یہ بات نئی نہیں ہے کہ عین انتخاب کے دوران یہ بات بہت سارے حلقوں سے اٹھنی شروع ہو جاتی ہے کہ ملک میں فرقہ پرستوں کی بڑھتی کشاکش کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو متحد ہو کر فلاں پارٹی کو ووٹ کرنا ہوگا ورنہ یہ بھگوا دھاری ملک کے امن و امان کو تہ و بالا کر دیںگے۔ایسے موقعوں پر اکثر ملک کی سالمیت اور آئین کی بقا کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے اور مسلمان چند دنوں کے لئے خود کو اور اپنے ووٹ کو ملک کے مفاد میں استعمال کر کے خوش بھی ہو جاتے ہیں ،لیکن محض چند روز ہی ان کی خوشی برقرار رہتی ہے ۔اور پھر رنگے ہوئے سیاسی گیدڑ کا رنگ اتر جاتا ہے اور وہ خود فرقہ پرستوں کی بولی بولنے لگتے ہیں ۔ملک میں ایسی آوازیں ایک بارپھر سنائی دینے لگی ہیں۔یعنی چند مہینوں کے لئے مسلمانوں کی اہمیت بڑھنے کا موسم پھر آ گیا ہے ۔ابھی مسلمانوں پر گفتگو صرف چند ریاستوں میں ہو رہی ہے اس کے بعد پورے ملک میں ہوگی ۔ایک عجیب اتفاق ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی ہی وہ واحد کمیونیٹی ہے جس کو رام کرنے میں سیاسی پارٹیوں کو کچھ پلے سے دینا نہیں پڑتا ،ان مسلمانوں کے لئے تو صرف اردو میں کی گئی ایک تقریر بھی ووٹ دینے کی وجہ بن جاتی ہے ،کچھ لیڈروں نے تو انتخابی موسم کے لئے چند قرآنی آیات اور اس کے الٹے سیفھے مفہوم بھی یاد کر رکھے ہیں جو امتخابی موسم میں اسٹیج سے سنا کر مسلمانوں کے ووٹ حصل کر لیتے ہیں ۔بنگال کے مسلمان تو ممتا بنرجی کو صرف اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ سال میں دو بار عید اور بقرعید کے موقع پر محترمہ بنرجی ریڈ روڈ میدان میں ہونے والی نماز کے موقعہ پر تشریف لا کر انہیں عید کا مبارک باد دیتی ہیں اور پورے بنگال کا ووٹ سمیٹ لیتی ہیں ،سال میں دو بار عید گاہ میں آنے کے علاوہ ان کو کبھی مسلمانوں کے ساتھ نہیں دیکھا گیا اور نہ کبھی انہوں نے بنگال کے مسلمانوں کے لئے آگے بڑھکر کچھ کیا ۔اتر پردیش میں موجودہ سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو بھی ایسے ہی لیڈر ہیں جنہیں اگر مسلمان ووٹ نہ دیں تو پھر ان کی حالت راج بھر جیسی ہو جائیگی ۔
ابھی تلنگانہ میں میں اسمبلی انتخاب ہے اور وہاں بھی مسلمانوں کی حیثیت بادشاہ گر کی ہے۔ ریاست میں 55 لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں اور 119رکنی اسمبلی میں کم از کم 40 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹر فیصلہ کن رول ادا کر تے ہیں ۔ واضح رہے کہ 2018 انتخابات میں ان 40 حلقوں میں بی آر ایس کو کامیابی ملی تھی ۔ اس طرح اس کے کامیاب امیدواروں میں تقریباً نصف تعداد ان حلقوں کی نمائندگی کرتی تھی ۔ آپ کو بتادیں کہ 2018 کے انتخابات میں ریاست کے 75 فیصد مسلمانوں نے بی آر ایس کا ساتھ دیا اور 2014 کی طرح 2018 میں بھی کے سی آر اپنی حکومت بنانے میں کامیاب رہے ۔ تاہم اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا مسلمان اور اقلیتیں گزشتہ دو اسمبلی انتخابات کی طرح بی آر ایس کی تائید کرینگی یا پھر پڑوسی کرناٹک میں سیکولر جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی جے ڈی ایس کی موجودگی کے باوجود کانگریس کی جس طرح تائید و حمایت کی اور اسے اقتدار دلایا اس طرح تلنگانہ میں حکمت عملی اختیار کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کرناٹک انتخابات میں 80فیصد سے زائد مسلمانوں نے جے ڈی ایس کو نظرانداز کر کے متحدہ طور پر کانگریس کی تائید کی ۔ اس طرح عیسائیوں نے بھی کانگریس کا ساتھ دیا ، نتیجہ میں بی جے پی لاکھ فرقہ پرستی کے باوجود شرمناک شکست سے دوچار ہوگئی ۔ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں اگر ریاست میں مسلمان اور عیسائی متحد ہوجائیں یا پھر صرف مسلمان متحدہ طور پر کسی ایک پارٹی چاہے وہ کانگریس اور بی آر ایس کیوں نہ ہوں کے حق میں ووٹ استعمال کرتے ہیں تو اس پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگا ۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ فی الوقت تلنگانہ میں مسلمان متحد ہیں ، بعض طاقتیں جن میں فرقہ پرست جماعتیں اور خود بعض مفاد پرست مسلمان بھی شامل ہیں مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کروانے کی چکر میں ہیں ، انہیں اندازہ نہیں کہ وہ صرف ذاتی مفادات کی خاطر ملی مفادات کو قربان کرنے پر تلے ہیں ۔ ملک کے حالات کسی قدر سنگین ہیں مسلم ووٹرس کو اسے ملحوظ رکھنا ہوگا اور متحد رہ کر نہ صرف فرقہ پرستوں بلکہ راست یا بالواسطہ ان کے مفادات کے تحفظ میں مصروف سیاسی دلالوں کو ایسا سبق دینا ہوگا جس سے وہ دوبارہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو دھوکہ نہ دے سکیں ۔ ان کے نام پر حکمران وقت سے سودے بازی نہ کرسکیں ۔ ایک بات ضرور ہیکہ کرناٹک کے مسلمانوں نے اپنی فراست و حکمت عملی سے اقتدار کو فرقہ پرست درندوں کے منہ سے چھین نکالا اور کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا ، ورنہ ان طاقتوں نے حرام حلال ، حجاب ، سماجی و معاشی بائیکاٹ ، بیف جہاد ، لو جہاد جیسے نعرو ں اور ایجنڈوں سے اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی تھی ۔ گرجا گھروں پر حملے کے ذریعہ عیسائی برادری کا جینا محال کردیا تھا لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا ، وہ فرقہ پرستوں کی اقتدار سے بیدخلی کا باعث بنا ۔ تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس اقلیتوں کے تئیں دعویٰ جتا رہی ہیں ۔ ایسے میں آپ کو دونوں پارٹیوں کے وعدوں ،دعوؤں کا بڑے غور و فکر سے جائزہ لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کس نے مسلمانوں سے کتنے وعدے کئے تھے اور ان میں کتنے وعدوں کو پورا کیا گیا ۔خاص طور پر اب مسلمانوں کو اپنے چند اہم مسائل بھی ایسی پارٹیوں کے سامنے رکھنے ہونگے اور اقتفار میں آنے کے بعد ان پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ ان مسائل کو ترجیحی بنیاد پر تصفیہ کریں ۔یوں بے مول اپنا ووٹ دے کر انہیں بے لگام چھوڑنا بھی اچھی بات نہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی )












