بظاہر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ میں فلسطینیوں کا بھاری نقصان ہو رہا ہے لیکن جیسے جیسے یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے ساری دنیا میں فلسطینیوں کے تئیں ہمدردی اور اسرائیل کے تئیں نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ اس جنگ کو اسرائیل حماس جنگ کا نام دے کر اس کا سارا ٹھیکرا ایران کے سر پھوڑ دے۔اس کے پورے چانسز تھے بھی اور ہیں بھی لیکن ایران نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ۔وہ اسرائیل کی کمینگی پر ریسرچ کئے بیٹھا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے ابھی تک اس جنگ میں براہ راست مداخلت نہیں کی ہے ۔کیونکہ ایسے ہی کسی موقع کی تاک میں امریکہ بھی ہے ۔یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس محاذ پر بھی اسرائیل اور امریکہ کو شکست ہی ہوگی ۔یہ الگ بات ہے کہ اس کی بڑی قیمت غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کو چکا نی پڑ رہی ہے ۔ابھی کل ہی کی خبر ہے کہ بولیویا نے ایک بار پھر اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ دیے۔اس کے پہلے بھی اس نے غزہ پر بمباری کو لیکر ہی بیس برس تک اسرائیل سے کوئی تعلقات نہیں رکھے تھے لیکن پھر 2019میں اس نے تعلقات قائم کئے تھے جو ایک بار پھر منقطع ہو گئے ۔بولویا لاطینی امریکہ کا ایک کمیونسٹ ملک ہے اور اس کا یہ فیصلہ معمولی نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے قبل دو دیگر جنوبی امریکی ممالک کولمبیا اور چلی نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بولیویا کے نائب وزیر دفاع فریڈی ممانی نے ایک پریس کانفرنس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات توڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بولیویا نے غزہ پٹی میں کیے جانے والے جارحانہ اور حد سے زیادہ اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت میں تل ابیب سے اپنے سفارتی تعلقات توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی بولیویا کی وزیرِ صدارت ماریا لا پاراڈا نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ کو انسانی امداد بھیج رہا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا، ’’ہم غزہ پٹی میں حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک اور فلسطینیوں کو جبری بے گھر ہونا پڑا ہے۔اسرائیل نے بولیویا کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور حیات نے کہا کہ’’بولیویا کی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کا فیصلہ دہشت گردی اور ایران کی آیت اللہ حکومت کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے‘‘۔ ’’ایسا قدم اٹھانا بولیویا کی حکومت کا خود کو دہشت گرد تنظیم حماس سے جوڑنا ہے۔‘‘ساتھ ہی حماس نے بولیویا کی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔حماس نے کہا ہے کہ وہ اسے ایک اعلیٰ اعزاز کے طور پر دیکھتا ہے اور عرب ممالک سے بھی ایسی ہی کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
جنوبی امریکہ کے کئی اور ممالک نےبھی اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ان میں کولمبیا اور چلی بھی شامل ہیں۔ کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گسٹاو پیٹرو نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لکھا کہ جب تک اسرائیل فلسطینی عوام کی نسل کشی بند نہیں کرتا ہم وہاں نہیں رہ سکتے۔ کولمبیا کی طرح جنوبی امریکی ملک چلی نے بھی احتجاجاً اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ چلی نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عرب دنیا سے باہر فلسطینیوں کی سب سے زیادہ تعداد والا ملک چلی ہے۔ میکسیکو اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ برازیل کے لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ ‘صرف اس لیے کہ حماس اسرائیل کے خلاف حملہ کرتا ہے اسرائیل لاکھوں بے گناہوں کو مار ڈالے گا۔
جنوبی امریکہ کے کئی اور ممالک میں بھی اسرائیل کے خلاف غم و غصہ ہے ۔لیکن حیرت ہمیں بھارت پر ہے جہاں سب سے پہلے تو خود وزیر اعظم نے ملک کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا دکھایا لیکن پھر جیسے ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہوگیا ہے دفتر خارجہ نے ایک وضاحتی بیان جاری کر کے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی ۔لیکن ان کے نائب اتر پردیش کے وزیر اعلی نے تو حد ہی کر دی ہے ۔وہ تو کسی بھی قیمت پر اس لیک سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس موضوع پر وہ مزید کٹر ہندوتوا کا اسٹینڈ کھڑا کر سکتے ہیں ۔اس بیچارے کو یہ کیا معلوم کہ انتخابی سیاست سے بہت بڑی سیاست اور بھی ہے جہاں بھارت کی شبیہ کو خطرہ بڑھ چکا ہے ۔اور خود وزیر اعظم نے عرب ممالک سے جو تعلقات استوار کئے تھے اس پر بھی گرہن لگ چکا ہے اور اگر 2024میں بھی وزیر اعظم مودی ہی رہے پھر بھی انہیں نئے سرے سے عرب ممالک سے رشتے استوار کرنے ہونگے ۔جوگی جی کی یہ سوچ خام خیالی ہے کہ اسرائیل چن چن کر حماس کے باغیوں کو ٹھکانے لگا رہا ہے۔اسرائیل بے دریغ بم کی بارش کر رہا ہے جس میں بچے بوڑھے جوان عورتیں اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریض بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔اسرائیل کی اس کارستانی کو ساری دنیا دیکھ رہی ہے ۔خود اسرائیل کے کے یہودی شہری اس کے خلاف پروٹیسٹ کر رہے ہیں ۔سوائے مودی اور جوگی کے ۔
(شعیب رضا فاطمی)












