بڑے بول کا سر نیچا
یہ بات سچ ہے کہ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ جہاں ہر چیز میں تبدیلی آئی ہے وہیں جنگی میدان بھی بدل چکے ہیں ۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر جنگوں کے فیصلے زمین پر اترے بغیر ہوا میں ہو جاتے ہیں۔بات دو بدو جنگ تک آنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے ۔حماس اسرائیل جنگ نے کچھ اور راز سے بھی پردے اٹھائے ۔اب اسلحوں کی شکل بھی بدل گئی ہے اور اس جنگ میں سب سے بڑا اسلحہ میڈیا بن گیا ۔یوں تو آدھی صدی سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ اکیسویں صدی اپنے ساتھ میڈیا ٹکنالوجی کی جو نئی تکنیک لے کر آیا ہے وہ شر پسندی کے لئے بہت معاون ہے ۔اور جب تک اس کے سدباب کی کوشش ہوتی ،بحث و مباحثے ہوتے اسی دوران کارپوریٹ سیکٹر کی مدد سے عالمی طاقتوں نے دنیا کے تقریبا تمام میڈیا ہاؤسز کو اپنی ملکیت بنا لی ۔اور ان سے پروپیگنڈے کا کام لینے لگے ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نئے ورلڈ آرڈر کا جو نقشہ بنا اس میں رنگ بھرنے کی ذمہ داری ان میڈیا ہاؤسز کو سونپ دی گئی جن کو عالمی پیمانے پر مقبولیت حاصل تھی ،اور جس نے بھی اس گروہ میں شامل ہونے سے انکار کیا ان کے آمدنی کے وسائل پر کیپ لگا دیا گیا یا پھر انہیں بدنام کر کے ،ان کے خلاف فرضی چارجز لگا کر ان کو بے مول بنا دیا گیا ۔عالمی پیمانے پر اس کی مثال اسرائیل حماس جنگ کے دورا سامنے آ رہی ہے اور علاقائی سطح پر میڈیائ پروپیگنڈے کا سیاسی فائدہ 2012 سے لے کر 2014تک نریندر مودی منڈلی کو اٹھاتے دیکھا گیا ۔جس میں ریڈیکل قوت نے بھارت کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پورے ملک میں میڈیا کا سرکاری کرن کر دیا ،اور کوئی ایسی گنجائش نہ چھوڑی جس کے تحت عام آدمی اپنی آواز اٹھا سکے یا برسر اقتدار حکومت سے سوال پوچھ سکے۔جمہوری طرز حکومت میں میڈیا کا گلا گھوٹنے کی یہ جسارت معمولی جسارت نہیں ہے کیونکہ اس سے براہ راست آئین سے مسابقہ ہوتا ہے لیکن جب سرکاریں خود اس پر آمادہ ہو جائیں تو پھر ان کی لا متناہی قوت کے آگے کسی میں دم مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔عالمی پیمانے پر میڈیا کو اسلحہ کی طرح استعمال کرنے کا سلسلہ بھی بہت پہلے سے شروع ہو گیا تھا جس کا نکھرا اور ستھرا روپ ہمیں موجودہ فلسطین اسرائیل جنگ میں نظر آ رہا ہے کہ کس طرح مغربی میڈیا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
مغرب میں جعلی خبریں اور دعوے بار بار ایکسپوز بھی ہو رہے ہیں۔ جس کی تازہ مثال امریکی ٹیلی ویژن سی این این پر دیکھی گئی۔جہاں سی این این نے اپنی براہ راست نشریات میں اسرائیل کے دعوے کا کہ حماس بچوں کو زندہ مار رہی ہے کو پیش کیا۔ اس نشریات کے بعد سی این این کی رپورٹر سارہ سڈنر نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے معافی مانگ لی۔یہ دعوی کرتے ہوئے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے یہ الزامات اس وقت لگائے جب وہ براہ راست ٹیلی ویژن پر تھے اور انہیں گمراہ کیا گیا، سڈنر نے کہا، "مجھے اپنے الفاظ کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے تھا۔ میں معذرت خواہ ہوں۔”
برطانوی اخبار دی ٹائمز نے بھی ان بچوں کے بارے میں خبر دی جس کے بارے میں اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ مارے گئے ہیں، لیکن اس نے کوئی تصویر شیئر نہیں کی۔اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تصاویر "حساس مواد کی وجہ سے شیئر نہیں کی جا سکتیں”، اسی خبر میں گمراہ کن بصری مواد اور غزہ سے زخمی بچوں کی تصاویر استعمال کی گئی تھیں۔برطانوی صحافی اور ڈائریکٹر ہیری فیئر نے کہا کہ مغربی میڈیا نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کی رپورٹنگ کرتے وقت جانبدارانہ رویہ دکھایا۔لیکن یہ ان کی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں رائے عامہ کو فلسطین کی طرف سے برگشتہ کرنے کا مقصد پوشیدہ ہے ۔
یہ بات بھی اب صاف ہو چکی ہے کہ اسرائیل کی اصل قوت پروپیگنڈہ ہی ہے ۔اس نے اسلحوں کی مارکیٹنگ کے لئے جس میڈیا کا سہارا لیا اس نے اس کو ناقابل تسخیر ملک بنا کر پیش کیا ۔ساری دنیا کی میڈیا نے اسرائیل کو اس گلوب کی سب سے بڑی قوت بنا کر پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ اس کی انٹلی جینسیا اس قدر حساس ہے کہ پوری دنیا میں حرکت کر رہے ایک ایک ذرے پر اس کی نظر رہتی ہے۔لیکن اس کی ناک کے نیچےرہنے والے حماس نے جب اس کی مونچھ کے بال اکھاڑنے شروع کر دئے تب جا کر یہ پتہ چلا کہ یہ آئرن ڈوم بھی بابا رام دیو کے بنائے کوویڈ کیور پیکیج کی طرح کا نکلا۔فی الحال دنیا کی سب سے بڑی قوت کے بلاک کا حمایت یافتہ اسرائیل حماس سے جنگ لڑ رہا ہے اور چیلنج در چیلنج دے رہا ہے اور حماس کے لڑاکے اسے مسلسل زک پہنچا رہے ہیں ۔اس جنگ کا اور اس میں ملوث دونوں فریقین کی جنگی قوت کا کوئی تقابل نہیں کیا جا سکتا لیکن میڈیا ہے کہ لگاتار یہ راگ الاپتا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے سامنے فلسطین کی کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ دو سے چار گھنٹے کے اندر باغی گروہ حماس کا قلع قمع کر دیتا لیکن ایسا کچھ دیکھنے کی جگہ ہمیں یہ خبر ملنے لگی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اس جنگ کے خاتمے کے لئے حماس کو مصالحت کی میز تک لانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے ہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی)












