
دنیا بھر میں بیس جون کو پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جا تا ہے،جس کا مقصد دنیا بھر میں موجود پناہ گزینوں کی حالت کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور پناہ گزینوں کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر کی تمام حکومتوں اور عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ تارکین وطن بھی اپنا وطن رکھتے ہیں اور ان سے ایسا برتاو کیا جانا چاہیے کہ انھیں بے وطن ہونے کا احساس نہ ہو۔اپنا گھر، اپنی سرزمین چھوڑنے کا دکھ ایک مہاجر ہی جان سکتا ہے اس پر غیر ملک میں پناہ گزین کی حیثیت سے کسمپرسی کی زندگی بسر کرنا انسانیت کی تضحیک کے مترادف ہے۔بلاشبہ میزبان ملک پناہ گزینوں کو جگہ دے کر انسانیت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے پناہ گزینوں کو کبھی بھی برابر کے شہری حقوق میسر نہیں آتے،4 دسمبر 2000 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ اس دن کو عالمی یوم مہاجرین کے طور پر منایا جائے گا۔ جب لفظ پناہ گزین کی بات آتی ہے تو بہت سے مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں، چاہے وہ تقسیم ہند کے وقت ہندوستان ہجرت کرنے والے لوگ ہوں یا پاکستان ہجرت کرنے والے لوگ ہوں، یا روہنگیا مسلمان،جو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ مہاجرین یا مہاجر کون ہیں؟ یہ اصطلاح اس شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ذات پات، خانہ جنگی یا بین الاقوامی تنازعات جیسے مسائل کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں طوفان، سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے ہی ملک سے بھاگنا پڑتا ہے۔ ان دنوں ترقی کے نام پر مقامی لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ یو این خبرنامہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کی تعداد 110 ملین کی ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے میں سیکرٹری جنرل نے پناہ گزینوں کی نوآبادی کاری کے لئے مزید طریقے ڈھونڈنے اور انہیں اپنی زندگیوں کی تعمیر نو میں مدد دینے کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے پناہ گزینوں کے میزبان ممالک اور لوگوں کے ساتھ یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
گھر سے دور امید:انتونیو گوتیرش نے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ یہ محض اعدادوشمار نہیں ہیں بلکہ یہ ایسی خواتین، مرد اور بچے ہیں جنہیں بہت مشکل سفر کرنا پڑتا ہے اور عام طور پر یہ لوگ اس دوران تشدد، استحصال، تفریق اور بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔یہ دن ہمیں پناہ گزینوں کے تحفظ اور ان کی مدد کا فریضہ اور ان کے ساتھ تعاون کی مزید راہیں کھولنے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔ امسال اس دن کا موضوع ’’گھر سے دور امید‘‘ہے۔ انتونیو گوتیرش ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے ‘یو این ایچ سی آر کی قیادت کر چکے ہیں اور انہوں نے عالمی برداری سے کہا ہے کہ وہ اس امید سے کام لے جسے پناہ گزین اپنے دلوں میں جگائے ہوئے ہیں۔
پناہ گزینوں کو ساتھ رکھیں:کینیا میں وسیع و عریض کاکوما مہاجر کیمپ کے دورے پر موجود ‘یو این ایچ سی آر کے موجودہ سربراہ فلیپو گرانڈی نے اس دن پر کہا ہے کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ پناہ گزینوں کے لئے سرمایہ کاری کو بڑھائے اور اپنے معاشروں میں سکولوں، کام کی جگہوں، طبی نگہداشت کے نظام اور ہر جگہ ہر سطح پر انہیں اپنے ساتھ لے کر چلنے کا عہد کرے۔فلیپو گرانڈی نے ایک ٹویٹ میں اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سال پناہ گزینوں کا عالمی دن ایسے موقع پر آیا ہے جب نصف ملین سے زیادہ لوگ سوڈان سے نقل مکانی کر کے ہمسایہ ممالک میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس ہجرت کو روکنا چاہتے ہیں تو جنگ بند کرنا ہو گی۔
بھوک کا شکار:اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت ‘آئی او ایم نے ایک بیان میں جنگ زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی قوت اور مضبوطی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2001 سے اب تک ادارے کی ٹیموں نے ایک ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کے لئے سمت بندی سے متعلق تربیت فراہم کی ہے۔اس میں تقریباً 700,000 پناہ گزینوں کی نوآباد کاری بھی شامل ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک کی سربراہ سنڈی مکین نے ٹویٹ کیا ہے کہ تنازعات اور موسمیاتی دھچکے مزید لوگوں کو بھوک اور بے گھری کا شکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایف پی ‘یو این ایچ سی آر جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر 40 سے زیادہ ممالک میں لاکھوں پناہ گزینوں کو ضروری مدد مہیا کر رہا ہے۔ آج اور ہر روز یہ پناہ گزین ہماری متواتر مدد کے حق دار ہیں۔
درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں
سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے
پناہ گزین حالات کی وجہ سے ہیں جن کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ جس سے وہ گزرتے ہیں۔ یہ ہماری یا ہم جیسے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ انہیں ایک بار پھر نئی زندگی مل سکے۔ یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ ذات پات کے تنازعہ، نسلی تشدد یا دیگر کئی وجوہات کے نام پر اپنا ملک اور گھر چھوڑنے والے کروڑوں لوگوں کی مشکلیں ختم ہونے والی ہیں یا نہیں،4 ستمبر 2015 کو ترکی (آج کا ترکیہ) کے ساحل سے تین سالہ بچے ایلان کردی کی لاش ملی۔ ان کی تصویر وائرل ہونے پر دنیا حیران رہ گئی۔ ایلان کردی کے والدین شام کی خانہ جنگی سے اپنے بچوں کے ساتھ ہجرت کرکے کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کے لیے نکلے تھے کہ ان کی کشتی ڈوب گئی۔ ماں اور ایلان راستے میں ہی شہید ہوگئے، صرف والد عبداللہ بچ سکا۔ ساحل سمندر پر منہ کے بل پڑی ایلان کی لاش کی تصویر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی تو دنیا شامی مہاجرین سے بھر گئی۔
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
اقوام متحدہ کے مطابق 2011 سے اب تک 6.7 ملین شامی شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایلان کے والد اب عراق کے شہر میں رہتے ہیں۔ اس نے بچے کی تصویر دیکھ کر کہا کہ سارے یورپ نے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے، لیکن یہ صرف چند ماہ کے لیے ہے۔ یورپی ممالک نے ہمیشہ مہاجرین کے لیے فیاضی کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر جرمنی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن ہٹلر کے فاشزم سے جان بچانے کے لیے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے طور پر گئے جہاں انہیں بھی پناہ مدد ملی۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی کے آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہر ضرورت مند پناہ گزین کو پناہ دے گا۔ لیکن آج جرمنی سمیت تمام یورپی ممالک میں بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی بحرانوں کی وجہ سے نو فاشسٹ انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے۔اسی وجہ سے وہاں کے لوگ قانونی اور غیر قانونی طور پر بڑے پیمانے پر جرمنی اور دوسرے ممالک میں آنے والے مہاجرین کو ان بحرانوں کی وجہ سمجھ رہے ہیں۔آج جب دنیا بھر میں دائیں بازو تیزی سے جڑیں پکڑ رہا ہے، نسلی اقلیتوں اور مذہبی گروہوں پر حملے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران کی وجہ سے لوگ بہتر زندگی کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں پنجاب، گجرات جیسی ترقی یافتہ ریاستوں سے لوگ کینیڈا کے راستے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی لوگ برفانی طوفانوں میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔، اس قسم کی خبریں اکثر اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ تیسری دنیا کے غریب ممالک کا مسئلہ ہے، لیکن یہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ سرد جنگ کے دوران، مشرقی یورپ سے مغرب کی طرف بڑے پیمانے پر فرار کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ بہت سے لوگ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے درمیان دیوار کود کر فرار ہونے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔سرد جنگ کے بعد، یوگوسلاویہ کے بوسنیا میں بڑے پیمانے پر نسلی تشدد ہوا، جس نے دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کی یاد دلا دی، جس سے مہاجرین کا ایک بڑا بحران پیدا ہوا۔ پچھلے ایک سال سے سامراجیوں کی چالوں کی وجہ سے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں اور اربوں کی املاک تباہ ہو رہی ہیں۔یوکرین کے باشندے جنگ سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں پولینڈ اور رومانیہ جیسے ممالک میں بھاگ رہے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو ایک بار پھر مہاجرین کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔مہاجرین شروع سے ہی ہندوستان آتے رہے ہیں۔ 1959 میں تبت پر چین کا قبضہ ہوا، تب لاکھوں تبتیوں نے تبتی مذہبی رہنما دلائی لامہ کے ساتھ ہندوستان میں پناہ لی اور وہ اب بھی ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 46,000 پناہ گزین موجود ہیں جب کہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سے کئی گنا زیادہ مہاجرین افغانستان، برما اور سری لنکا سے آتے ہیں۔ پناہ گزینوں کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ سے لبرل رہی ہے۔مرکز میں بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلم پناہ گزینوں کے خلاف نفرت بڑے پیمانے پر پھیلنے لگی، خاص طور پر سنگھ پریوار کے ذریعہ برما کے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کے خلاف۔ یہ سچ ہے کہ اس میں بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر ہندوستان آئے تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بہت سے ہندوستانی اپنی روزی روٹی کی تلاش میں تھائی لینڈ سے غیر قانونی طور پر یورپ امریکہ جا رہے ہیں جس کے بارے میں حکومت اکثر خاموش رہتی ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت پناہ گزینوں میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کر رہی ہے، اس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو سکھ پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے، لیکن مسلمان مہاجرین کو درانداز کہہ کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یا ملک سے نکال دیے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔ملک میں ‘این آر سی کا قانون بھی اسی وجہ سے لایا گیا تھا، حالانکہ عوامی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو اسے فی الحال ملتوی کرنا پڑا تھا۔ پناہ گزینوں کے ساتھ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے والا یہ قانون مہاجرین کے مفاد میں بنائے گئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے، جس پر حکومت ہند نے بھی اپنی رضامندی دی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق،’’اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 35 ملین سے زائد افراد مختلف وجوہات کی بناء پر مختلف ممالک میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے رہ رہے ہیں: بین الاقوامی جنگیں، خانہ جنگیاں اور مختلف ممالک میں نسلی اور نسلی قتل عام۔‘‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد۔آج پوری دنیا میں معاشی و سماجی بحران بڑے پیمانے پر بڑھ رہے ہیں، اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لوگ بڑے پیمانے پر بے گھر ہو رہے ہیں۔ سامراجی لوٹ مار اور مسابقت عروج پر ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد، جنگیں اور خانہ جنگی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے، جس سے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کا ایک بڑا بحران پیدا ہوتا ہے، اور ایک شورش زدہ دنیا میں اور بھی زیادہ بدامنی پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے آج پوری دنیا میں مہاجرین کے حق میں وسیع پیمانے پر بیداری کی ضرورت ہے۔
پناہ گزینوں کی ایک اور کیٹیگری ہے جس کی اکثر اقوام متحدہ سمیت تمام تنظیمیں تردید کرتی ہیں۔ یہ وہ مقامی لوگ ہیں جنہیں کان کنی، بڑے ڈیموں اور بجلی گھروں جیسے بڑے منصوبوں کی تعمیر کے لیے ان کے پانی، جنگلات اور زمین سے محروم کیا جا رہا ہے۔ چاہے وہ اوڈیشہ، انڈیا کی ‘نیامگیری پہاڑیاں ہوں، جن میں باکسائٹ کی بڑی مقدار موجود ہے یا نرمدا وادی جیسے پانی کے بڑے منصوبے۔ جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔
یہاں کے مقامی قبائلیوں کو پولیس فوج وغیرہ کے زور پر یہاں سے بھگا دیا گیا۔چلتے چلتے اپنے ہی ملک میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ یہی رجحان افریقہ، میکسیکو اور برازیل میں بھی فروغ پا رہا ہے۔ اس کے خلاف ان جگہوں پر بڑی تحریکیں ابھر رہی ہیں، جنہیں حکومتیں انتہا پسند یا ماؤ نواز کہہ کر دبا رہی ہیں۔ کیا ایسے بے گھر لوگوں کو پناہ گزین کا درجہ نہیں ملنا چاہیے؟لہٰذا پناہ گزینوں کی امداد انسانی ہمدردی کے تحت ضرور کی جاسکتی ہے، تاہم اس موقعے پر شہریوں کو چاہئے کہ حفظِ ماتقدم کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں۔پناہ گزینوں کو درپیش مسائل میں غیر انسانی سلوک، رہائش سے محرومی، خوراک کی کمی اور ظلم و تشدد شامل ہیں جن میں سے ہر ایک مسئلے کا حل عوام کے پاس نہیں ہوتا، اس لیے عالمی برادری کو چاہئے کہ بین الاقوامی سطح پر پناہ گزینوں کی امداد کیلئے مکینزم ترتیب دے جس کے تحت عوام الناس ان کی مدد کرسکیں۔
اسلم رحمانی












