چینئی ۔نئی دہلی :7نومبر /سماج نیوز سروس ۔اودیانیدھی اسٹالن نے سناتن دھرم کا ڈینگو اورملیریا سے تقابل کیاتھا جس کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ایک اور مرتبہ ایک بڑا تنازعہ کھڑا کرتے ہوئے تاملناڈو منسٹر اودیانیدھی اسٹالن نے اپنے موقف کو دوہرایا کہ وہ ہمیشہ سناتن دھرم کی مخالفت کریں گے۔چیف منسٹر ایم کے اسٹالن کے بیٹے یوتھ ویلفیر اور اسپورٹس منسٹر اودیا نیدھی اسٹالن سناتن دھرم پر تبصرے کے بعد مدراس پولیس کی عدم کاروائی پر مدراس ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد رپورٹرس سے بات کررہے تھے۔
عدالت نے کہاکہ "کسی فرد کوتفریق انگیزنظریات کوفروغ دینے یا کسی نظریے کو ختم کرنے کا حق نہیں ہے”۔اودیانیدھی اسٹالن نے سناتن دھرم کا ڈینگو او رملیریا سے تقابل کیاتھا جس کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
انہوں نے کہاکہ "کئی سالوں سے ہم سناتن کے متعلق بات کررہے ہیں۔ این ای ای ٹی کامسئلہ تازہ ہے۔
سناتھن دھرم کامسئلہ ہزاروں سالوں سے ہے۔
ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے کہاکہ ہم کوئی بھی بات غلط نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح طور پر کہاکہ "جو کچھ میں نے کہا ہے وہ درست ہے اور میں قانونی کاروائی کا سامنا کروں گا۔
میں اپنا بیان تبدیل نہیں کروں گا”۔اسٹالن نے صاف لفظوں میں کہا کہ سناتن کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کو ختم کردیا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ لفظ سناتن سنسکرت سے ماخوذ ہے’ جوسماجی انصاف اور مساوات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہاکہ "ہم کرونا’ ڈینگو’اور مچھروں کی مخالفت نہیں کرتے’ ہمیں انہیں ختم کرنا ہے اوراسی طرح سناتن کو بھی ختم کرنا ہے”۔












