کلکتہ 3نومبر: بی جے پی مخالف اتحاد انڈیا کی کئی میٹنگوں میں سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اورترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے ساتھ تصویریںایک ساتھ لگائے جانے پر سی پی ایم کے مقامی کارکنان میں شدید ناراضگی ہے ۔سیتارام یچوری آج پارٹی لیڈروں کے سامنے اس پورے معاملے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے انڈیا اتحاد کی تشکیل دی گئی ہے ۔اس اتحاد میں شامل ہونے والے تمام جماعتوں کا اہم استقبال کرنے کو تیار ہیں۔سی پی ایم ریاستی کمیٹی کی میٹنگ ہوڑہ ضلع کے دفتر میں ہورہی ہے ۔ سیشن کے افتتاحی تقریر میں سی پی آئی ایم کے ریاستی جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری نے کہاکہ ملک کو بچانے کے لیے انڈیا اتحاد کی تشکیل دی گئی ہے ۔ملک کو آگے بڑھانا ہے تو سب سے پہلے ملک کو بچانا ہوگا۔ اس ملک کو بچانے کیلئے جوبھی سیاسی جماعت آنا چاہتی ہے ہم اس کا استقبال کرتے ہیں ۔اس کے بعد سی پی ایم کے جنرل سکریٹری نے براہ راست ممتا کے ساتھ والی اپنی تصویر کا موضوع اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘آپ میں سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ میں ممتا بنرجی کے ساتھ کیوں ہوں۔ سوال ممتا بنرجی کے ساتھ کا نہیں ہے ۔ پورا ملک جانتا ہے کہ ترنمول کانگریس پہلے بی جے پی کی ساتھی تھی۔مگر وہ اب اپوزیشن کے ساتھ ہیں ۔ملک کو بچانے کیلئے اپوزیشن اتحاد کی تشکیل دی گئی ہے ۔اس میں جولوگ آرہے ہیں ہم سب کا استقبال کررہے ہیں۔جہاں تک بنگال کا سوال ہے یہاں ترنمول کانگریس کے ساتھ اتحاد اور مفاہمت کا کوئی سوال نہیں ہے ۔یچوری کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے ماضی کو سامنے لانے پر ترنمول کانگریس نے ناراضگی ظاہر کی ہے ۔پارٹی کے ترجمان کنال گھوش نے کہاکہ‘‘یچوری کو معلوم ہونا چاہیے کہ 1988 میں جیوتی بوس، وشوناتھ پرتاپ سنگھ اور اٹل بہاری واجپائی نے راجیو گاندھی کو شکست دینے کے لیے کلکتہ کے شہید مینار میدان میں میٹنگ کی تھی۔ اس وقت بی جے پی کو پورے ملک میں 84سیٹیں ملی تھیں ۔2019 میں، سی پی ایم کے لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا اور بنگال میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ہوڑہ میں سی پی ایم کی ریاستی کمیٹی کی میٹنگ اتوار تک جاری رہے گی۔ بنیادی طور پر اس میٹنگ سے کچھ تنظیمی امور اور لوک سبھا انتخابات کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ایک پرانی مثال کا حوالہ دیتے ہوئے یچوری نے کہاکہ ‘‘جب سبھی اندرا گاندھی کو شکست دینے کے لیے متحد ہو جاتے ہیں، ہم طلبا تحریک کرتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اس وقت احتجاج کیا۔ بی ٹی رندیو نے ہمیں سمجھایا تھا کہ اگر دہلی سے کوئی گاڑی آگرہ کے راستے میں خراب ہو جائے تو اسے دھکا دینا پڑتا ہے ۔ آس پاس کے لوگوں کو بلائیں۔ جو آئیں گے ، ان میں سے کیا چنا جائے گا؟ یا فوری مقصد کار کو دھکا دینا ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ جون میں پٹنہ میں اپنی پہلی میٹنگ کی تھی۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی رہائش گاہ پر ہونے والی میٹنگ کے بعد بنگلورو میں میٹنگ ہوئی۔ وہیں اپوزیشن اتحاد کا نام انڈیا رکھا گیا ۔ اس کے بعد ممبئی میں ایک اور میٹنگ ہوئی۔ اتفاق سے جون میں اس میٹنگ کے بعد سے یچوری پارٹی کے کسی پروگرام کے لیے ریاست نہیں آئے ہیں۔ پانچ کے ماہ کے وقفے کے بعد وہ کلکتہ آئے ہیں ۔












