر رہا ہے اور بڑے اطمینان سے شعر سنا رہا ہے ۔حکومت کے نو سالہ کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کر رہا ہے ۔اتوار کے روز برج بھوشن سنگھ نے مودی حکومت کے کام کی تعریف کی اور گزشتہ نو سالوں کی کامیابیوں کے بارے میں بتایا۔ قبل ازیں برج بھوشن نے سینکڑوں کاروں کے قافلے کے ساتھ اپنے گھر سے ریلی کے مقام تک روڈ شو کیا۔ اس ریلی میں برج بھوشن سنگھ کے اثر و رسوخ والے حلقہ کے تمام چھ اسمبلی حلقوں کے لوگوں نے شرکت کی۔جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب نریندر مودی اور امت شاہ سمیت پوری بی جے پی سرکار کی حمایت اسے حاصل ہے تو پھر اسے کس کا خوف ،اور کیسی شرمندگی ۔












