یہ خبر کہ خلیجی عرب ریاست قطر کی ایک عدالت نے گزشتہ برس گرفتار کیے گئے آٹھ بھارتی باشندوں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے ملک کی میڈیا پر بجلی بن کر گری ہے اور اب میڈیا مسلسل گریہ و زاری کرتے ہوئے قطری عدالت کے اس فیصلہ کو حیرت انگیز قرار دے رہی ہے ۔اور چینل پر ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے آسمان پھٹ پڑا یا زمین شق ہو گئی۔حالانکہ خود حکومت نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا ہے کہ سزا پانے والے تمام افراد بھارتی بحریہ کے سابق افسران ہیں۔جنہیں ایک قطری عدالت نے اپنے فیصلے میں موت کی سزا سنائی ہے ۔اس اطلاع نامے میں یہ صاف صاف درج ہے کہ جن آٹھ شہریوں کے لیے سزائے موت کا اعلان کیا گیا ہے، انہیں 2022ء میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ظاہر ہے اس سے پہلے ہی حکومت کو اس کی اطلاع ہوگی اور وہ اپنی سطح پر اس سلسلے جو بن پڑے کرتی بھی ہوگی ۔عام طور پر جاسوسی کے الزام میں کسی بھی ملک کے ایجنٹ جب پکڑے جاتے یا مارے جاتے ہیں تو حکومتیں اسے ٹاپ سیکرٹ رکھتی ہیں ۔کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر ملک کے ایجنٹ دوسرے ممالک میں ہوتے ہیں یہ بات حکومتوں کو بھی معلوم ہوتا ہے لہذاایسے کسی واقعہ پر میڈیا میں اتنا ہنگامہ نہیں ہونا چاہئے ۔اور اگر ایسا نہیں ہے اور وہ آٹھوں لوگ اتفاقیہ طور پر انڈین نیوی کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں اور ان کو جھوٹے الزام میں اتنی سنگین سزا دی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ بھارت کی سرکار قطر سمیت عرب ممالک کے گڈ بک میں نہیں ہے ۔اور ہندوستانی میڈیا جو یہ پروپیگنڈا کرتی ہے کہ عرب ممالک میں نریندر مودی بے حد پاپولر ہیں وہ جھوٹ ہے ۔
کیونکہ کسی ایسے ملک سے جس کے نریندر مودی سے بہت اچھے مراسم ہو اور وہی ملک بھارت کے شہریوں کو جاسوسی جیسے جھوٹے سنگین الزام میں عمر قید کی سزا دے حلق سے اترنے والی بات نہیں ۔
نئی دہلی سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق بھارتی حکومت اس مقدمے اور اس میں سنائے گئے سزائے موت کے فیصلے کو’’انتہائی اہمیت کا حامل‘‘ سمجھتی ہے اور یہ’’معاملہ قطری حکام کے ساتھ اٹھانے‘‘ کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق سز اپانے والے تمام بھارتی باشندے قطر کی ایک نجی کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں گزشتہ برس اگست میں مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق وہ اپنے طور پر جاسوسی کے الزام سے متعلق بھارتی میڈیا کے دعووں کی تصدیق نہ کر سکی۔ قطر میں بھی الزامات کا عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس بارے میں اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ سزا پانے والے تمام بھارتی شہری ملکی بحریہ کے سابقہ اہلکار ہیں اور ان پر عائد کردہ الزامات کی تفصیلات کا عوامی سطح پر اعلان نہ تو قطری حکام نے کیا ہے اور نہ ہی بھارتی حکومت نے۔
اس بارے میں روئٹرز نے جب نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ سے رابطے کی کوشش کی، تو کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے قطری عدالت کے فیصلے کے بعد جمعرات کے روز جو بیان جاری کیا، اس میں کہا گیا کہ فی الحال کارروائی کی راز دارانہ نوعیت کے باعث اس حوالے سے مزید کوئی بھی تبصرہ کرنا مناسب نہ ہو گا۔‘‘قبل ازیں بھی کہا گیا تھا کہ ان آٹھ بھارتی ملزمان کے خلاف عائد کردہ الزامات اور ان کی نوعیت’’پوری طرح واضح نہیں ہیں۔‘‘ اب ایسے میں اس واقعے کو میڈیا کیوں پرائم خبر بنا رہی ہے ؟یہ سوال نہایت اہم ہے ۔بدھ کے روز اس خبر کے آتے ہی نیشنل چینل کی سرگرمی دیکھنے کے لائق تھی ۔ہر جگہ اس پر ایک سے بڑھ کر ایک خلیجی ممالک کے ماہرین چینلوں پر اپنے بیانات دیتے نظر آئے اور دیر رات تک خوب واویلا رہا ۔جسے اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ نفرت پھیلانے کا ٹنڈر لے چکی نیشنل میڈیا کو اسلامو فوبیا پھیلانے کا ایک اچھا موقعہ مل گیا ہے جسے وہ کیش کرنا چاہ رہی ہے ۔اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں بھی یہی ہورہا ہے ۔لیکن اسرائیل اور فلسطین کے معاملے میں تو بہر حال وزیر اعظم نے اسرائیل کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر کے چینلوں کو اسرائیل نوازی کے لئے اکسایا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر نیشنل چینل کے نمائندے آج بیروت اور تل ابیب کے ہوٹل میں بیٹھ کر اسرائیل اور فلسطینیوں کے دارمیان جنگ کو براہ راست دکھا رہے ہیں ۔اور جتنا بھی ان کے بس میں ہے فلسطینیوں کو ظالم و جابر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔لیکن یہاں نوعیت بالکل دوسری ہے ۔خلیجی ممالک اور ہماری دوستی کی حقیقی تصویر بالکل مختلف ہے بھارت تیل اور گیس سے مالا مال خیلج کی دیگر عرب ریاستوں کی طرح قطر میں بھی بھارتی تارکین وطن کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ قطر میں مہمان کارکنوں کے طور پر مقیم بھارتی باشندوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زائد ہے۔ لہٰذا مسلم دشمنی اور اسلامو فوبیا میں پاگل ہو کر کہیں اس سنگین مسئلے کو بھی میڈیا نریندر مودی کے گلے کی ہڈی نہ بنا دے ۔
(شعیب رضا فاطمی)












