یہ کتنی عجیب بات ہے کہ امریکہ میں تو فلسطین حامی امریکی وہائٹ ہاؤس کو گھیر لیں اور اسرائیل کو امریکی امداد روکنے کا مطالبہ کریں لیکن بھارت جیسے ملک میں اسرائیل کی مخالفت کو جرم قرار دیا جائے ۔دراصل 2014میں ہمارے ملک میں ایک ایسے گروہ نے اقتدار حاصل کر لیا جس کی جاہلیت اظہر من الشمس تھی ۔اس کے فکری دیوالیہ پن کا بس ایک نمونہ کافی ہے کہ اس گروہ کی ایک ایم پی نے ایوان میں کھڑے ہو کر مہاتما گاندھی کے قاتل کو دیش بھکت کہا اور اس پر تادیبی کارروائی تو کیا ہوتی بلکہ 2019میں اسے بھوپال سے ممبر پارلیامنٹ کا ٹکٹ بھی تھما دیا جبکہ وہ مالیگاؤں بم کانڈ کی ملزمہ ہے اور جیل سے صحت کا بہانہ بنا کر ضمانت پر باہر ہے ۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ خود وزیر اعظم گھوم گھوم کر سارے ملک میں اپنی تعریف کے پل خود باندھ رہے ہیں اور اپوزیشن اتحاد کو گالیاں دے رہے ہیں ،الزامات عائد کر رہے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف سرکاری ایجنسی ای ڈی اور آئی ڈی بی جے پی پارٹی کے ایک ونگ کی طرح عام انتخاب سے قبل ایک ایک اپوزیشن لیڈر کو نوٹس بھیج رہی ہے ،چھاپے مار رہی ہے اور کل ملا کر ڈر کا ماحول پیدا کر کے 2024میں بھی اقتدار میں آنا چاہ رہی ہے ۔بھارت کی خارجہ پالیسی کا ان دس برسوں میں جس طرح جنازہ اس سرکار نے نکالا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔2014سے اب تک وزیر اعظم نے خود کو کارپوریٹ سیکٹر کے چند سیٹھوں کا سی ای او ہی ثابت کیا ہے اور پوری دنیا میں ان کے لئے ٹھیکے کا انتظام کرتے رہے ہیں وہ بھی بطور بھارت کے وزیر اعظم ۔ اور یہی وجہ ہے کہ نفرت کی سیاست ان کی مجبوری بن گئی ہے جس کے بغیر وہ اقتدار میں رہ ہی نہیں سکتے ۔جبکہ ان کے اقتدار میں ہی ان تمام دھنا سیٹھوں کی جان اٹکی ہے جن کے پیسوں سے اس سرکار کا سارا کاروبار چل رہا ہے ۔حماس اور اسرائیل کے تنازعہ کے بعد وزیر اعظم کا اسرائیل کے حق میں فورا ٹویٹ کرنااور پھر بعد میں وزارت خارجہ کی وضاحت سے ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اسرائیل کے حق میں بیان دینے کی بنیادی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ بھارت میں موجود فلسطین حامیوں سے مناقشہ ہو اور اسرائیل کے خلاف ان کے نوٹ آف ڈیسینٹ کو القط کر کے دیش دروہی اور دیش بھکت کا نیریشن سیٹ کیا جائے تاکہ اسے عام انتخاب میں استعمال کیا جا سکے ۔نریندر مودی یا ان کے ذہین مشیروں کو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ نفرت کا یہ نیا باب جو وہ قائم کرنا چاہ رہے ہیں وہ اتنا دھندلا ہوگا کہ اسے کوئی پڑھ بھی نہیں پائے گا کیونکہ بالاخر ساری دنیا اس جنگ کو ٹیبل ٹاک کے ذریعہ ہی حل کروانے کی کوشش کریگی ۔
مودی اور ان کے حواری یہ بھی دیکھ رہے ہونگے کی مٹھی بھر حماس کے محصور قیفیوں نے دنیا بھر کے رول ماڈل سوپر پاور اور ایٹم سے لیس ملک کے گھر میں گھس کر نہ صرف ان کے ڈیڑھ ہزار فوجیوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا بلکہ ان کے سیکڑوں فوجی اور سول آفیسروں کو پکڑ کر غزہ بھی لے گئے ۔
اسرائیلی فوج مسلسل غزہ میں عام لوگوں کو قتل کر رہی ہے اور اسکولوں ، ہسپتالوں ،پناہ گزیں کمپوں اور ایمبولینس گاڑیوں تک کو نشانہ بنا رہی ہے۔بے شک اس طرح فلسطینیوں کا بڑا جانی نقصان ہو رہا ہے لیکن ایک ماہ گذر جانے کے بعد بھی ان اسرائیلی افواج کو ابھی تک اپنے محصور قیدیوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے جنہیں حماس کے لوگ اٹھا لے گئے تھے ۔اور اسرائیل کی یہ اتنی بڑی ناکامی ہے جس کا ازالہ مشکل ہے ۔اور اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ خود اسرائیلی شہریوں نے نیتن یاہو سے استعفی کی مانگ شروع کر دی ہے ۔وہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان محصور اسرائیلی شہریوں کو بازیافت کرایا جا سکے ۔ اس دوران بڑی تعداد میں فلسطینی حامیوں نے امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے گیٹ پر مظاہرہ کیاہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔مظاہرین نے امریکہ سے اسرائیل کو دی جانے والی امداد بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس دوران فلسطینی حامی مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کو سرخ رنگ دیا۔ واشنگٹن ڈی سی شہر کی سڑکوں پر طویل جام رہا۔ مظاہرین کی جانب سے ‘فلسطین دریا سے سمندر تک آزاد ہوگا’ کے نعرے لگائے گئے۔
فلسطینی پرچموں کے ساتھ سیاہ اور سفید لباس میں ملبوس مظاہرین میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ مظاہرین نے غزہ میں خونریزی کا علامتی اظہار کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے گیٹ پر سرخ رنگ کا چھڑکاؤ کیا۔ فلسطینی حامی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم یہودی ریاست نہیں چاہتے۔ ہم 1948والی صورتحال چاہتے ہیں ۔
انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد فوری بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے لافایت پارک میں جنرل مارکوئس ڈی لافایت کے مجسمے کو فلسطینی جھنڈوں سے ڈھانپ دیا۔ مظاہرین نے امریکی صدر بائیڈن پر نسل کشی کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔
ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اس علاقے میں 9,400 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں دو اسرائیلی حکام نے ‘ایکسیس’ ویب سائٹ کو بتایا کہ اسرائیل پر محصور غزہ کی پٹی میں امداد اور ایندھن کی اجازت دینے کے لیے اہم بین الاقوامی دباو کے بعد اسرائیل نے امریکا کو بین الاقوامی نگرانی کے تحت جنوبی غزہ میں ایندھن کی فراہمی کے منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔انسانی ہمدردی کی تنظیمیں ہفتوں سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی تو صرف ایک نمونہ ہے پوری دنیا میں اسرائیل مخالف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں ۔اور حماس کی جانی قربانیوں کا رنگ نظر آنے لگا ہے اور ایک بار پھر فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی داستان ساری دنیا میں دہرائی جانے لگی ہے ۔اور یہ سب کچھ اسرائیل مخالف ماحول کو گہرا کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے ۔
ReplyForward |












