
پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی تاریخ کا اعلان بہت پہلے ہو چکا ہے۔ اعلان کے مطابق مانسون سیشن ۲۰ جولائی سے شروع ہو کر ۱۱ اگست تک جاری رہے گا اکیس دنوں کے اس طول طویل سیشن میں کل ۱۷ اجلاس ہوں گے اور ایک اطلاع کے مطابق اس میں ۱۵ نئے بل پر بحث و مباحثہ کا امکان ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ منصوبہ بند طریقے پر اور سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق لا کمیشن آف انڈیا نے عین مانسون اجلاس سے پہلے یونیفارم سول کوڈ کے مسئلے پر لوگوں سے رائے طلب کی ہے۔ تاکہ مانسون اجلاس میں اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکے۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کی نیت اس سلسلے میں بالکل صاف نہیں ہے۔ اس کے پاس الیکشن لڑنے کے لئے اب کوئی ہتھیار باقی نہیں بچا ہے۔ وہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ رسوئی گیس کی قیمت بڑھتے بڑھتے اب ڈیڑھ ہزار کو پہنچنے ہی والی ہے۔ مہنگائی اتنی بے لگام ہو چکی ہے کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہے۔ ٹیکس کے نام پر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی ٹیکس عائد کردیا گیا۔ بےروزگاری کا یہ عالم ہے کہ ایم اے پی ایچ ڈی اور عالم فاضل نوجوان سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ ان سب باتوں سے نظر پھیر کر حکمراں جماعت محض لفّاظی یا مذہبی نعرے بازی کے بل پر سرکار چلا رہی ہے۔ ایسے میں اس کے پاس پبلک کو دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ بھکتوں کے علاوہ عام انصاف پسند شہریوں کے سامنے اس کے جھوٹ کا پول کُھل چکا ہے۔ اب وہ اس کی لفاظیوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ جس کا واضح ثبوت کرناٹک میں اس کی کراری شکست ہے۔ لہٰذا اب اُسے مذہبی جذ بات کو بھڑکائے بغیر کامیابی حاصل ہونا مشکل ہے کیونکہ یہی ایک نسخہ اس کے پاس ایسا بچا ہے جو ہمیشہ تیر بہ ہدف ثابت ہوا ہے۔ اس لئے اب وہ پرچانے اور پُھسلانے سے زیادہ مذہبی جذبات بھڑکانے پر لگی ہوئی ہے۔ نصابوں میں حتی الامکان جس قدر ترمیم و تنسیخ کی جاسکتی تھی کی جا چکی ہے۔ فرقہ وارانہ ذہنیت کے لوگوں کو، بلکہ مادرِوطن کے غدّاروں کو قومی ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مذہبی اشتعال انگیزی کے جتنے حربے ہوسکتے ہیں یکے بعد دیگرے آزمائے جا رہے ہیں۔ ازاں جملہ ایک بڑا حربہ یکساں سِوِل کوڈ کا بھی ہے۔ بی جے پی اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ حربہ ناکام ہونے والا نہیں ہے کیوں کہ مسلمان اپنی شریعت سے علیٰحدہ نہیں ہو سکتا۔ وہ مذہب کے لئے جان دے سکتا ہے لیکن اس کا سودا نہیں کرسکتا۔ یہ حربہ اُسے تلِملا کے رکھ دے گا۔ اس لئے اس نے جان بوجھ کر عین الیکشن سے پہلے اس مسئلہ کو لا کر کھڑا کیا ہے تاکہ ہندؤں میں اسے دھرم گُرو کا درجہ مل سکے۔ اُسے مسلمانوں اور سیکولر مزاج کے لوگوں سے تو کچھ ملنا نہیں ہے اس لئے وہ چاہتی ہے کیوں نہ کم از کم متعصب ذہنیت کے لوگوں کو باندھ کر رکھا جائے۔ کیوں کہ اگر ادھر کے کچھ ہی لوگ بھٹک کر اپوزیشن کی طرف چلے گئے تو خود اس کا کہاں ٹھکانہ ہوگا۔ کرناٹک کی شکست نے اسے اور بھی خوفزدہ کر دیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ مانسون سیشن میں سب سے اہم بحث اسی موضوع کے تعلق سے ہوگی بلکہ یہ بھی ممکن ہےکہ کسی اجلاس میں اس کو پیش کرنے اور منظور کرانے کی کوشش بھی کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس موقع پر مسلمانوں اور اپوزیشن جماعتوں کا کیا طرزِ عمل ہونا چاہئے۔ ان حالات سے کیسے نِمٹا جائے۔ مسلمان تو اپنی جانب سے جو کچھ ہو سکتا ہے اس ظالمانہ بل کے نفاذ کو روکنے کے لئے کر رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ انھوں نے لا کمیشن کی سائٹ پر لاکھوں لاکھ کی تعداد میں اپنا موقِف ظاہر کر دیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ سرکار اپنے ارادے سے باز آنے والی نہیں ہے۔ اس کا کردار ہمیشہ مسلم مخالف رہا ہے اور وہ رہے گا ہی۔ وہ سیکولر نہ پہلے کبھی تھی اور نہ ہوگی۔ اُسے کیا فرق پڑتا ہے اگر اس بل کے نفاذ سے جمہوریت کا چہرا ہی مسخ ہوجائے اُسے تو ووٹ چاہئے۔ اس کے لئے جمہوریت کا قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ ہندوستان کے آئین کا مزاج جُمہوری ہے۔ اس میں بنیادی حقوق کی ذیل میں ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اور اپنے نِجی اُمور کو اپنے مذہب کے مطابق انجام دینے کی آزادی دی گئی ہے۔ جس ملک کے آئین میں بنیادی حقوق کے تحت اس طرح کی آزادی فراہم کی گئی ہو وہاں یکساں قانون کی بات کرنا گویا جمہوریت کو تار تار کرنا ہے۔ اس طرح کی بات کرنے والے کو دیس کا غدّار سمجھا جانا چاہئے۔ جسے اپنے ملک کی عوام اور اس کے دین و مذہب سے دُشمنی ہو اُس کے ہاتھ میں اقتدار کی لگام کیسے دی جاسکتی ہے۔
اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر اس بل کے خلاف لڑنا ہوگا بلکہ یہ باور کرا دینا ہوگا کہ یکساں سول کوڈ ایک جمہوریت مخالف بل ہے جو خود آئین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ اور قطعی غیر ضروری۔ ملکی نظام کی بہتری کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرح کے غیر ضروری، ازکار رفتہ اور بنیادی حقوق سے متصادم بل کو نافذ کرنے کی کوشش گویا آئین کو بدلنے کی سازش ہے۔ اس غیر آئینی بل کے نفاذ کی نہیں اس کو بدلنے اور آئین سے خارج کرنے کی ضرورت ہے، خواہ اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ اپوزیشن جماعتوں میں سے ہر ایک کو اس کی تنسیخ کا عزم اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنا ہوگا تاکہ وہ ہندوستان کے ایک بڑے طبقے کا دل جیت سکے اور جمہوریت کے خوشنما چہرے کو اس قسم کے غیرآئینی بل کے داغ دھبوں سے صاف کیا جاسکے۔ بی جے پی کو شاید یہ بھی مغالطہ ہے کہ آج جو بل پارلیمنٹ میں وہ اپنی اکثریت کے بل پر منظور کروا سکتی ہے آئندہ اکثریت کے فُقدان میں اس کا بدلنا ناممکن ہوجائے گا لیکن اسے معلوم نہیں کہ آہنی ارادوں کے آگے اس طرح کی رکاوٹیں کبھی سدّ راہ نہیں ہوتیں۔ آخر حق وانصاف کے تیز و تند جھونکوں کے سامنے باطل کے تودۂ خس و خاشاک کی حیثیت ہی کیا ہے۔ شرط یہ ہے کہ لڑائی ایمانداری اور خلوص سے لڑی جائے۔ ہم نے جب چاہا تو انگریزوں سے آزادی لے لی اور ہم جب چاہیں گے تو ایسے غیر جمہوری عناصر سے بھی آزادی ملے گی۔ البتہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو اتحاد اور حکمتِ عملی سے کام لینا ہوگا۔ لیکن اگر اپوزیشن پارٹیوں نے آپس میں گٹھ جوڑ پیدا نہیں کیا، ان کا اتحاد ذاتی مفاد پر مبنی ہوا یا انھوں نے اجتماعی مفاد میں چشم پوشی، مصلحت اور مفاہمت سے کام نہیں لیا اور ادّعائی باتوں پر لڑتی رہیں تو ان کا شیرازہ بکھر جائے گا اور غیر جمہوری طاقتوں پر غلبہ پانے کا خواب قیامت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔












