• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 3, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

حج امور پر فیصلے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 13, 2022
0 0
A A
حج امور پر فیصلے
Share on FacebookShare on Twitter

کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ

(عامر سلیم خان)

حج 2023 کے انتظام وانصرام کیلئے کل نئی دہلی میں ہونےوالی میٹنگ کے صحیح احوال اس لئے عوام نہیں جان سکے کیونکہ حج میٹنگ ’ڈور کلوز‘ تھی۔ حج کانفرنس کی تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہوا ہے کہ میڈیا کو کانفرنس سے دور رکھا گیا۔ اس کی وجہ سے اخبارات میں مختلف الاحوال خبریں شائع ہوئی ہیں۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی ریاستی چیئرمینوں نے حج سستا ہونے کی خبر پھیلائی وہیں کچھ ایسی خبریں بھی باہر آرہی ہیں جو حاجیوں اور خصوصاً مسلمانوں کیلئے تشویش کا باعث ہوں گی۔ میٹنگ میں محض اس پر باتیں نہیں ہوئی ہیں کہ حج سستا کیا جائے گا بلکہ کچھ ایسے غیر اصولی اقدامات پر بھی غور کیا گیا ہے، جس میں حج کمیٹی کی روایات کو ختم کرنے کا منصوبہ بھی بتایاجارہا ہے۔ میٹنگ میں موجود کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ حج اور اقلیت کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی ایرانی کو حج امور اور حج کمیٹی آف انڈیا کے متعلق خاطر خواہ معلومات نہیں ہیں، اس لئے وہ کچھ ایسی باتیں کرتی دیکھی گئیں جو حج کمیٹی کیلئے مضرثابت ہوسکتی ہیں۔
حج کانفرنس سے متعلق ایک خبر یہ سامنے آئی ہے کہ حج سستا کیا جائے گا اورفضول خرچی پر روک لگائی جائے گی۔ وہ فضول خرچی یا غیر ضروری اصراف کیا ہیں، اس بارے میں کوئی واضح نشاندہی نہیں کی گئی ہے ، لیکن میٹنگ میں موجود اہلکاروں اور مندوبین کی سمجھ میںجو کچھ آیا ہے اس کا لب لباب بیگیج کاخرچ کم کرنا، عدم منظوری کی صورت میں حج فارم کی رقوم صاحب معاملہ کو واپس کرنا، مکہ مکرمہ اور مدینہ منور میں حاجیوں کو سفری معاملات خود طے کرنا جیسے کئی امور شامل ہیں۔ مگر حیران کن طو رپر حج کمیٹی کا خرچ کرنے کے نام پر کچھ ایسے فیصلے بھی کرنے کے اشارے دیئے گئے ہیں جو نہ صرف عازمین کیلئے نقصاند ہ ہوں گے بلکہ پورے مسلم طبقہ کیلئے مضرہوں گے۔ذرائع سے ملی خبر کے مطابق امبارکیشن پوائنٹس ازسرنو طے ہوں گے، جس میں مجموعی کے بجائے عازمین کو انفرادی طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔ حج کمیٹی کی سبسڈی ختم ہونے کے بعد جو مالیہ اس میں ہے اس کے بارے میں صاف طورپر بتایاجاتا ہے کہ وہ مسلم طبقے کا پیسہ ہے۔ اسی لئے ماضی میں یہ متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس رقم کو مسلم طبقہ کی سماجی اور تعلیمی نشوونما کیلئے خرچ کیا جائے۔
حج کمیٹی آف انڈیا کاایک بڑا کام سول سروسیز کی کوچنگ کرانا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو سول سروسیز کا وہ سینٹر ختم کیا جاسکتا ہے، حاجیوں کیلئے خادم الحجاج اور ڈاکٹروں نیز ادویہ کو بھیجنے پر روک لگائی جاسکتی ہے۔ یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو انتہائی احمقانہ ہوں گی کیونکہ یہ سارے فیصلے سابقہ سرکاروں نے عازمین کی سہولتوں کیلئے بہت سوچ سمجھ کر کئے تھے۔ اگر اصلاحات اور حج کمیٹی کا صرفہ کرنے کے نام پر کچھ ایسا کیاجاتا ہے کہ تو حج کمیٹی آف انڈیا کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ موصوفہ وزیر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حج امور اور خاص طو رپر حج کمیٹی کا کام خالص مذہبی ہے ، اس میں کوئی چیز سیاسی نہیں ہے۔ جب سرکار کا ماننا ہے کہ مذہب اور سیاست کی آمیزش نہیں ہونی چاہئے تو اس پر سرکار کو خود بھی عمل کرنا چاہئے۔ خدشہ اسی وقت نظر آنے لگا تھا جب میڈیا کو حج کانفرنس سے دور رکھا گیا اور میٹنگ ڈور کلوز کی گئی، جبکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیاباتیں ہیں جو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہےں؟۔
حج کمیٹی آف انڈیاتقریباً 100سالہ قدیم ادارہ ہے ۔ یہ ادارہ ایک دودھاری گائے سے کم بھی نہیں۔ یہ بات شاید اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے کہ ایئر انڈیا اپنا سالانہ مالی خسارہ چھ ساڑھے چھ کروڑ روپئے سے پورا کرتی رہی ہے اور وہ ساری رقوم عازمین کی جیب سے وصولی جاتی تھیں۔ عام دنوں میں عام مسافروں کیلئے جو کرایہ 20 ہزار ہوسکتا ہے وہ حاجیوں سے 40ہزار روپئے لیا جاتا ہے۔ یہ رقوم کچھ ادھر ادھر بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ حاجیوں سے ایئر کرایہ ڈبل وصول کیا جاتا ہے اور وہ اس لئے مجبور ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ہرحال میں مبارک سفرحج پر جانا ہوتا ہے۔ مبینہ طور پر حاجیوں کو 6-7 کروڑ کی سبسڈی اسی لئے دی جاتی تھی کہ ایئر انڈیا اس رقم سے اپنا سالانہ خسارہ پورا کرسکے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کا اثاثہ مسلم طبقے سے جڑا ہوا ہے اسی لئے سابقہ سرکاروں نے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابقہ آنجہانی اٹل بہاری باجپئی والی سرکار نے فیصلہ کیا تھا کہ ان رقوم کو سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی سطح پر کمزور مسلم طبقہ کی رفاہ پر خرچ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے حاجیوں کے انتظامات کے علاوہ سول سروسیز کی کوچنگ شروع کی۔ 2008 میں شروع اس کوچنگ سینٹر سے بڑی تعداد میں طلبہ مستفیض بھی ہوئے ہیں۔
حج کے سستا ہونے کا اعلان خوش آئند ہے لیکن وہ ایسے سمجھوتوں پر ہوکہ حج کمیٹی آف انڈیا کو تہس نہس کردیا جائے، یہ قطعی ٹھیک نہیں ہوگا۔ کسی ادارے میں اصلاحات کے نام پر غیر اصلاحی اقدامات ہرگز قابل قبول نہیں ہوں گے۔ حج اسلام کا اہم ترین رکن اور دینی فریضوں میں عظیم ترین فریضہ ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی ایک مختصر اور پر معنی عبارت میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کہ” اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں“۔ اسی آیہ شریفہ کے ذیل میںاللہ تعالی فرماتے ہیں” اور جنہوں نے کفر و سرکشی اختیار کی ، بے شک خداوند کریم تمام عالمین سے بے نیاز ہے“۔اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے،اللہ تعالی کی شہادیت دینا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پریقین کرنا،نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا،حج کرنا،اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔ مسلمان حج کو ایک عظیم فریضے کے طو رپر ادا کرتے ہیں، اس طرح یہ ایک خالص مذہبی فریضہ ہے جس میں کوئی سیاست نہیں، ایسے میں سرکار کو چاہئے کہ عازمین حج کی سہولتوں پر توجہ مرکوز کرے نہ کہ حج امور میں بلاوجہ کی تبدیلی کرے۔
اگرحکومت حج کو سستا کرنے پر واقعی سنجیدہ ہے تو ایسے اقدامات ہوںجو عازمین کو سہولت دیں۔ ان کے انتظامات کا صرفہ کم کیا جائے، حاجیوں کے ایئر فیئر پر نظرثانی کی جائے۔ عازمین حج کیلئے اڑانوں کاانتظام ایسا ہونا چاہئے جو آسانی سے ان کی رسائی میں ہو، مثلاً جمو ںوکشمیر والوں کو دہلی سے جانے پر مجبور کرنا اور بہار کے لوگوں کو کولکاتہ سے جانے کیلئے کہنا ہر حال میں عازمین کیلئے تکلیف دہ ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا ایک سرکاری ادارہ ہے او را س کا ایک وقار ہے اس لئے اس کا وقار مجروح نہیں ہونا چاہئے اور ا س کی وہ روایتیں جن سے حاجیوں کے مفادات وابستہ ہیں، ان پر سرکارکو توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔حج امور کے سربراہ کو پہلے حج کے بارے میں پوری معلومات ہونی چاہئے پھر کوئی فیصلہ صادر ہونا چاہئے ورنہ بے تکے اقدامات سے حج امور میں شفافیت تو نہیں آئے گی البتہ حاجیوں کیلئے برا ہوگا اور اگر عازمین کو پریشانی ہوگی تو اس لئے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ یہ معاملہ ملک اور بیرون ملک سے جڑا ہواہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist