24اکتوبر کو دشہرہ کا تہوار پورے ملک میں دھوم دھام سے منایا گیا اور خوف کی جو فضا قائم تھی اس سے پورے ملک کو نجات مل گئی ۔عام طور پر تہوار منانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے روزانہ کے کاروباری یکسانیت سے نکل کر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق تھوڑا مذہبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے کر چاق و چوبند ہو جائیں ۔ہمارے ملک میں تمام مذاہب میں تہواروں کے منانے کی کوئی بڑی تاریخی وجہ ہوتی ہے ۔دشہرہ بھی اسی قسم کا ایک بڑا تہوار ہے جس میں رام کے راون پر فتح پانے کے دن کو بطور جشن منایا جاتا ہے اور اسے ستیہ پر استیہ کی جیت کا دن قرار دیا جاتا ہے ۔اور ملک کے بڑے حصے میں اس موقع پر راون کے پتلے کو نذر آتش کیا جاتا ہے ۔آر ایس ایس کے مرکزی ہیڈ کوارٹر ناگپور میں بھی اس موقع پر ایک بہت بڑا پروگرام منعقد ہوتا ہے جہاں سرسنگھ چالک باضابطہ ہتھیاروں کی پوجا کرتے ہیں اور پھر ان کا ایک خطاب ہوتا ہے ۔اس برس بھی ایسا ہی ہوا اور سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں دسہرہ پر منعقد شاستر پوجا پروگرام میں شرکت کے بعد ریشم باغ گراؤنڈ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے منی پور تشدد، لوک سبھا انتخابات، ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح نیز اسرائیل فلسطین جنگ پر بھی بات کی اور کہا کہ دنیا دہشت گردی سے پریشان ہے اور وہ بار بار بھارت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ پوری دنیا کو امن کا فارمولہ دے ۔جس سے ساری دنیا میں امن قائم ہو ۔ آر ایس ایس چیف نے دعویٰ کیا کہ منی پور میں ہونے والا تشدد ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے کہا- منی پور میں میتی اور کوکی برادریاں برسوں سے ایک ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے درمیان فرقہ وارانہ آگ کیسے شروع ہوئی ۔ظاہر سی بات ہے کہ سرحد پار کے بنیاد پرست بھی تشدد کرنے والوں میں شامل ہیں ۔جبکہ
سنگھ جیسی تنظیم جو برسوں سے سب کی خدمت کر رہی ہے کو بغیر کسی وجہ کے اس میں گھسیٹا گیا۔ حالانکہ یہ بات سمجھنی چاہئے کہ منی پور میں بدامنی اور عدم استحکام سے بیرونی طاقتوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ ملک میں مضبوط حکومت ہونے کے باوجود یہ تشدد اتنا عرصہ کس کے زور پر جاری ہے یہ اہم سوال ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ منی پور میں کچھ ہو نہیں رہا ہے بلکہ کیا جا رہا ہے ۔
کبھی کبھی زیادہ ہمدردی بھی وبال بن جایا کرتا ہے یا یہ کہا جائے کہ حقیقت کی پردہ پوشی کافی نہیں ہوتی کیونکہ سچ ایسا سورج ہے جس کی روشنی کو زیادہ دیر تک قید نہیں رکھا جا سکتا ۔آنکھیں بند کر لینے سے رات کا آجانا بھی ممکن نہیں ۔موہن بھاگوت وہی کر رہے ہیں ۔وہ یہ جان رہے ہیں کہ ان کے اس خطاب کو ملک بڑے غور سے سنتا ہے ۔لیکن وہ اتنے نادان بھی نہیں ہیں کہ یہ نہ جانتے ہوں کہ منی پور میں چھ ماہ سے جاری قتل و غارت گری کا جو بازار گرم ہے اس میں براہ راست ریاست کی بی جے پی سرکار اور مرکز کی مودی سرکار ذمہ دار ہے ۔کیونکہ فوج کے سب سے بڑے سربراہ نے بہت پہلے یہ بیان دے دیا ہے کہ منی پور میں کسی بیرونی طاقت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔راجستھان کے ریگستان سے لے کر ہمالیہ کی آخری وادی تک ہماری سرحد محفوظ ہے اور در اندازی کی ہر کوشش کو ہمارے جوان ناکام بناتے رہتے ہیں ۔منی پور کا مسلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی گفت وشنید سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔لیکن اب موہن بھاگوت جی منی پور میں غیر ملکی ہاتھ دیکھ رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے فوجی سربراہ کی جگہ موہن بھاگوت کے بیان پر بھروسہ کرنا ہوگا جو اپنی تنظیم آر ایس ایس کی شبیہ درست کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ہتھیاروں کی پوجا کر نے کے بعد امن و امان کی بات کرنے والوں کی باتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہی موہن بھاگوت کی باتوں کا ہوگا ۔کیونکہ عین اسی دن جب موہن بھاگوت آر ایس ایس کو ایک بے خطر تنظیم قرار دے رہے تھے کیرالا کے ٹراونکور خطہ میں بڑی مندروں کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ٹراونکور دیوسوم بورڈ نے ایک نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے مندر کے احاطوں اور اس کے دیگر جائیدادوں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ دیوسوم کمشنر کے جاری کردہ سرکولر کے مطابق اس ادارہ نے اپنے زیرانتظام مندروں کے احاطوں کے اندر اشلوکوں کے ذریعہ احتجاج کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔سر کلر میں صاف صاف لکھا گیا ہے کہ آر ایس ایس اور انتہا پسند نظریات کی حامل تنظیموں کی تمام سرگرمیاں جو بورڈ کی اجازت کے بغیر ہوں گی، وہ ممنوع قرار پائیں گی۔ اس ضمن میں دیوسوم ویجلنس ونگ اچانک دھاوا بول کر ممنوعہ سرگرمیوں کا پتہ چلائے گا اور مناسب کارروائی کریگا ۔
یہ سر کلر کیرل میں موجود کمیونسٹ حکومت نے جاری نہیں کی ہے بلکہ کیرل کی سیکڑوں منادر کی نگہداشت کرنے والے بورڈ نے جاری کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ آرایس ایس منادر تک کی حرمت کا قائل نہیں اور وہاں بھی وہ اپنی شدت پسندی کی ٹریننگ کلاس چلاتا ہے ۔دشہرہ کے روز ناگپور سے ایک بار پھر آر ایس کی شبیہ کی صفائی کی کوشش کیرل کے دیو سوم بورڈ کا سرکلر ہے ۔اور اسی لئے بھاگوت جی نے اپنے خطاب میں منی پور کے تشدد میں نہ صرف غیر ملکی ہاتھ ڈھونڈ لیا بلکہ بائیں بازو کی کی فکر کو بھی نشانہ بنایا ۔












