
بنگلورو میں اپوزیشن اتحاد کے مظاہرے سے پہلے پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا جو مظاہرہ ہوا اس سے بی جے پی میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ بی جے پی کو این ڈی اے کو بہت حد تک بھول گئی تھی اور اس کے اندر سے ایک ایک کر کے لوگ نکل گئے تھے پھر اسے این ڈی اے کو زندہ کرنے اور اپوزیشن سے مقابلہ کرنے کی بات ستانے لگی۔بنگلور میں گزشتہ روز(17جولائی) سے 26سیاسی پارٹیوں کا اجلاس شروع ہوا ہے۔ آج اس کا آخری دن ہے،جس طرح بنگلور میں سیاسی پارٹیوں کا اجتماع اور اتحاد کاپرجوش مظاہرہ ہورہا ہے اور پورے ملک کی نظریں اس پرٹکی ہوئی ہیں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا جو اپوزیشن کے اتحاد کو بدعنوان لیڈروں کاجم گھٹا کہہ رہے ہیں۔حالانکہ اس جم گھٹے سے بی جے پی کے لیڈران کافی پریشان نظر آرہے ہیں۔صحیح معنوں میں بی جے پی کوکرپشن کی واشنگ مشین کہنا غلط نہ ہوگا۔ہر قسم کے بد عنوان لیڈروں کو این ڈی اے میں نہ صرف شامل کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی پذیرائی ہو رہی ہے ان کو نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ تک کا عہدہ سونپا جا رہاہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھوپال میں این سی پی کے جن جن لیڈروں کو بد عنوان کہہ کر پکارا تھا اور انہیں سخت سے سخت سزا دلانے کی بات کہی تھی اس کے دوسرے یا تیسرے روز این سی پی کے اجیت پوار کو این ڈی اے کی مہاراشٹر حکومت میں ان کے آٹھ نو لوگوں کے ساتھ شامل کرلیا۔اجیت پوار پر کرپشن کاانتہائی سنگین الزام ہے اور ان کے رفقاء بھی بدعنوانی میں ملوث ہیں اگر یہ سب مہاراشٹر کی این ڈی اے حکومت میں شامل نہیں ہوتے تو یہ سب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ اگر ان سب پر سنگین الزامات نہیں ہوتے ، جیل جانے کاڈر نہیں ہوتاتواور اپنے محسن شرد پوار کو لات مار کر ریاستی حکومت میں شامل نہیں ہوتے۔یہ معاملہ صرف ریاست مہاراشٹر کا نہیں ہے بلکہ ہر ریاست میں ہر اس پارٹی توڑنے اور این ڈی اے میں شامل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
بی جے پی کے لیڈر ایک طرف اپنے غرور اور گھمنڈ میں چور چور ہیںاور دوسری طرف جن لیڈروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے این ڈے اے میں شامل کرنے پر مجبور ہیں۔بنگلور میں اپوزیشن کی26پارٹیوں کے لیڈرس مجتمع ہیں۔26 کی تعداد کو نیچاددکھانے کے لئے بی جے پی کے لیڈروں نے ایسی ایسی پارٹیوں کو اپنی صفوں میں شامل کرلیا ہے جن کے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ایک لیڈر بھی نہیں ہیں۔معمولی معمولی پارٹیوں کے دن پھر آئے ہیں ۔ لوک جن شکتی پارٹی(چراغ) کا ایک ایم پی چراغ پاسوان ہیں۔این ڈی اے میں شامل ہونے کے لئے ان کی شرط ہے کہ ان کی پارٹی کے ایک فرد کو راجیہ سبھا کا ممبر بنایا جائے اور2024 کے لوک سبھا الیکشن میں ان کے چھ افراد کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا جائے۔ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں خواہ اتر پردیش کی ہوں یابہار کی اپنی اپنی شرائط پر این ڈی اے میں شامل ہو رہی ہیں۔ اعداد اور شمار کو 26 سے زیادہ دکھانے کے لئے این ڈی اے آنکھ بند کر کے کمزور سے کمزور ترین پارٹیوں کو این ڈی اے میں شامل کر رہی ہے۔ ایک وجہ تو تعداد زیادہ دکھانے کی ہے کہ ان کے یہاں زیادہ پارٹیاں شامل ہیں۔ بی جے پی اعلان پر اعلان کر رہی ہے کہ آج (18جولائی)دہلی میں اجلاس ہونے جار ہاہے ان میں38پارٹیاں شامل ہو رہی ہیں۔ ایک تو اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھانا ہے اور دنیا کودکھانا ہے کہ اپوزیشن اتحاد سے زیادہ شامل ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے2024 کے جنرل الیکشن میں بی جے ہی کو یقین نہیں ہے کہ272 کی عدد لوک سبھا میں پوری کر سکے گی۔ بعض سروے میں دکھایا جارہا ہے کہ بی جے پی کو220 یا 230سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی۔اگر ایسا ہوا تو بی جے پی کو امید ہے کہ272کی تعداد کو این ڈی اے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے پوری کرلے گی حالانکہ یہ پارٹیاں جو این ڈی اے میں شامل ہوئی ہیں وہ38سیٹوں پر شاید ہی کامیاب ہوں۔
ایک طرف بی جے پی کے اندر غیر یقینی کی صورتحال ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کا ابھی مضبوط اور مستحکم نہیں ہے۔ اگر اپوزیشن کا اتحاد ایک ایجنڈا اور ایک منشور لے کر الیکشن کے میدان میں اترتی ہے تو جو ملک کے اندر بے چینی اور اضطراب کی لہر ہے، مہنگائی کی مار ہے ، بے روزگار سے نوجوان پریشان ہیں، کسان خود کشی کر رہے ہیں ایسی صوررت میں این ڈی اے کی واپسی ممکن نہیں ہوگی لیکن اپوزیشن کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد سے تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ بی جے پی کے کارکنوں اور لیڈروں کا یہ امید ہے کہ نریندر مودی کی شخصیت میں اب بھی چمتکار ہے این ڈی اے میں جو بھی کمزوری اور کمی ہوگی مودی اپنی کرشماتی شخصیت سے پوری کر لیں گے۔این ڈی اے یا بی جے پی کے لوگ نریندرمودی کی شخصیت پر نظر جمائے ہوئے ہیں اور ان کی مقبولیت کو پارٹی یا اتحاد کاسرمایہ سمجھتے ہیں لیکن راہل گاندھی کی مقبولیت جس طرح تیزی سے ملک بھرمیں بڑھ رہی ہے اور ان کی مظلومیت سے ہمدردی عام لوگوں میں ہورہی ہے اس کو وہ لوگ نظر انداز کر رہے ہیں۔ایک طرف مودی شاہانہ انداز سے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ملک اور بیرون ملک میں شاہانہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فخر وغرور کا بھی مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دوسری طرف راہل گاندھی۔ عام لوگوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔عام لوگوں میں گھل مل کر ان کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا سے ان کا قد بہت اونچا ہوا ہے اور ان کی مقبولیت بڑھی ہے۔ان پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے۔ ابھی کچھ دنوں ں پہلے ہریانہ کے کسانوں اور ان کی عورتوں سے کھیتوںاور گھروں میں ملے ہیں ان سے انہوں نے سوال بھی کئے ہیں ان کے جوابات بھی سنے ہیں ان کو دلاسہ اور تسلی بھی دی ہے ایک خاتون سے انہوں نے پوچھا کہ’’ کیا تم نے دہلی دیکھا ہے‘‘ تو اس نے کہاکہ’’ نہیں‘‘۔ جب اس نے کہاکہ دہلی دیکھنا چاہتی ہے اور آپ کے گھر جانا چاہتی ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ’’ میرے پاس گھر نہیں ہے۔‘‘عورتوں کے اصرار پر کسان کے خواتین کو دہلی بلوایااور ایک خاتون کا جس کو موتیابن تھا اس کاآپریشن کرایا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک ایسے خاندان کاچشم وچراغ جو شاہانہ زندگی گزار چکا ہے اور جس کے گھر سے تین تین وزرائے اعظم بن چکے ہیںوہ عام زندگی گزارناچاہتا ہے اور عام لوگوں میں گھل مل کر رہنا چاہتا ہے۔ اوردوسری طرف جو اپنے آپ کو چائے والا اور بھیک مانگنے والا کہتا تھا وہ ٹھاٹھ باٹ اورشاہانہ زندگی گزارہا ہے۔کسانوں اور غریبوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ منی پور یا جہاں کہیں بھی ظلم و ستم ہورہا ہے چپی سادھے رہتا ہے۔اپنے من کی بات تو ضرور کرتا ہے دوسرے کے من کی بات سننا پسند نہیں کرتااور نہ کسی کے سوالوں کا جواب دینا پسند کرتا ہے۔ یہ جو راہل گاندھی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے یہ بھی جے پی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اس سے بھی اپوزیشن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور این ڈی اے کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔اس وقت ملک بھر میں جوفضااورماحول ہے بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح اندرا گاندھی کے ایمرجنسی کے آخری زمانے میں تھا۔ خاموش فضا اور خاموش ماحول تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔












