• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

’پردہ ‘یا ’’حجاب ‘‘ایک مسئلہ کیوں؟

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 21, 2023
0 0
A A
’پردہ ‘یا ’’حجاب ‘‘ایک مسئلہ کیوں؟
Share on FacebookShare on Twitter

حالیہ دنوں سرینگر کشمیر کے ایک کالج میں عبایہ یاحجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج ہوا جو اس کالج کی طالبات نے کیا تھا ، لیکن شُکر ہے اس مسئلے کو بڑھاوا یا سیاسی طور استعمال کرنے کے بجائے ارباب اقتدار نے مسلے کی نزاکت اور اہمیت کا ادراک کرکے فوری اقدامات کئے ، اور آلوک کمار کشمیر ایجوکیشن محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری نے واضح بیان دیا کہ یو، ٹی میں حجاب یا عبایہ پر کوئی پابندی نہیں ، اور اس کے ساتھ ہی پرنسپل وشوابھارتی سکول نے بھی فوری وضاحت دی کہ’’ ہم نے اس طرح کا کوئی آرڈر نہیں نکالا ہے ‘‘، میرے خیال میں اس احتجاج کی نوبت کیوں آئی اور اصل معاملہ کیا تھا اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ محکماتی ذمہ داروں نے معاملے کی نزاکت کو بھانپ کر فوری اور بغیر کوئی دیر کئے معاملات کو درست سمت عطا کی ۔لیکن یہاں ہمیں تھوڈا سا اس حجاب اور عبایہ یا ’’پردے ‘‘کے معاملے پر تھوڈی سی ہی سہی جانکاری ہونی چاہئے تاکہ سمجھا جاسکے کہ حجاب یا پردے کے عنوان سے وقفے وقفے کے ساتھ سونامیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں یا پیدا کی جاتی ہیں ؟،، تاریخی طور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ حجاب سے بہت سارے مغر بی ممالک ذہنی اور جسمانی انتشار میں مبتلا کیوں ہیں ؟اور ہمیں اس بات کا بھی اقرار ہے کہ کئی ممالک میں حجاب پر پابندیاں عائدکی جاچکی ہیں اور جنہوں نے ابھی تک اس زینے کی طرف قدم بڑھایاہی نہیں وہ بھی یہاں تک پہنچنے کے لئے پر تول رہے ہیں ، بھارت میں تو پچھلے برس ایک کالج میں سٹوڈنٹس کو حجاب نہ پہننے یا دوسرے الفاظ میں پردہ کرنے کی جو مما نعت کی جاچکی ہے یہ اپنے آپ میں ایک تحیر انگیز اور فکر انگیز واقع ہے ۔ اصل مسئلہ’’حجاب‘‘ نہیں۔ کیونکہ حجاب مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا اس پس منظر میں کہ یہاں بھارت میں ہزاروں برسوں سے ،یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ویدک زمانوں سے ہی کسی نہ کسی صورت میں پردے کا رواج رہا ہے بلکہ پردہ ، گھو نگھٹ ، چنری، ساڈھی ویدک زمانے سے بھی ڈریس کا حصہ رہا ہے کیگان پال مؤرخ کے مطابق پردے ، گھونگھٹ یا چنری سے چہرہ چھپانے کا رواج زمانہ وسطیٰ سے رہا ہے اور ماہر آثار قدیمہ کا ماننا ہے کہ چتور گڑھ قلعے کی پڑتال سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اس میں زنانہ خانے الگ تھے ، و المیکی نے اپنی رامائن میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ بن باس روانہ ہونے سے پہلے رام نے سیتا ماتا کو گھونگھٹ اٹھاکر عوام کو درشن دینے کی اجازت دی تھی ،یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رام کے زمانے میں پردہ تھا ،بھلے ہی یہ رواج رہا ہو یا بھارتی سنسکاروں میں شامل رہا ہو ، لیکن اس سب کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ ،سکھ برادری داڈھی رکھتی ہے ، پگڑی باندھتی ہے ،کرپان رکھتی ہے جو ان کے مذہبی ڈریس کوڈ کی شناختیںہیں اور اس طرح بھارت میں۔ جو رنگا رنگ تہذیبی اور تمدنی کثرتوں کا حامل ہے کسی پر اعتراض نہیں کیا جاسکتااور اعتراض کرنے کا سوال ہی آئینی اور منطقی طور پر پیدا نہیں ہوتا ، پھر ایک مسلم شناخت نشانے پر کیوں ؟جب کہ یہ بات واضح اور صاف ہے کہ یہ مسلم کلچر میں ہی شامل نہیں بلکہ اہل اسلام کے لئے ایک مذہبی فریضہ اور شرعی حکم ہے۔ اور یہ مسلم خواتین کی اپنی ایک شناخت اور پہچان بھی ہے جس کے بارے میں سوالات اٹھانا قطعی طور پر دین میں مداخلت بے جا کہی جا سکتی ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکی معاشرے جو اس دور کی امامت کر رہے ہیں، کے کلچر ، تہذیب و تمدن اور اقدار کو ساری دنیا پر کلہم طور پر محیط ہونے میں اس وقت بھی اپنی ناتوانی اور ضعیفی کے باوجود اسلام علمی ، عقلی اور معاشرتی چیلنج بن کے ان کی راہ میں کھڑا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نام نہاد مسلم ممالک ہی سہی لیکن اس کے باوجود مغربی اور امریکی تمدن کو پوری طرح نہ تو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی پورے کے پورے ان کے رنگ کو قبول کر رہے ہیں ۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی سے آزادی نسواں کی جو تحریک مسلم ممالک میں متعارف کرائی گئی اس کے پیچھے اصل میں یہی عزائم تھے کہ آہستہ آہستہ اسلامی شعائر اور طرز زندگی کو ہی اسلام کے دائروں سے بہت دور لیا جاسکے اور اس کے لئے یہودی بڑے علما اور فلاسفرس نے ہر خرافات کو علمی اور سائینٹفک لبادوں میں پیش کرکے اقوام عالم اور مسلم قوم کو کچھ زیادہ ہی تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنایا ، مغربی تہذیب و تمدن کا ماحاصل ہی عورت کی وہ آزادی ہے جو بے قیود بے ضابطہ اور کسی بھی دائرے میں مقید نہ ہو اور یہ کہ عورت اپنے جسم کو جس طرح اور جس انداز میں بھی بازار حسن میں پیش کرنا چاہئے ، کرنے کی مجاز ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی ، مذہبی یا سماجی قدغن نہ ہو بلکہ وہ ’’میرا جسم ،میری مرضی کا عملی طور پر چلتا پھرتا اشتہار ہو ‘‘ یہ بہت ہی مختصر سی ڈیفنیشن ہوسکتی ہے لیکن ایک لمحے کے لئے ہم ماضی کو کھوجیں گے تاکہ کئی پہلو ہمیں صاف اور واضح نظر آئیں، انسانی تہذیب و تمدن کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ عورت ذات کے وجود کو ہی شرم اور گناہ کا درجہ تھا ، بہت سی اقوام میں بیٹی کی ذلت سے بچنے کے لئے لڑکیوں کا قتل بھی جائز تھا ، رسول پا ک ﷺ نے ہی عورت کو تاریخ میں پہلی بار عزت اور وقار کا درجہ ہی نہیں دیا بلکہ دنیا سے یہ تسلیم کرایا کہ وہ بھی اللہ کی اسی طرح مخلوق ہے جس طرح کی مرد ،، اور اعلان فرمایا کہ( اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اور اسی کی جنس سے اس کے جوڈ ے کو پیدا کیا ، (النساء) ( خدا کی نگاہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ،(النساء ۳۲) اور اس طرح سے وہ انقلاب پیدا ہوا جس کی چھاپ آج تک مسلم معاشروں میں کچھ دھندلی ہی سہی پھر بھی نظر آتی ہے ، اور جہاں عورت کویہ توقیر احترام ، عظمت اور پر جمال تقد س کا مقام عطا ہوا وہاں اس محترم اور اونچے پاکیزہ مقام پر ٹھہرے رہنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اور اور وہ بندھ باندھ لئے جو انسانی فطرت کے عین مطابق بھی ہیںاور اس تقدس کو روز مرہ زندگی کے معمولات کی بجاآوری کے باوجود بر قرار رکھنے میں انتہائی ممدوع و معاون ہیں ، ان میں حجاب بھی ایک فیکٹر ہے ، جس سے مسلم معاشرے کے چہرے سے نوچنے کے لئے ساری مغربی اور مسلم دشمن اقوام متحد طور پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی معاشروں نے بہت سارے اسلامی احکامات کو اپنے سائنسی ذرائع ابلاغ ، مسلسل منصوبہ سازی اور پیہم تگ و دو سے سے منفی شکل میں پیش کیابلکہ یہ باور کرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈی اور نہ چھوڈ رہے ہیں جن کی وجہ سے آج کا مسلماں بڑی حد تک اس سے نہ صرف متاثر ہے بلکہ ایک بڑی تعداد مسلموں کی ان معاملات میں مغرب کے ہم خیال ہے ، یہی معاملہ حجاب کا بھی ہے ، حجاب کاجہاں تک تعلق ہے۔ قرآنِ حکیم میں کئی جگہوں پر عورت کی توقیر ، عزت و احترام اور اس سے محفوظ و مامون رکھنے کے لئے حجاب کے احکامات دئے گئے ہیں ، اس دور میں عجیب و غریب دلائل اور بحثیں اس منطق تک جان بوجھ کر پہنچائی جارہی ہیں کہ حجاب یا پردہ عورت کی آزادی سلب کرتا ہے ، سماج میں اس سے بنیادی حقوق سے ہی محروم کرتا ہے اور ایک طرح سے عورت کو اپنی زندگی قید میں بِتانا پڑتی ہے ، یہ دو تین جملے شاید مغربی انداز فکراور نقطۂ نگاہ کی عکاسی کرتے ہیں ، لیکن کیا واقعی ایسا ہے ؟ یہی وہ بات ہے جس سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ مرد و زن کے بہتر تعلقات اور ایک فلاحی معاشرے کی استواری پر اگرچہ قرآن حکیم میں بہت ساری آیات کریمہ بنی نوحہ انسان کی رہبری کے لئے موجود ہیں لیکن ہم صرف دو آیت کریمہ کے حوالے سے اللہ کی منشا اور مرضی سے آشنا ہوسکتے ہیں ، ’’اللہ نے تمہارے لئے خود تمہیں ،میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے،اس طریقے سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا ہے ‘‘(الشوریٰ ۱۱) ظاہر ہے کہ اللہ نے تمام حیوانات کی طرح انسان کے جوڑے بھی اسی مقصد کے لئے بنائے ہیں کہ ان کے تعلق سے انسانی نسل جاری ہو۔ انسان کی حیوانی فطرت میں صنفی میلان اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے زوجین باہم مل کر خدا کی زمین کو اپنی نسل سے آباد رکھے،اور پھر مرد کو یاد بھی دلایا کہ ’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ‘‘(البقرہ ۲۲۳) یہاں اس آیت کریمہ میں عورت کو مرد کی کھیتی قرار دے کریہ واضح کیا گیا کہ انسانی زوجین کا تعلق دوسرے حیوانات کے زوجین سے قطعی منفرد اور مختلف ہے ، جس طرح کھیتی میں کسان محض بیج ڈال کر اپنی ذمہ داری سے فارغ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے اور بہتر فصل کے لئے اس کھیت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس میں پانی بھی دیتا ہے ، کھاد بھی مہیا کرتا ہے اور اس کھیت کی اس طرح حفاظت کرتا ہے کہ بے لگام اور آوارہ جانوروں کو اس کھیت میں منہ مارنے کے مواقع میسر نہ آئیں ،در حقیقت کھیتی اور فصل اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان جس نے بیج بوئے ہیں اس کی رکھوالی بھی احسن طریقے سے کرے ، یہی وجہ ہے کہ عورت کی عظمت ، عفت ، عصمت اور تقدس کو بر قرار رکھنے کے بہت سارے عوامل اور حفاظتی تدبیروں میں حجاب ایک بہت ہی مناسب اور بہتر تدبیر ہے ، حجاب یا پردے میں علماء کی رائے میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے ، ، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی کے نصف حصہ پر ہاتھ رکھا (ابِن جریر ) جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آنا چاہئے سوائے چہرے اور کلائی کے (ابو داود) ( ہم جائز اور ناجائز کی تمیز کھو بیٹھے ہیں ، ہم نے قوانین فطرت کی خلاف ورزی کر کے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا مرتکب سزا پائے بغیر نہیں رہ سکتا ، جب بھی کوئی شخص زندگی سے کسی ناجائز امر کی اجازت لیتا ہے زندگی اس کے جواب میں اس سے کمزور بنادیتی ہے ،، یہی وجہ ہے کہ ’’تہذیب روبہ زوال ہے ‘‘۔
یہ ایک ملحد الکسیس کاریل کے خیالات ہیں،جن سے ظاہر ہے کہ بے قید اور بے اخلاق زندگی بہتر اور پروقار معاشرے تعمیر نہیں کرسکتے اوریہ فطرت کا اٹل اصول ہے کہ شہوتوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ، سوائے اس کے کہ ان پر ضبط اور قیود عائد کی جائیں۔

رشید پروین

سوپور

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist