جیسے جیسے عام انتخاب قریب آ رہا ہے بی جے پی کی بیچینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ یہ بات تو اپنی جگہ مسلم ہے کہ دس سال کی طویل جدوجہد کے بعد بھی برسر اقدار سرکار نے کانگریس کو اپنے راستے سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔آج بھی پورے ملک میں اسے کانگریس کا ہی سامنا ہے ۔اور اب یہ سوال خود بی جے پی کے اندر سے اٹھ رہی ہے کہ آخر کانگریس میں ایسی کیا خوبی ہے کہ اس کے خلاف جتنے بھی الزامات لگا دیجئے عوام سطح پر اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے ۔اور اب تو یہ تجصیہ بھی سامنے آ گیا ہے کہ چاہے سابق ٹوئٹر ہو یا فیس بک انسٹاگرام ہو یا واٹسایپ جہاں جہاں نریندر مودی ہیں وہاں وہاں راہل گاندھی ہیں اور اس پلیٹ فارم پر بھلے ہی مودی جی کے چاہنے والے کروڑوں میں ہوں لیکن راہل گاندھی کے ایسے مداحوں کی تعداد نریندر مودی سے زیادہ ہے جو ان کے ہر ٹوئیٹ پر اپنے تاثرات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور پھر ان جملوں کو ٹاک ٹو ٹاؤن بھی بناتے ہیں ۔
یعنی مودی جی کے پاس جو ان کے مداحوں کی طویل فہرست ہے اس میں زیادہ تر سرکاری مداح ہیں ۔اور ٹھیک وہی حالت ملک کا بھی ہے ۔مودی بھکتوں میں آپ کو زیادہ تر سرکاری افسر اور کلرک ہی ملینگے یا پھر بڑی تعداد میں اسکولوں کے اساتذہ ،جن کواس سرکار نے بطور خاص نفرت پھیلانے کی ذمہ داری دی ہوئی ہے ۔یہ جو آئے دن اسکولوں میں دلت اور مسلم بچوں کے ساتھ اساتذہ کے ذریعہ ہتک عزتی کی جاتی ہے اس کے تار اسی نفرتی پاور ہاؤس سے جڑے ہوئے ہیں جسے ہم آر ایس ایس کے نام سے جانتے ہیں ۔نریندر مودی کے ذریعہ انتخابی ریلی کے دوران یہ اعلان کہ جن غریب لوگوں کو پانچ کیلو اناج مفت دیا جاتا تھا اس کی مدت پانچ برس اور بڑھا دی جائیگی ایک ایسا ہزیمت خوردہ بیان ہے جس نے یہ صاف کر دیا ہے کہ مودی جی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ملک کا ماحول 2019والا بھی نہیں ہے جسے پلوامہ جیسے ایک سانحے سے کنٹرول کر لیا جائے گا ۔2024کے انتخاب میں راہل گاندھی اپنے پورے دم خم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں ۔اور گذشتہ ایک برس میں ان کی مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے تو خود کانگریس کے ساتھ کھڑی پارٹیاں بھی خوفزدہ ہیں ۔ظاہر ہے اس کو موفی جی بھی دیکھ رہے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انتخابی ریلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے پر بھی کچھ ایسا بول گئے جس کو ایک تجربہ ہی کہا جا سکتا ہے جو کامیاب بھی ہوتا ہے اور ناکام بھی ۔دراصل کانگریس کے موجودہ صدر دلت طبقہ سے آتے ہیں اور جب سے وہ کانگریس کے صدر بنے ہیں بی جے پی بری طرح کسمسا رہی ہے کیونکہ خود وزیر اعظمی یہ بات بارہا دہرا چکے ہیں کہ کانگریس کا کمان راہل فیملی کے باہر کے آدمی کو نہیں مل سکتا ۔حالانکہ مودی جی کے اس بیان کی حقیقت بھی دروغ پر مبنی ہے لیکن ایک بار پھر کانگریس نے ملکارجن کھڑگے کو صدر بنا کر مودی جی اور پوری بی جے پی لابی کو خاموش کر د یا ہے ۔اب بی جے پی کے ساتھ یہ مجبوری ہے کہ ایک دلت چہرہ کی وجہ سے جیسے ہی انہوں نے ان پر حملہ کیا ملک کا فلت جو سارے ملک میں موجود ہے ۔کیونکہ پورے ملک کے دلتوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر انڈیا الائنس کی سرکار بنتی ہے تب وزیرآعظم کے طور پر کھڑگے کا نام آنا طئے ہے ۔اور یہ خواب تو دلت آزادی ملنے کے بعد سے ہی دیکھ رہے ہیں ۔اور اب انہیں لگتا ہے کہ اگر انہوں نے اس عام انتخاب میں بلا شرط لانگریس کو ووٹ دے دیا تو پھر بابا صاحب سے لے کر اب تک کے تمام دلتوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔لیکن گذشہ روز نریندر مودی نے کانگریس کے صدر پر یہ حملہ کرتے ہوئے کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے چلائے جا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کوئی بڑی سیاسی غلطی کر بیٹھے ہیں ۔پانچ کیلو اناج کو پانچ برس تک مزید دینے کا اعلان اسی غلطی کا ازالہ ہے ۔کھڑگے پر حملہ کا کا نگریس نے بھی سخت نوٹس لیا ہے ۔
کانگریس نے کہا ہے کہ ملکارجن کھڑگے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا ریموٹ کنٹرول والا بیان نہ صرف مسٹر کھڑگے بلکہ اس طبقے کی بھی توہین ہے جس سے مسٹر کھڑگے تعلق رکھتے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے ایک بیان میں کہا کہ مسٹر مودی کا بیان سیاسی نہیں ہے بلکہ اس طبقہ کے لوگوں پر حملہ ہے جس سے مسٹر کھڑگے کا تعلق ہے۔ مسٹر مودی کا یہ بیان اس برادری کی توہین ہے جس سے مسٹر کھڑگے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا، "وزیر اعظم مودی نے وطن کے بیٹے، ہماری پارٹی کے رہنما مسٹر کھڑگے کی توہین کی ہے۔ یہ ہلکا پھلکا سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر براہ راست اور سخت حملہ ہے جو معاشرے کے مظلوم پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن عوامی زندگی میں کامیابی کا بڑا ہدف حاصل کر چکے ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا، "حقیقت میں، مسٹر مودی اپنی پارٹی کے سماجی انصاف کے جھوٹے دعووں کے برعکس اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں، یہ کانگریس ہی ہے جو جمہوری طریقے سے اتنے قدرآور لیڈر کو اعلیٰ عہدے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ "مسٹر کھڑگے کا چھ دہائیوں کا سیاسی سفر ہندوستان کی تاریخ میں بے مثال ہے اور لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا باعث ہے۔”
لیکن اس کے باوجود مودی جی کو تو کسی بھی بہانے سے کانگریس کے خلاف بولنا ہے ،اور کانگریس نہیں بلکہ نہرو خاندان کے خلاف بولنا ہے کیونکہ اس خاندان کی تیسری نسل نے بھی ان کے خلاف مورچہ لے رکھا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر بھارت کے سیکولر شبیہ کو داغدار ہونے نہیں دینا چاہتی ۔
شعیب رضا فاطمی












