نئی دہلی 13نومبر،سماج نیوز سروس:عدالت نے دہلی وقف بورڈ کے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ گرفتار تین ملزمان ذیشان حیدر، جاوید امام اور داؤد نصیر کو 14 دن کی جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں ملزمان’ آپ‘ ایم ایل اے امانت اللہ خان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف دہلی وقف بورڈ کی جائیداد کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے تھے۔دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے دہلی وقف بورڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں تینوں ملزمین کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 13 نومبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ عدالت نے ان ملزمان کو 14 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ اب تینوں ملزمان کو 13 نومبر کو راؤس ایونیو کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔آپ کو بتا دیں کہ ای ڈی نے اس معاملے میں تین ملزمین ذیشان حیدر، جاوید امام، داؤد نصیر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ ای ڈی نے تینوں ملزمین کی 14 دن کی تحویل کا مطالبہ کیا تھا۔ ملزمان کے وکیل نے تینوں افراد کی گرفتاری پر سوالات اٹھائے تھے۔ملزمین کی جیل کی تحویل کے بعد اب ای ڈی ان ملزمین سے پوچھ گچھ کرے گی۔ آپ کو بتا دیں کہ یہ تمام ملزم عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس معاملے میں آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ جانچ ایجنسی ای ڈی نے 10 اکتوبر کو دہلی میں پانچ مقامات پر تلاشی مہم چلائی تھی۔ ای ڈی حکام نے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے دہلی اینٹی کرپشن بیورو کی طرف سے درج دو ایف آئی آر کے تحت کارروائی کی تھی۔یہ ایف آئی آر دہلی وقف بورڈ میں ملازمتوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق تھی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ایم ایل اے امانت اللہ خان وقف بورڈ کے چیئرمین تھے اور وہ دہلی اوکھلا اسمبلی سے ایم ایل ایل بھی ہیں۔












