عام انتخاب 2024 سے قبل محاذ کی ایک اور میٹنگ بنگلور میں ہونے والی ہے ۔آپ کو یاد ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے لئے کوشان بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے پچھلے ماہ اس سلسلے کی ایک میٹنگ پٹنہ میں کی تھی جس میں کم و بیش ملک کی 19اپوزیشن جماعتوں نے حصہ لیا تھا ۔اور خبر ہے کہ بنگلور کی میٹنگ میں اپوزیشن جماعتوں کی تعداد بڑھ کر 24بھی ہو سکتی ہے ۔یعنی یہ کنبہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ لیکن آج میں اس اپوزیشن محاذ کی ایک ایسی پارٹی کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جو کانگریس کے تنے سے نکلی ہوئی شاخ ہے لیکن اس کا رنگ روپ سب مختلف ہے ۔میری مراد بنگال کی ترنمول کانگریس سے ہے جس کی سر براہ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر بنگال کے پنچایتی انتخاب میں بی جے پی کو شکست دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بنگال کی زمین پر ان کا قبضہ برقرار ہے ۔ہر چہار طرف گفتگو تو یہی ہو رہی ہے کہ ترنمول کانگریس نے بی جے پی کو شکست دی ہے ۔لیکن اگر غور سے دیکھیں تو بی جے پی نے وہاں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ دونوں کو شکست دیا ہے اور دوسرے نمبر کی پارٹی بن چکی ہے۔اور بنگال کی کمیونسٹ پارٹیوں کی یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ بنگال میں ممتا بنرجی ہی بی جے پی کو آگے بڑھنے میں مدد کر رہی ہیں ۔لیکن کمیونسٹوں کی اس دلیل کو بنگال کے مسلمان ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔کیونکہ بنگال کے مسلمانوں کے سامنے وہ پارٹی اہم ہے جو بی جے پی کو شکست دیتی نظر آ رہی ہے ۔پنچایت الیکشن میں ممتا بنرجی اپنی کامیابی کے پیش نظر بنگلور کی میٹنگ میں نہایت اعتماد کے ساتھ اپنی یہ شرط پیش کر سکتی ہیں کہ کانگریس بنگال میں لیفٹ فرنٹ اور ترنمول میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے ۔کیونکہ بنگال میں کمیونسٹوں کی کارکردگی میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی ہے ۔اور ایسا لگنے لگا ہے کہ ان کے جو لوگ بی جے پی میں ممتا کو ہرانے کے لئے گئے تھے وہ سب پوری طرح زعفرانی ہو گئے ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس لیفٹ سے کنارہ کشی کر سکتی ہے ؟ایسا لگتا ہے کانگریس کو بنگلور میٹنگ سے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کر لینا چاہئے ۔کیونکہ فی الحال بنگال میں کانگریس اور لیفٹ کی پارٹیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں ۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان دونوں پارٹیوں کی مقامی لیڈرشپ ہے جو پارٹی کو نئی توانائی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی مدد کرنے کی حالت میں نہیں ہیں ۔میرا اپنا اندازہ تھا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور کرناٹک میں اس کی جیت کے علاوہ ممتا بنرجی کے ذریعہ بنگال میں مسلمانوں اور ان کے مسائل کو نظر انداز کئے جانے کے بعد بنگال کے مسلمانوں کا ووٹ کانگریس کی طرف منتقل ہو جائے گا ۔لیکن پنچایت انتخاب کے نتائج کے بعد جب میں نے چند بنگالی اخبارات اور چینل کے صحافیوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کانگریس کی طرف مسلم ووٹرس کا جانا طئے تھا لیکن کانگریس کی طرف سے پہل ہی نہیں ہوئی ۔خاص طور پر بنگال کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری سے ریاست کے لوگ سخت ناراض ہیں ۔آج بنگال میں کانگریس کی بدحالی کی وجہ لوگ کانگریس کے صدر کو ہی سمجھ رہے ہیں ۔اور کانگریس کی اس کمزوری کا بنگال میں ممتا بنرجی ضرور فائدہ اٹھانا چاہینگی ۔در اصل بنگال کی کمیونسٹ پارٹی ہو یا کانگریس عوام کے درمیان اور خاص کر مسلم حلقہ میں ممتا بنرجی کے این ڈی اے میں شامل رہنے کی تاریخ کو دہراتے ہیں جبکہ ممتا بنرجی شاید ہی کوئی موقع بی جے پی کی مخالفت کا چوکتی ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ بنگال کے مسلمان ہنوز ترنمول سے الگ نہیں ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے بی جے پی کو شکست دینے والی واحد پارٹی ترنمول کانگریس ہی ہے ۔اور تازہ پنچایتی انتخاب کے نتائج نے تو اس بات کو پوری طرح ثابت کر دیا ہے کہ بنگال میں ممتا بنرجی عام انتخاب میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ کانگریس کو چند سیٹوں پر تنہا لڑنے کی اجازت دے سکتی ہیں ۔لیفٹ فرنٹ سے ان کا کوئی سمجھوتہ ہونا بہت مشکل ہے ۔اور اپنی دلیل کے لئے ممتا کے پاس بنگال کا تازہ رپورٹ کارڈ ہے ۔
مغربی بنگال کے تین سطحی پنچایتی انتخابات اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے ہیں۔ بی جے پی کو پارٹی کے تجربہ کار لیڈروں کی رہائش گاہوں کے قریب پولنگ بوتھ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکمراں ترنمول کانگریس نے ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے جہاں 2019 کے لوک سبھا انتخابات اور 2021 کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو بڑی حمایت حاصل تھی۔ یہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پارٹی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہےایسا ہی ایک علاقہ شمالی بنگال کا کوچبہار ہے۔ یہاں تین سطحی پنچایتی انتخابات میں ترنمول کانگریس کا غلبہ رہا۔ گرام پنچایت ہو یا پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد، پارٹی نے ہر جگہ جیت درج کی ہے۔ یہ مرکزی وزیر نشیت پرمانک کے اثر و رسوخ والا علاقہ ہے۔ لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں تمام تر مشکلات کے باوجود یہاں بی جے پی کو برتری حاصل ہوئی تھی۔ اس بار یہاں ترنمول کانگریس کی جیت نے پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ یہاں سے ممتا بنرجی کے کابینہ کے ساتھی ادین گوہا نے کہا کہ ترنمول نے تین سطحی پنچایتی انتخابات میں پورے شمالی بنگال میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بار بنگلہ دیش کی مہاجر برادری متوا کے اکثریتی علاقے میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مرکزی وزیر اور بنگاوں سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ شانتنو ٹھاکر کے بوتھ پر بھی ترنمول کانگریس کا جھنڈا لہرایا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے سبرت ٹھاکر کے گڑھ میں بھی ترنمول نے جیت حاصل کی ہے۔ یہاں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو کافی ووٹ ملے تھے۔ شانتنو ٹھاکر کا گھر گائے گھاٹہ کے اچھا پور نمبر دو گرام پنچایت علاقے میں ہے۔ یہاں پولنگ اسٹیشن نمبر 42 ہے۔ یہاں سے بی جے پی امیدوار شریشٹھ مردھا ہار گئی ہیں اور ترنمول امیدوار ریتا منڈل جیت گئی ہیں۔ اسی طرح سابق ریاستی صدر اور پارٹی کے آل انڈیا نائب صدر دلیپ گھوش کے گھر کے قریب پولنگ اسٹیشن میں بھی ترنمول کانگریس نے جیت حاصل کی ہے۔
( شعیب رضا فاطمی )












