
ذی الحجہ کا پہلا عشرہ یعنی ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بڑی فضیلت آئی ہے، اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن حج بھی ہے، جو اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ اسی عشرہ میںوقوفِ عرفہ کیا جاتا ہے، اسی عشرہ میں منیٰ میں شیطان کو کنکریاںمارنے کا عمل کیا جاتا ہے لیکن یہ مذکورہ تمام اعمال ایک مقام کے ساتھ خاص ہیں، ان اعمال کو اسی جگہ کیا جاسکتا ہے لیکن اسی عشرہ کی ایک اہم عبادت قربانی کسی خاص جگہ پر نہیں کی جاتی بلکہ دنیا کے کسی کونے میں بھی مسلمان ہوں اور ان کے اندر قربانی کرنے کی شرائط موجود ہوں تو قربانی کرنا واجب ہوگا، قربانی کیسے واجب ہوئی اور آخر یہ عید الاضحی پر جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے تویہ کس نبی کی سنت کو یاد کرتے ہوئے کی جاتی ہے اس کی تاریخ کیا ہے۔ تو دوستو اللہ تعالیٰ اس بارے میں قرآن میں فرماتے ہیں: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْ اَرٰی فِیْ الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یَا اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ۔کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی بیٹا ہے جو دعائوں اور بڑے جتن کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوا تھا، ویسے تو جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور اگر بچہ نکاح کے کافی عرصہ بعد پیدا ہو تو والدین کی خوشی کو الفاظ میںبیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حضرت سارہ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، تو پھر خود حضرت سارہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کانکاح حضرت ہاجرہؓ سے کرایا اور انہیں کے بطن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے بیٹا عطا کیا۔ ظاہر ہے کہ عمر ضعیفی میں والدین کو سامانِ رونق میسر ہوگیا، ابھی بچہ چند سال ہی کا ہوا تھا، بقول مفسرین حضرت اسماعیل کی عمر تیرہ سال تھی تو حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں اور یہ سب جانتے ہیں کہ انبیاء کرام کا خواب بھی مثل وحی سچا ہوتا ہے، یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اللہ چاہتا تو بذریعہ فرشتہ بھی بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دے سکتا تھا، مگر خواب میں دکھانے کی حکمت بظاہر یہ تھی کہ حضرت ابراہیم کی اطاعت شعاری مکمل طور پر ظاہر ہو جائے، خواب میں دئیے گئے حکم کے لئے انسانی نفس تاویلات کی گنجائش نکال سکتا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری طرح اطاعت شعاری کا ثبوت دیتے ہوئے سر تسلیم خم کردیا مگر اس خواب کی تکمیل صرف حضرت ابراہیم کی اطاعت میں نہ تھی بلکہ ان کے لخت حضرت اسماعیلؑ کو بھی اللہ کی بارگاہ میں خود کو پیش کرنا تھا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کے پاس تشریف لے گئے اور بیٹے سے کہا کہ بیٹا ایسا ایسا معاملہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں تمہارا کیا کہنا ہے؟ اب ظاہر ہے کہ بیٹا بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا، خون کا اثر تو آنا ہی تھا، کہنے لگا : اباجان! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکم دیا ہے آپ اس کی تکمیل کریں، میری فکر نہ کریں، آپ مجھے انشاء اللہ صابرین میں سے پائیں گے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے سے رائے طلب کرنا اس لئے نہیں تھا کہ ان کو خواب کے سلسلے میں کوئی تردد تھا بلکہ وہ تو اپنے بیٹے کو آزما رہے تھے کہ میں تو اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرچکا ہوں، اب دیکھنا چاہتا ہوں کہ بیٹا اس آزمائش کو کس حد تک قبول کرتا ہے اور دوسری حکمت اس میں یہ بھی ہوسکتی ہے کہ میں تو راضی ہوچکا ہوں، بیٹا بھی راضی ہوجائے تو دونوں کے لئے یہ کام آسان ہوجائے گا کہ اچانک میں بغیر بتائے اسے ذبح کردوں، اس سے بہتر ہے کہ وہ راضی ہوجائے تو میرا ذبح کرنا اور اس کا ذبح ہونا دونوں آسان ہوجائیں گے۔ یہاں حضرت اسماعیل کی ذہانت کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف خواب کا ذکر کیا تھا اور حضرت اسماعیل کیا کہہ رہے ہیں کہ آپ کو جو حکم ملا ہے اس کی تکمیل کرلیجئے کہ اتنی کم سنی میں بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام جانتے تھے کہ انبیاء کرام کا خواب بھی مثل وحی سچا ہوتا ہے۔
یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ حضرت اسماعیل نے انشاء اللہ کی قید لگادی جو تواضع اور ادب دونوں پر دلالت کر رہی ہے کہ یہ جو میں قربان ہونے جارہا ہوں، اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، یہ تو اللہ کی عطا کردہ توفیق سے ہوگا۔ اگر وہ چاہے گا تو میں قربان ہوجائوں گا، گویا کہ اپنے معاملات کو اپنی قربانی کو حضرت اسماعیل نے اللہ کی مشیت پر موقوف کردیا اور دسری وجہ ہے کہ تواضع کہ اذیت اور آزمائش کے وقت صبر کرنا میرا ہی کمال نہیں ہوگا، بلکہ اور بھی دنیا میں بہت صبر کرنے والے ہیں، تواضع ہو تو ایسا۔
آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَلَمَّا اَسْلَمَا بہرحال دونوں اللہ کے حکم پر راضی ہوگئے اور قربانی کا رادہ کرلیا، یہاں لَما کا جواب موجود نہیں ہے یعنی آگے یہ نہیںبتایا گیا کہ جب یہ سب ہوگیا دونوں راضی ہوگئے تو پھر کیا ہوا۔ شاید اس میں اشارہ ہو اس طرف کہ باپ بیٹے کا یہ اقدام اس قدر عجیب و غریب تھا کہ الفاظ اس کی کیفیت کو بیان کر ہی نہیں سکتے، البتہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہکانے کی کوشش کی، ہر بار حضرت ابراہیم نے اسے سات کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ اسی محبوب عمل کو ہر سال منیٰ کے تین جمرات پر کنکریاں مار کر یاد کیا جاتا ہے۔بالآخر دونوں باپ بیٹے جب قربان گاہ پر پہنچے تو حضرت اسماعیل نے اپنے والد سے چند باتیں کہیں جو واقعی بڑی عجیب و غریب ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اعلیٰ ظرفی اور صبر و استقامت کی کھلی دلیل ہیں۔ چنانچہ کہنے لگے ابا جان! مجھے اچھی طرح سے باندھ دیجئے تاکہ مجھے تکلیف نہ ہو اور میں جلد سے جلد اللہ کی راہ میں قربان ہوجائوں، اپنا کپڑا ذرا دور رکھیں، میرا خون اس پر لگ گیا تو کہیں میرا ثواب کم نہ ہوجائے اور اس لئے بھی کہ اگر میری والدہ آپ کے کپڑے پر خون دیکھیں گی تو انہیں بہت غم ہوگا۔ جب آپ میری والدہ کے پاس جائیں تو انہیں میرا سلام کہہ دینا اور اگر آپ میرا کپڑا والدہ کے پاس لے جانا چاہیں تو لے جاسکتے ہو، شاید ان کو میرا کپڑا دیکھ کر کچھ تسلی ہوجائے۔
ذرا سوچو یہ سب الفاظ سن کر باب کے دل پر کیا گزری ہوگی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام صبر و ضبط کا دامن تھامے ہوئے کہنے لگے بیٹا: تم اس عظیم کام کو میرے لئے آسان کررہے ہو۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے ’’وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیْن‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل خاک پر لٹا دیا، اصل میں اس طرح پیٹ کے بل لٹانے کی فرمائش خود حضرت اسماعیل نے کی تھی کہ اباجان اگر آپ مجھے سیدھا لٹائیں گے تو شفقت پدری اس قربانی میں حائل ہوجائے گی، لہٰذا آپ مجھے پیٹ کے بل لٹا دیجئے تاکہ میرا چہرہ آپ کو نظر نہ آئے اور آپ کے لئے چھری پھیرنا آسان ہوجائے۔
آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَنَادَیْنَاہُ اَنْ یَا اِبْرَاہِیْمُ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلَآئُ الْمُبِیْنُ وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔کہ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے ہی جارہے تھے کہ غیبی آواز آئی اے ابراہیم تم نے خواب سچا کردیا یعنی ہم نے بذریعہ خواب جو آپ سے کرنے کو کہا تھا اور جس آزمائش میں آپ کو مبتلا کیا تھا آپ اس پر پورے اترے ہیں اور ہم ایسے ہی نیک لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ اللہ نے آسمان سے بڑا ذبیحہ بھیج دیا۔ روایات میںآتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس ذبیحہ کو لے کر آئے تھے۔ باپ بیٹے کی یہ عظیم الشان قربانی اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ اس نے قیامت تک کے لئے ہر سال اسے ہر صاحب مال مسلمان پر واجب قرار دیا۔












