یہ بات کسی کے بھی گلے نہیں اتر رہی ہے کہ آخر بھارت سرکار اسرائیل کی برسوں سے جاری جارحیت کو نظر انداز کر کے، اپنی خارجہ پالیسی سے انحراف کر کے،عرب ممالک سے بڑھتے تعلقات کو طاق پر رکھ کر فلسطین کے خلاف اس قدر کیسے جا سکتا ہے کہ ملک میں اسرائیل مخالف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے لگے ۔بات اگر صرف یوگی حکومت تک ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی ساری سیاست ہی مسلم مخالفت کی بنیاد پر ٹکی ہے ۔اور انہیں نہ تو داخلہ پالیسی کی کوئی سمجھ ہے اور نہ خارجہ پالیسی کی۔ لیکن نریندر مودی نہ سہی ان کے مشیروں کو تو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اسرائیل کا فلسطینی عوام کے ساتھ رویہ ہمیشہ ہی جارحانہ رہا ہے ۔برسوں سے فلسطینیوں کی زمین پر قابض اسرائیل اس پوری سرزمین سے فلسطینیوں کو نکال باہر کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں وہ لگاتار فلسطینیوں کا قتل کر رہا ہے ۔حماس کا اسرائیل پر حملہ غیر متوقع نہیں بلکہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ہے ۔ایسے میں بھارت کا یکایک اسرائیل کی حمایت میں کھڑے ہوجانا ،پھر وزارت خارجہ کے ذریعہ یہ صفائی پیش کرنا کہ در اصل نریندر مودی اسرائیل پر حماس کے ذریعہ کئے گئے کو دہشت گردانہ کارروائی کے زمرے میں رکھ کر دیکھتے ہیں اور وہ اس حملے کے سلسلے میں اسرائیل کو مظلوم مانتے ہوئے اپنا بیان دیتے ہیں ورنہ فلسطین کے سلسلے میں ملک کی خارجہ پالیسی وہی ہے جو پہلے تھی ۔لیکن یہ سوال پھر بھی تشنہ ہے کہ آخر نریندر مودی کو حماس کا اسرائیل پر 7 اکتوبر کو کیا گیا راکٹ حملہ تو نظر آیا لیکن اس کے پہلے اسرائیل کے ذریعہ غزہ پر برسوں سے ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نظر نہ آئے ۔کیا نریندر مودی اور ان کے مشیروں کو یہ نظر نہ آیا کہ غزہ کو ایک جیل بنا دینے والا اسرائیل یو این او تک کو نظر انداز کر کے ،انسانی حقوق کی ساری حدوں کو پار کر کے محصور فلسطینیوں کا جینا مشکل کر رکھا ہے۔کیا نریندر مودی اور ان کے سپہ سالار جوگی جی کو اتنی بھی سمجھ نہیں ہے کہ اسرائیل لاکھ ظلم ڈھا لے لیکن آخر کار اسے مصالحت کے ٹیبل پر بیٹھنا ہی ہو گا اور اس وقت بھارت عرب ممالک سے کیونکر آنکھ ملا سکے گا ۔آج ساری دنیا میں اسرائیل مخالف نعرے گونج رہے ہیں ۔خود اسرائیل میں یہودیوں کا ایک گروہ سرکار مخالف احتجاج کر رہا ہے اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سڑکوں پر ہے۔اسرائیل کے اخبارات نیتن یاہو کو پاگل اور سنکی لکھ رہے ہیں لیکن بھارت میں اسرائیل مخالف کسی بھی سرگرمی پر پابندی ہے ۔اسرائیل مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کا تازہ ترین واقعہ بدھ کے روز ممبئی میں پیش آیا جب پولیس نے جنوبی ممبئی میں اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے یہ کارروائی بھنڈی بازار علاقے میں ایک چوراہے پر اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے کے بعد کی۔ ممبئی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس میں حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر خصوصی نگاہ رکھی جارہی ہے اور امن و قانون کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی معاملے سے سختی سے نمٹا جائے گا۔لیکن انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے باوجود بھارت کے مختلف ریاستوں اور اہم شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیر، کولکاتہ، بنگلورو سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ جب کہ متعدد جماعتوں نے جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی میں مظاہروں کی اپیل کی ہے۔بی جے پی کی حکومت والی اترپردیش ریاست کے حمیر پور میں پولیس نے ایک مسلم مذہبی رہنما کو مبینہ طورپر فلسطین کی حمایت کرنے پر "منافرت پھیلانے” کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔جب کہ ایک دیگر مسلم مذہبی رہنما کو تلاش کررہی ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسلم مذہبی رہنما سہیل انصاری نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک دیگر پوسٹ میں انہوں نے لوگوں کو مبینہ طور پر مسجد میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ "انہوں نے اپنی پوسٹ میں بعض ایسے تبصرے کیے تھے جو ممنوع ہیں اور جن سے امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔” ایک مقامی عدالت نے سہیل انصاری کو 14دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔قبل ازیں اترپردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں جلوس نکالنے کے الزام میں چار طالب علموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ خیال رہے کہ ہندو قوم پرست رہنما ریاستی وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطین کے تنازعے میں ایسا کوئی بیان یا کوئی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا جو مرکزی (مودی) حکومت کے موقف کے خلاف ہو۔
دہلی کے مشہور جنتر منتر علاقے میں بھی درجنوں افراد بالخصوص جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں نے فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے۔ پولیس نے کم از کم 60 مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور بعد میں ایک دور افتادہ جگہ پر لے جا کرچھوڑ دیا۔ مظاہرین "فلسطین کے لیے امن” اور "غزہ ہم تمہارے ساتھ ہیں” کے نعرے لگا رہے تھے۔اپوزیشن جماعتوں نے بھی فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے باضابطہ بیانات جاری کرنے کے ساتھ ہی ایک 20 رکنی وفد کے ساتھ دہلی میں فلسطینی سفیر سے ملاقات کی۔ فلسطینی سفیر عدنان ابوالہیجا نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”ہمیں امید ہے کہ بھارت غزہ کے محصور کو روکنے میں اچھا کردار ادا کرے گا اور غزہ میں ہمارے لوگوں تک انسانی امداد پہنچنے میں مدد کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباو ڈالے گا۔”
لیکن ان سب کے باوجود بھارت کے رویہ کو دیکھتے ہوئےیہ کہا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی ہر مملکی اور غیر ملکی معاملے میں مسلم مخالف اینگل ضرور تلاش کرتے ہیں اور یہاں بھی انہیں اسرائیل کی ہمدردی کا اظہار کرتے ہی کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کا فل دکھانے کا نادر موقعہ مل گیا اور انہوں نے اس کا فائدہ اٹھا لیا ۔
(شعیب رضا فاطمی)












