نوح میوات (محمد صابر قاسمی )
راجستھان اسمبلی انتخابات اپنے آخری پڑاؤ کی طرف بڑھ رہا ہے-۔راجستھان کی 200 اسمبلی سیٹوں پر 25 نومبر کو ووٹنگ ہونے جا رہی ہے۔اس بار کاماں اسمبلی حلقہ میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں بنیادی طور پر تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، اگر ہم کانگریس کے امیدوار زاہدہ خان یا بی جے پی کے امیدوار نوکشم چودھری یا آزاد امیدوار مختیار احمد کی بات کریں تو ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والوں کو آزاد امیدوار سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سلسلے میں جب راجستھان کی 200 سیٹوں میں سے سب سے زیادہ مسلم اکثریتی حلقہ کاماں کے دیہی علاقے پاپڑہ اندھواڑی قصبہ گوپال گڑھ پہاڑی و قرب و جوار کا دورہ کیا، اور حالات کا جائیزہ لیا تو دیکھا گیا کہ یہاں کے مقامی لوگ بے جے پی اور کانگریس کے امیدواروں سے اس لیے نالاں ہیں کہ، دونوں نیشنل پارٹیوں نے عوام کی منشاء اور مطالبہ کے خلاف امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، واضح رہے کہ بے جے پی نے ہریانہ کے نوح ضلع سے تعلق رکھنے والی باہری امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ کانگریس نے، موجودہ ایم ایل اے زاہدہ خان کو آخری لمحات میں ٹکٹ دیکر مقامی لوگوں کو سکتہ میں ڈال دیا ہے،چونکہ زاہدہ کی گذشتہ پانچ سالہ دور میں اقتدار اور وزارت میں رہتے ہوئے جہاں علاقے میں ترقیاتی کام نہ کرانے کے الزامات ہیں وہیں مونو مانیسر گینگ کے ذریعے مشہور ناصر جنید قتل معاملے میں انصاف کی حامی نہ ہونے کو لیکر عوام میں شدت کی مخالفت پائی جا رہی ہے، پاپڑہ اسمبلی کاماں کا بڑا گاؤں ہے۔جہاں درجنوں دہی علاقوں کے لوگ جمع ہو کر دونوں پارٹیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی،
بتاتے چلیں کہ کاماں اسمبلی حلقہ راجستھان اور ہریانہ کے نوح کی سرحد سے متصل ہے۔ پاپڑہ گاؤں میں سی آزاد امیدوار سی اے مختیار کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور پورے علاقے نے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ ، اس موقع پر سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ اور پُر جوش ہزاروں کا ہجوم نظر آیا، آپ کو بتاتے چلیں کہ اس بار مختار احمد کاماں اسمبلی میں مقابلہ میں مضبوطی بنائے ہوئے ہیں، مختار احمد پہلے کانگریس سے ٹکٹ کے خواہشمند تھے لیکن جب کانگریس نے انہیں ٹکٹ نہ دے کر میدان میں نہیں اتارا، تو اس بات کو لیکر علاقے کے قصبہ میں 8 تاریخ میں 36 برادری کی مہاپنچایت بلا کر علاقے کی بڑی پال ڈیمروت، پاہٹ،سنگاریا نوگیاں نے اپنا نمائندہ منتخب کیا اور اس کے علاوہ دس آزاد امیدوار ان کی حمایت میں بیٹھ گئے، اس طرح سے مختیار کو آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انھیں روز بروز عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ دیکھنے میں آ رہا ہے ان کا قافلہ جہاں بھی جاتا ہے خواتین، بزرگ اور بچوں میں مختیار احمد کے لیے جوش و خروش نظر آتا ہے۔
آج جیسے ہی مختار احمد کا قافلہ پاپڑہ گاؤں پہنچا تو وہاں بلڈوزر کے ذریعے پھولوں کی پتیوں کی برسات کی گئیں اور پاپڑہ گاؤں میں مختار احمد کی تقریر کو لوگوں نے قریب سے سنا، گھاٹمیکا ناصر جنید قتل واقعہ کے حوالے سے جب صحافیوں سے گفتگو کی تو انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر جارحانہ حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس کے لیے ضلع انتظامیہ اور سرکار کو جوابدہ بتایا اس دوران انہوں نے کہا کہ گھاٹمیکا گاؤں کا واقعہ حالات سے پیدا ہونے والا واقعہ تھا جس میں کچھ سماج دشمن عناصر نے اس واقعہ کو انجام دیا تھا۔انتظامیہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو مستقبل میں کیسے روکا جائے۔انتظامیہ کو اس کا جواب دینا ہوگا ۔مستقبل میں ایسے واقعات پر قدغن لگے ۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کان کنی میں رائلٹی کے نام پر کسی قسم کا کرپشن نہیں ہونا چاہیے۔ ایک پیسہ بھی نا جائز طور پر اہل علاقہ کا نہیں جائے گا۔آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر کوئی کاروباری تاجر ترقی کر رہا ہے تو اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ میری سوچ مختلف ہے، علاقے کے لوگ جتنا کاروبار میں ترقی کریں گے اور آگے بڑھیں گے، اتنی ہی خوشحال آئے گی۔ علاقہ اور علاقہ کے لوگ ترقی کریں گے ۔












